@Kasim_Khan_1999 The father said Absolutely not and sell American Ghulami na manzoor churan, while the son is sitting in the same America and Jews’ laps and fighting a struggle for the father’s freedom. Wow Chutiyalogi..
@majorgauravarya@OfficialDGISPR Mutar wasi qoum paida hi zaleel honay k liye hui hai tumharay iss mazboot difaah na hamesha tum logo ko zalel karwaya hai aur agay bhi inshaALLAH zaleel hi hotay rahoo gay tumhari agli 10 haram naslay bhi murdar hojai gi lekin pak ko shikasht dena k khawab kabhi pura nahi hoga.
@ThaterraAchak اس زبردست فیصلے پر کچھ نمک حرامیوں کا انسانی حقوق کا کیڑا جاگ رہا ہے اور افغاندوز کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ ان حرامیوں کو بھی افغانوں کے ساتھ افغانستان پھینکنا چاہیے۔ جب یہی افغانی پھٹتے جگہ پھٹ کر ہمارے شہریوں کو مارتے ہیں تب ان کا کتا منہ کیوں بند ہوتا ہے۔
@HRCP87 In 50 years, thousands upon thousands of Afghans took scholarships became doctors and engineers from here but they never said a single word in support of Pakistan and the Pakistani people. Terrorist incidents happen almost daily in Pakistan yet they never condemned them.
@AdityaRajKaul You terrorists and mischiefmakers of the region want tension in the region and continuous massacres and bloodshed in the world. Modis bastard breed only works to spread terrorism. Wherever there is talk of peace India is always on the opposing side.
@AdityaRajKaul Saudia is not a coward country like Lindia that fell at Papa Trump feet after a small attack saying Papa save us from Pak. You motherfuckers who take Papa Trump lap after beaten by a country seven times smaller than yourselves dont consider everyone as coward as yourselves.
پاکستان میں روزگار، اعلیٰ تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر چند بڑے شہروں میں مرکوز ہے۔
پی بی ایس لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری کی مجموعی شرح 7.1 فیصد ہے، جب کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 13.5 فیصد ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے مسئلہ اور بھی واضح ہے۔ ایچ ای سی کی سابقہ ضلع وار میپنگ میں 67 ایسے اضلاع تھے جہاں کوئی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس نہیں تھا، ان میں بلوچستان کے 27 اضلاع بھی شامل تھے۔ بعد میں، کئی نئے کیمپس قائم کیے گئے، لیکن اعلیٰ تعلیم کی جغرافیائی تقسیم اب بھی بڑے شہری مراکز کے حق میں ہے۔
صحت کے شعبے میں، بڑے تدریسی اور خصوصی سرکاری ہسپتال بھی بنیادی طور پر بڑے شہری مراکز میں واقع ہیں۔ اس کے نتیجے میں دور دراز کے اضلاع کے شہری اعلیٰ تعلیم، خصوصی علاج اور ملازمت کے لیے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان جیسے بڑے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔
یہ صورت حال اندرونی اقتصادی نقل مکانی کو بڑھاتی ہے۔ لوگ تعلیم، علاج اور روزگار کے لیے اپنے آبائی علاقوں سے دور چلے جاتے ہیں جس سے بڑے شہروں کی آبادی، رہائش، ٹریفک اور شہری انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھتا ہے۔
اس تناظر میں، نئے صوبوں یا مضبوط علاقائی انتظامی اکائیوں کی بحث کو سیاسی نمائندگی تک محدود رہنے کی بجائے اقتصادی وکندریقرت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر اس کے ساتھ نئے انتظامی مراکز قائم کیے جائیں:
• یونیورسٹیاں اور اعلیٰ تعلیمی ادارے
• بڑے سرکاری اور تدریسی ہسپتال
صنعتی اسٹیٹس اور خصوصی اقتصادی زونز
• آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پارکس
• سرمایہ کاری کے مراکز
• سرکاری ایجنسیوں کا علاقائی ہیڈکوارٹر
• بینکنگ اور کارپوریٹ خدمات
اقتصادی سرگرمیوں کو چند بڑے شہروں سے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی دارالحکومتیں یا بڑے علاقائی مراکز عام طور پر سرکاری اداروں، کاروباری خدمات، بینکنگ، مشاورت، ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ سرگرمیوں کے لیے قدرتی مرکز بن جاتے ہیں۔ لہذا، انتظامی مراکز کی تعداد اور جغرافیائی تقسیم میں تبدیلیاں اگر سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی پالیسیوں کے ساتھ مل کر روزگار کے نئے مراکز بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔
اس کا براہ راست مقصد ہونا چاہئے:
نوجوانوں کو نوکری کے لیے لاہور یا کراچی نہ جانا پڑے، طالب علم کو یونیورسٹی کے لیے اپنا ضلع نہ چھوڑنا پڑے اور مریض کو علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر نہ کرنا پڑے۔
اس کے نتیجے میں، بڑے شہروں میں آبادی کے مسلسل بہاؤ کو کم کرنا، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے دباؤ کو کم کرنا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔
اس لیے نئے صوبوں کا ماڈل صرف نئے سیکریٹریٹ، اسمبلیوں اور سیاسی عہدوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
اس کے قابل پیمائش معیار ہونا چاہئے:
ایک یونیورسٹی، ایک بڑا سرکاری ہسپتال، ایک صنعتی اور تجارتی مرکز، ایک سرمایہ کاری کا نظام، آئی ٹی کا بنیادی ڈھانچہ اور ہر نئے انتظامی علاقے میں روزگار کے مقامی مواقع۔
اصل مقصد چند شہروں میں اختیارات مرتکز کرنے کے بجائے تعلیم، صحت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا ہونا چاہیے۔
#trans
@PTIofficial 3 سال سے نیازی جیل میں پڑا ہوا ہے جو 3 سال میں کچھ نہیں پٹ سکے وہ آگے بھی اسی طرح باتیں ہی چودتے رہیں گے۔ جس طرح ناچن آلے آزادی دی جنگ نہیں لڑ سکدے اسی طرح خان وی جیلوں باہر نہیں آ سکدا..
@PTIofficial@Kasim_Khan_1999@abcnews Sometimes they say meetings are not happening he has become blind they are trying to kill him. In reality every facility including permission for meetings. The chaotic party is creating the impression that the state is doing a lot of oppression while no oppression is happening.
@PTIofficial@salmanAraja 3 سال سے نیازی جیل میں پڑا ہوا ہے جو 3 سال میں کچھ نہیں پٹ سکے وہ آگے بھی اسی طرح باتیں ہی چودتے رہیں گے۔ جس طرح ناچن آلے آزادی دی جنگ نہیں لڑ سکدے اسی طرح خان وی جیلوں باہر نہیں آ سکدا..
@SHaiderRMehdi اوہ بوسڑی تو ہے کون؟ تجھے تو کوئی جانتا تک نہیں ہے۔ تو مادرچود ملک سے بھاگا ہوا بھگوڑا نمک حرام نسل تیری دو ٹکے کی اوقات نہیں ہے اور سوال پوچھ رہا ہے۔ اتنی بڑی بکواس کی بتی بنا کر پیچھے لے لو اور جواب میرے آگے لگا ہے لے لو۔ تو اس قابل نہیں کہ تیری بکواس کو کوئی اہمیت دی جائے۔
@SHaiderRMehdi اس وقت کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی جس نے ہمیشہ ٹی ٹی پی اے پی ایس پشاور کے حملہ آوروں کو تحفظ دیا انہیں پاکستان میں لاکر بسایا جو بھی دہشت گردی ہو رہی ہے کے پی کے حکومت کی سہولت کاری سے ہو رہی ہے۔اس حساب سے سب سے پہلے کے پی گورنمنٹ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔