کاش آزاد قبیلے کے سخن ور ہوتے۔۔
ہم محاذوں پہ نہ بِکتے تو سکندر ہوتے۔۔
خود فریبی کے خوابوں میں رہے ہم ورنہ،
اپنی اوقات میں رہتے تو قلندر ہوتے۔۔
موجِ کوثر کی قسم ہم تھے محبت کے ولی،
خاک کے در پہ نہ جھکتے تو سمندر ہوتے۔۔
کسی کی یاد ناگن بن کے ڈَس جائے تو کیا کیجے
کوئی تعویز، دھاگا بھی نہ کام آئے تو کیا کیجے
میں جس کو بھولنے کی کوششوں میں بُجھنے والا ہوں
وہی اک شخص ہی رہ رہ کے یاد آئے تو کیا کیجے
زین شکیل
چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں
خود پابند رہتے ہیں اُسے آزاد رکھتے ہیں
ہمارے خون میں رب نے یہی تاثیر رکھی ہے
برائی بھول جاتے ہیں اچھائی یاد رکھتے ہیں
محبت میں کہیں ہم سے گستاخی نہ ہوجائے،
ہم اپنا ہر قدم اُسکے قدم کے بعد رکھتے ہیں
محسن نقوی