AFTER 26 DAYS OF HUNGER DO I NEED TO PROVE MY SINCERITY !!!
Do please watch and help spread the word. Find the full 22 minutes video on my YouTube Channel: Sonam Wangchuk
🚨جب بھی عمران خان کی رہائی کے لئے کسی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو دو چیزیں فورا شروع ہوجاتی ہیں:
1۔ تحریک انصاف میں کمپنی کا گروہ اپنا سائیڈ شو شروع کر دیتا ہے جس کس مقصد صرف مومنٹم کو توڑنا اور لوگوں کو کنفیوز کرنا ہوتا ہے۔
2۔ عمران خان سے کمپنی کے لوگوں کی ملاقاتیں کی جھوٹی کہانیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ کام اکثر ان صحافیوں سے لیا جاتا ہے جو تحریک انصاف کے قریب ہیں۔ اس کا مقصد بھی تحریک کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔
🛑عمران خان سے نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں نہ کوئی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور نہ سہیل آفریدی جیسوں کے سائیڈ شو (جشن کہہ لیں) کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔
بریکنگ نیوز 🚨
جن کے پاس عمران خان کا آفیشل اکاؤنٹ @ImranKhanPTI ہے ہم نے ان سے ریکویسٹ کی تھی کہ خان صاحب کے ٹویٹس کو دوبارہ پوسٹ کریں لیکن وہ ہماری بات نہیں مان رہے ہیں۔
ہم آپ سے ریکویسٹ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے سارے ٹویٹس دوبارہ شئر کریں
پاکستانیوں وہاں ایک پیپر لیک ہونے پہ G-Z نے آسمان سر پہ اٹھا لیا ہے۔اور یہاں ہم ہزراروں کی تعداد میں ایک فٹبال میچ دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے جائیں گے لیکن تب باہر نہیں جائیں گے جب پٹرول مہنگا ہو رہا ہو گا،جب اکانومی کولیپس ہورہی ہو گی،تب نہیں جائیں گے جب جہاز خریدا جا رہا ہو گا اور خرید کے کہا جائے گا ہاں تو خریدا ہے جہاز ۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
🚨میں قرآن پر حلف دے کر بات کررہا ہوں کہ اڈیالہ میں میری عمران خان سے آخری ملاقات ہوئی تو عمران خان نے کہا کہ " اقبال پارٹی میری بات نہیں مان رہی "
اقبال آفریدی کا انکشاف
بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل نے پی ٹی آئی کی صفوں میں چھپے غداروں کو کھل کر بے نقاب کردیا 🔥🔥
26 نومبر کو سیکورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہونے والے کارکنوں کے خون کا سودا کرنے والوں کا نام بتادیا. لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 26 نومبر کے شہدا اور زخمیوں کے خون کو دھو کر صاف کر دیا ہے۔ 18 سماعتیں ہوئیں ہر سماعت پر لطیف کھوسہ نے بہانہ بنایا اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اب کیس کی سماعت تھی تو بتایا گیا کہ لطیف کھوسہ چھٹیاں منانے یورپ گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ پارٹی کو یہ لوگ ہائی جیک کرچکے ہیں۔ عمران خان کی بھی زندگی کا سودا یہ لوگ بہت پہلے سے کرچکے ہیں۔ یہ کبھی عمران خان کو باہر نہیں آنے دیں گے۔
🚨 عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلانے والوں سے اپیل کی تھی کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے تمام ٹویٹ دوبارہ پوسٹ کیے جائیں لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اب قوم سے کہوں گی کہ عمران خان کی تمام ٹویٹ دوبارہ شئیر کریں ۔
ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی میڈیا سے گفتگو
"عمران خان صاحب کو پتہ تھا کہ ان کو قید تنہائی میں ڈال دیا جائے گا اس لیے انہوں نے تفصیلی پیغامات دئیے وہ ہمیں اچھی طرح سمجھا کے بھیجتے تھے۔ پی ٹی آئی کے لیے تمام پیغامات تفصیل میں آچکے ہیں، جو خفیہ پیغامات تھے وہ بھی اور جو پبلک کرنے تھے وہ بھی، سارے پیغامات ہم پہنچا چکے ہیں۔ اب یہ پی ٹی آئی پرمنحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اندر جا کے ہدایات لے کر کچھ کرے گا تو اب اندر جانے کی ضرورت نہیں سارے تفصیلی پیغامات آچکے ہیں اور وہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر موجود ہیں"۔ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی عدالت پیشی کے موقع پر گفتگو
اس ملک کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ملک کے عوام نے تباہی اور بربادی کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے۔ نہیں شریف انسانو نہیں ! یہ نصیب نہیں ہے ، تمہاری مجرمانہ خاموشی کا جرمانہ ہے۔