**قائدتحریک الطاف حسین بھائی **
کا ٹک ٹاک پر حقائق پر مبنی تبصرہ ۔آزاد امیدواروں کی گرفتاری اور ملک کی بگڑتی ہوئ صورتحال پر تبادلہ خیال۔
جب بھی کہا ہمیشہ سچ کہا ہے۔
جئے الطاف صدا جئے۔
بروز پیر 8 جنوری 2024 .
#ReleseNisarAndMohsinPanhwar@AltafHussain_90@MQMofficial
Elections are coming, lift the illegal and unconstitutional ban on my speech, allow the MQM head office Nine Zero to open.
I appeal to the Chief Justice Qazi Faiz Isa and other Judges of Supreme Court.
Watch my complete Video on TikTok link 👇
https://t.co/e0FvvPLgvc
یکم جولائی 2023ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم جناب جنرل عاصم منیر صاحب!
چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان!
السلام علیکم وآداب عرض
عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول کریں۔ اب میں آپ کی خدمت میں چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
1۔ میں عیدکے دن سے لیکر آج مورخہ یکم جولائی2023ء کے دن تک پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے شہداء کے اہل خانہ کے بیانات دیکھ رہا ہوں ، شہداء کے لواحقین کے جذبات واحساسات غورسے دیکھ رہا ہوں۔ میں خود شہداء کے لواحقین میں شامل ہوں اور اپنی تحریک کے ہزاروں کارکنان کی شہادت کاصدمہ سہہ چکا ہوں لہٰذا میں ان شہیدوں کے لواحقین کے دکھ ، درد اورجذبات واحساسات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ اسی لئے یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور تحفظ کیلئے شہداء نے جوقربانیاں دی ہیں اس پر ان کے لواحقین کے بیانات میں اپنے پیاروں کی شہادت پر جس طرح فخر کااظہارکیا جارہاہے اور ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کا جو دکھ وکرب بیان کیاجارہا ہے اس پر مجھ سمیت پوری قوم کوشہداء کی شہادت پر فخرہے اور ان کے اہل خانہ کے اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے کے دکھ پر صدمہ بھی ہے۔
2۔ اب میں ان ماں باپ، بچوں ،بچیوں اورسہاگنوں کے دکھ وکرب کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے پیاروں کوفوج، ISI اور ملک کے دیگر سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں نےان کے گھروالوں کےسامنے گرفتارکرلیاتھااورپھر انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ بہت سے لاپتہ کیے جانےوالےافراد کو لاپتہ کئے 15سے 20 سال سے زائدکا عرصہ بیت چکاہے،ان لاپتہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں 14 سال پہلے لاپتہ کیاگیاہے۔ شروع شروع کے دنوں اور آنے والی ہرعید کے موقع پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیارےمعصوم بچوں کویہ کہہ کہہ کرتسلیاں دے دیتے تھے کہ '' تمہارے ابو بیرون ملک گئے ہوئے ہیں اور وہ چھٹی نہ ملنےکےسبب اس عید پر گھرنہیں آسکے''۔
اسی طرح کے دلاسے دیتے دیتے آج ان کےمعصوم بچے باشعور، تعلیم یافتہ اورجوان ہوچکے ہیں ،ان کی مائیں اپنے بچوں کوجوکہ اب جوان ہوچکےہیں کیاجواب دیں؟ مزید کیاتسلیاں دیں ؟
ان لاپتہ افراد کےاہل خانہ کیلئےتو ہرآنےوالی نئی عید ،ان کے دکھی اورزخمی دلوں کواورزیادہ دکھی اوران کےزخموں کومزید تازہ کرنے کاسبب بنتی ہے ۔
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل عاصم منیرصاحب!
کوئی ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ بالخصوص معصوم بچوں کے دکھ اور کرب کی حالت کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ تو ضروردیکھ رہا ہے ۔ ملک کے ہرچھوٹے بڑے سیاستدان نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں کرکے وعدے وعید کئے حتیٰ کہ قسمیں تک کھائیں کہ ہم اپوزیشن میں رہ کر ان کی بخیریت گھرواپسی کیلئے بھرپورانداز میں آواز احتجاج بلند کرتےرہیں گے لیکن ا ن سیاستدانوں نےاپنے وعدے ذرہ برابربھی پورے نہ کیے ۔ اسی طرح ان سیاستدانوں نے لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے قسمیں کھاکھاکر یہ وعدے بھی کیے کہ اگرہم اقتدار میں آگئے تولاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرانا ہماری دیگر ترجیحات میں اولین ترجیح ہوگا مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کےوعدے وعید اورقسمیں ہمیشہ کی طرح اقتدار کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئیں اورانہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی اولین ترجیح کےاپنے وعدے کوسردخانےمیں ڈال دیا۔
محترم جنرل عاصم منیر صاحب!
میری آپ سےمؤدبانہ درخواست ہےاورآپ کواپنےحافظ قرآن ہونے کاواسطہ بھی ہےکہ ان تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کرانےکیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں ،اگر ان لاپتہ افراد پر کوئی الزام یا الزامات ہیں تو انہیں فوری طورپر عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کریں اور اگر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے جوافراد چل بسے یامارے جاچکے ہیں تو کم ازکم ان کے پریشان حال اہل خانہ کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے احکامات جاری کریں یاپھر الیکٹرانک میڈیاپر لاپتہ کیےجانےوالےافراد کے اہل خانہ کو لاکر انہیں بھی اپنی دکھ بھری داستانیں سنانے کاموقع فراہم کریں ۔اس طرح کم ازکم وہ اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں سنا کرہی اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکااور اپنے اپنے غموں کا کچھ تو مداوا کرسکیں گے ۔
شکریہ
والسلام
احقر
الطاف حسین (لندن) یکم جولائی 2023ء
شکیل احمد اپنی متاثرکن اداکاری کےذریعےنوجوانوں میں علم اور تہذیب وتمدن کی روشنی بکھیرنے والے اداکار تھے۔
شکیل احمد کے انتقال سےملک ایک بڑے اداکار سے ہی نہیں بلکہ فن کی روشنی کے مینارسے محروم ہوگیا ہے
#Shakeel
عیدالاضحی کاپیغام
میں تمام پاکستانی عوام کو دل کی گہرائیوں سے عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عیدالاضحی کامبارک دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرنے کادرس دیتا ہے ۔ عیدالاضحی پرمالی استطاعت رکھنے والے بیشتر افراد سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہم اس سنت ِ ابراہیمی کے اصل مقصد کونہیں سمجھتے ۔ ہم بس اتناسمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے پیغمبر تھے، جانوروں کی قربانی ان کی سنت پوری کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہم جانور کی قربانی کرکے اپنا فرض توضرور ادا کردیتے ہیں مگر ہم قربانی کے اصل مقصد کوسمجھے بغیر ہی سنت پوری کردیتے ہیں۔ سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی دینے کااصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں، اس کے بتائے ہوئے پیغام پر عمل کرنےکے لئے تمہاری راہ میں جو جو بڑی بڑی مشکلات ، کٹھن حالات اوررکاوٹیں کیوں نہ آئیں، اس مقصد کے حصول کے لئے تمہیں اپنی بڑی سے بڑی قیمتی چیز یااپنے بڑے سے بڑے قریبی عزیز یااپنی ہی جان کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ،تم اس قربانی دینے میں زرا سا بھی خوف محسوس نہ کرنا اوراللہ کے مظلوم و محکوم بندوں، غریبوں، ضرورت مندوں، محتاجوں کی مدد اور فلاح وبہبود کےلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرنا۔ اگر تمہیں غریب ومظلوم اور محکوم
بندوں کی بقا اور آزادی کےلئے بڑے سے بڑے ظالم وسفاک اور طاقتوربادشاہوں یاحکمرانوں کے خلاف عملی جدوجہد بھی کرنا پڑے تو تم اس راہ میں اپنی اور اپنے خاندان والوں تک کی قربانی دینے سے گریز نہ کرنا۔قربانی میں اگر وقت کی، مال کی ،نفس کی ، خواہشات وتمناؤں کی قربانی سمیت ہرقسم کی قربانی دینے کی ضرورت پیش آئے تواس کے لئے تمہیں نہ صرف تیار رہنا چاہیے بلکہ قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرناچاہیے۔
میرے تحریکی ساتھیو!
آج عیدالاضحی کے اس مبارک موقع پرہم اگراپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اوراپنے اپنے ظرف وضمیر کی آواز کوسچائی کے ساتھ سننے کی کوشش کریں کہ ہم جس تحریک سے وابستہ ہیں اس میں 25 ہزار سے زیادہ ہمارے تحریکی ساتھیوں کی جان کی قربانیاں، لاپتہ کئےجانے والے اور اسیروں اوران کے اہل خانہ کی قربانیاں شامل ہیں۔ ہم اپنے آپ سے سوال کریں کہ ہم تحریک کے ان شہیدوں کے لواحقین کی کتنی خبرگیری کرتے ہیں، ان کی کتنی مدد کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کاجائزہ لیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ہم نے اپنااپنا کتنا فرض پورا کیا ہے ۔ لہٰذا آج ہمیں یہ عہد کرناچاہیے کہ ہم تحریک کی خاطرقربانیاں دینے والے ساتھیوں اوران کی قربانیوں کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے اوران کے اہل خانہ کی ہرطرح سے دیکھ بھال کریں گے۔ ہم عیدالاضحی کے تینوں دن خود بھی اوردوسروں سے بھی درخواست کریں گے کہ قربانی کے جانوروں کی کھالوں کوفروخت کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم کو تحریک کے لئے قربانیاں دینے والے شہیدوں کے لواحقین، لاپتہ اوراسیر ساتھیوں کے اہل خانہ کی مدد کیلئے عید کے تینوں دن کام کریں گے اورزیادہ سے زیادہ قربانی کی کھالیں جمع کرکے اس سے حاصل ہونے والی رقم کواوپربتائے ہوئے طریقہ پرعمل کرتے ہوئے خدمت خلق کے فرائض ادا کرنے میں کوئی کثرنہ اٹھارکھیں گے۔
اس دعاکے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کوقبول کرتے ہوئے ہماری تحریک کوکامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین ، ثمہ آمین۔
ایم کیوایم اوورسیز کے ساتھیو ! سلام وآداب
آپ سب کوبھی عیدالاضحی کی دلی مبارکباد قبول ہو۔ اورآپ کے اہل خانہ اوردوست احباب کوبھی بہت بہت دلی عیدمبارک۔
عیدکاپیغام آپ سب ساتھیوں کےلئے بھی وہی ہے جو میں نے پاکستان کے عوام اوروہاں کے ساتھیوں کے لئے لکھاہے۔
والسلام
آپ کااپنا
الطاف حسین
27جون 2023ء
#EidMubarak
#عيد_الاضحى
#عيد_اضحى_مبارك
رکن رابطہ کمیٹی رکن الدین تاج بھائی شہید کے سوئم کے موقع پر نارتھ ناظم آباد سیکٹر سے قائد تحریک @AltafHussain_90 کی وفاپرست مائیں،بہنیں اور بچےشہید کے ایصال ثواب کےلیے ازکار و فاتح خوانی کررہے ہیں
شہید کی جو موت ہے
وہ قوم کی حیات ہے
ایم کیوایم کے انتہائی سینئر رکن ،”وی آر الطافسٹ “ کے میزبان اور رابطہ کمیٹی کے ممبر رکن الدین تاج مرے نہیں بلکہ شہید ہوئے ہیں۔
سوئیڈن میں بلوچ اخبار کے ایڈیٹر ساجد بلوچ شہید، کینیڈا میں معروف ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ محترمہ کریمہ بلوچ شہید اور کینیا میں معروف اینکر پرسن ارشدشریف شہید کے بعد اب امریکہ میں رکن الدین تاج بھی بیرون ملک رہنے والے شہیدوں کی فہرست میں شامل ہوگئے اور شہید کبھی مرا نہیں کرتے بلکہ وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ رکن الدین تاج شہید سمیت تمام شہدا کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین ، ثمہ آمین
اب تو فراقِ صبح میں بجھنے لگی حیات
بارِ الہٰ کتنے پہر رہ گئی ہے رات
ہر تیرگی میں تو نے اتاری ہے روشنی
اب خود اتر کے آ ، کہ سیاہ تر ہے کائنات
#RukunUddinTajRIP
''ریاست کا محور پاکستان کے عوام ہیں''
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے چند سوالات
پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے آج پاکستانی ملٹری اکیڈمی کاکول میں 147 ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ '' ریاست کا محور پاکستان کے عوام ہیں ''
جنرل عاصم منیر سے میرے چند سوالات درج ذیل ہیں ۔
کیا آرمی چیف ، مہاجروں ، بلوچوں، سندھیوں، پختونوں، ہزاروال ، گلگتیوں ، بلتستانیوں اور سرائیکی عوام کوریاست کےعوام میں شامل سمجھتے ہیں؟
اگر سمجھتے ہیں تو پھر وہ بتائیں کہ تین دہائیوں سے ان مظلوم قوموں کے جن ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا ان کے کسی ایک بھی قاتل کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیاگیا؟
ان مظلوم قوموں کے ہزاروں افراد کو انکے گھروں سے گرفتارکرکے جبری لاپتہ کیوں کیاگیا؟
ان مظلوم قوموں کے بار بار پرامن احتجاج، دھرنوں اور بھوک ہڑتالوں کے باوجود ریاست اور ریاستی ادارے ان لاپتہ افراد کو غیرآئینی، غیرقانونی اور غیرانسانی حراست سے تاحال بازیا ب کیوں نہ کراسکے ؟جن کے پیارے اپنے لاپتہ کئے جانے والے افراد کی اپنے گھروں کو باحفاظت واپسی کا انتظار کرتے کرتے یاتو اس دنیا سے رخصت ہوگئے یا اپنے پیاروں کاانتظار کرتے کرتے ان کی آنکھوںکی بینائی جاچکی ہے ۔ ان کے بال بچے یا تو جوان ہوچکے ہیں یا بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں ۔
اسی طرح ان مظلوم قوموں کے ہزاروں افراد پر جھوٹے مقدمات بناکر تین دہائیوں سے جیلوں میں مقید کیوں کیاگیا ہے ؟
ریاست اور ریاستی اداروںکی جانب سے ان مقید افراد پر قائم کردہ جھوٹے مقدمات کوعدالتوں میں چلاکر اوران مقدمات کا فیصلہ کرکے انہیں انصاف فراہم کیوں نہیں کیاگیا؟
ان مظلوم قوموں کے خلاف متعدد فوجی آپریشن کیوں کیے گئے ؟ اوران کے خلاف فوجی آپریشن کا سلسلہ آج تک کن بنیادوں پر جاری ہے؟
گزشتہ چند برسوں سے ریاست اور ریاستی اداروں نے سیاسی بنیادوں پر چھاپوں اورگرفتاریوں کا جو سلسلہ صوبہ پنجاب میں شروع کررکھا ہے ہم ریاست اور ریاستی اداروں کے اس عمل کے بھی شدید مخالف ہیںاور اسے بھی ریاستی مظالم میں شمارکرتے ہیں ۔
کیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر آئندہ اپنے کسی خطاب میں میرے اٹھائے گئے ان سوالات کا جواب دینا پسند فرمائیں گے؟
تاکہ ان مظلوم خاندانوں کے کرب واذیت اور تکالیف کا کچھ تو مداوا ہوسکے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ایم کیو ایم لیبر ڈویژن کے وفا پرست سابق انچارج اسد کاظمی بھائی ریاست کی ظلم زیادتیوں کے باوجود آخری دم تک قائد تحریک @AltafHussain_90 بھائی کے وافادر رہے اللّٰہ تبعارک و تعالی ان کی مغفرت فرماۓ اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ
اور تمام لواحقین کو صبر اے جمیل عطا فرماۓ -آمین ثمہ آمین @OfficialMqm
The spokesperson of Pakistan army, the ISPR claims that the armed forces of the country are guarding the borders of the country round the clock. The highest command of the Pakistan army and other top brass have equally trumpeted the same drum along with the ISPR
The @OfficialDGISPR has to state how come smuggling of wheat, flour, diesel, petroleum products, tell the nation by watching the video below, how sugar, fertilizer, medicines, dollars and contraband goods are smuggled to Iran and Afghanistan and vice versa. The smuggling amounts to trillions of dollars.
As well, tell us the people of #Pakistan as where the heavy contingents and platoons of the Pakistan army and their officers in command with a duty of preventing unlawful activities across the borders disappear and thus the massive scale smuggling goes round the clock.
- Dialogue between the people of Pakistan and the federal government -
People: The federal government should tell the people who is the authority that appoints the Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan?
Federal Government: Stop asking such a silly question. In fact, Pakistan Military establishment is the sole authority to appoint him, not the government. The federal government only sends the recommendations. Then, the military bosses choose and pick one to be the Chief Justice of Pakistan. The federal government owns the appointment and that's the job of the federal government.
People: Okay! Then, let's know when the general elections would be held in Pakistan as there is a big confusion whether the general elections would be held or not.
Federal Government: It does not come under the federal government's domain either. The federal government is impotent. It has no powers to decide when the elections would be held. O yes! It is a prerogative of the Pakistan military, too, to allow the conduction of the general elections in Pakistan or keep the country going without the general elections. Whenever, the true bosses, the top brass would ask, the federal government is bound to follow the orders and thus, the general elections would be held.
People: There has been a tug of war between the federal government and the apex judiciary over the general elections. Why doesn't the cabinet of the federal government talk to the Chief Justice of Pakistan directly so that the orders of the Chief Justices of Pakistan on holding the general elections should be implemented in letter and spirit and the country gets the general elections, smoothly?
Federal Government: The Chief Justice of Pakistan does not listen to the Federal Government. Only the top brass of the military has the "Mandate" to hold negotiations and finalise a day and date for holding the general elections in Pakistan.
People: So what comes under the domain of the ederal government?
Federal Government: as a matter of fact, the federal government has to obey the orders of the bosses in the military. Secondly, the federal government's cabinet has drastic schedule of domestic and foreign trips and tours with families and friends. Thus, besides these trips in the disguise of the country's internal and external affairs, the cabinet members find an opportunity of unlimited enjoyment along with awesome shopping experience at the expence of the national exchequer.
People: OMG! What the hell is this ???
I got stunned when I learned that the dashing Justice Qazi Faiz Issa attended a seminar at a private university in Islamabad, organised at the aegis of the ISI.
Justice Issa, you had eloquently spoken for a couple of hours.
On this, I would like to draw your attention to a bitter fact that if the ISI didn't organise the event then how it was possible that your talk with the host went uninterrupted on screens of every TV in Pakistan.
You're hyperconscious of the fact that without the permission and orders of the ISI, no news channel in the country may dare to show your talk uninterrupted for hours.
Justice Issa!
I respect you from the core of my heart and I mean it.
You are known for bold actions and fine judgements in your judicial career as a judge.
You expressed yourself openly and gave a detailed note on importance and potential of the constitution of Pakistan and fundamental rights.
As I always take you very seriously, I would love to lay before you something bitter than the tragedy that on September 7, 2015, the Lahore High Court imposed a totally unconstitutional and illegal embargo on the broadcast of my writing, speech and photo on the print and electronic media of the country.
The higher court fixed the embargo for 6 months but it is still in full swing despite the passage of 7 years.
You have earned a reputation of a man of principle and daring judge of Pakistan's apex court. Henceforth, I request you to speak with the Chief Justice of Pakistan for a judicial commission on the embargo so that the same should be addressed lawfully.
Justice Issa!
Conversely I would also request you to distance yourself from the shadow of the military establishment as it would tarnish your image.
#QaziFaezIssa
وفاقی حکومت اور پولیس کا دعویٰ ہےکہ ہم نے پنجاب کےکچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے مکمل خالی کرالیا ہے۔
میں حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ کچے کا علاقہ صرف خالی کرایا ہے یا ڈاکؤں کا صفایا بھی کیا ہے؟
حکومت یہ بھی بتائے کہ وہ ڈاکو کہاں ہیں؟ انہیں زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا ہے؟
The federal government and the Police claim that they have completely cleared the raw marshy area of south Punjab from gangs of criminals, kidnappers and robbers.
Let me ask if the federal government and the Police just cleared the dens of criminals and robbers or has also eliminated the outlaws?
The federal government should also explain where those outlaws have suddenly disappeared from the dens in marshy lands in south Punjab? Have they gone underground or flown to space?