نہ جسم تیڈا نہ جان تیڈی اے ترکہ رب رحمان دا ہے
اوندے حکم بغیر توں بے وس ھئیں اے فیصلہ پڑھ قرآن دا ہے
میڈے جسم تے میڈی مرضی ہے اے وہم گمان انسان دا ہے
تیڈی روح ہے شاکر مالک دی تیڈا ڈھانچہ قبرستان دا ہے
#میرا_جسم_میری_مرضی
ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کے آپریشن تھیٹر سے دورانِ ڈیوٹی افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ ڈاکٹر کو، مبینہ طور پر ویزا کی توسیع کے معاملے پر گرفتار کرنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اگر کسی قانونی کارروائی کی ضرورت تھی تو اس کے لیے مہذب، قانونی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار اختیار کیا جا سکتا تھا، نہ کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی خدمات کو متاثر کر کے۔
پاکستان اور افغانستان کے ہزاروں طلبہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد برسوں سے ایک دوسرے کے ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ویزا کی توسیع یا امیگریشن سے متعلق معاملات کو بنیاد بنا کر اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف پیشہ ورانہ وقار کے منافی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، طبی اور انسانی تعاون کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
میں وفاقی حکومت/ متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اور غیر ملکی طلبہ و پیشہ ور افراد کے ویزا کے اجرا اور توسیع کے عمل کو آسان، شفاف اور بروقت بنایا جائے۔ حکومتوں کے درمیان پالیسی معاملات کی قیمت طلبہ، ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد کی تضحیک کی صورت میں ادا نہیں کی جانی چاہیے۔ انصاف، انسانی وقار اور پیشہ ورانہ احترام کو یقینی بنایا جائے۔
اتنے بڑے بھان میں کہیں سی سی ڈی کا اسکر نہیں جس کا جھنڈا اٹھا کر زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا اور اب جب ڈنڈا اپنے مالکوں کے بچے میں آنے لگا ہے تو قانون راستہ لینے لگ پڑا ہے جبکہ چند دن پہلے آپ اس سب کو ڈرامہ قرار دے رہے تھی راشد صاحب؟ڈالر حرام کے ہیں کیونکہ بچہ اب مالکوں کا ہے؟
جو کام رضا ڈار نے کیا، اگر یہی کام عمران خان کے بیٹے یا بھانجے سے سرزد ہوا ہوتا تو اب تک متاثرہ لڑکیوں کے “ماموں” بن کر انصار عباسی اور عمر چیمہ سینہ کوبی کر چکے ہوتے۔
فکر نہ کریں الزامات لگنے، یہاں تک کے جرائم ثابت ہونے پر بھی ایلیٹ کو کچھ نہیں ہوتا۔ اور اس کیس میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔ دو دن زور و شور سے خبریں چلیں گی،
پھر ٹھنڈ ماحول تے مٹھے چول!!
بڑے آدمی کا بچہ کسی کیس میں پھنس جائے تو متعلقہ SHO معطل ہو جاتا ہے، ماڑے بندے کا سیدھا سیدھا فوری مقابلہ ہو جاتا ہے۔ اگر مقابلہ ہی قانون اور بہترین طریقہ ہے تو اسے لاہور کیس پر بھی فوری apply کیا جائے
پاکستان تحریک انصاف نے AJK کے 27 جولائی کو منعقد ہونے والے جنرل الیکشن میں مزید حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے- یہ فیصلہ PTI-AJK کی قیادت اور اپنے اتحادیوں کے مشورے کے ساتھ کیا- یہ فیصلہ آزاد کشمیر میں اس وقت جاری صورتحال اور وہاں کے عوام کے خواہشات اور جذبات کے پیش نظر کیا- الیکشن جمہوریت کا وہ پروسیس ہے جس میں عوام منصفانہ، آزادانہ اور شفاف طریقے سے اپنی مرضی سے اپنے ووٹ کا استعمال کر کے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتا ہو لیکن حالات اس کے بر عکس ہیں-
ساتھ ہی ہم نے پارلیمانی بورڈ کے طرف سے ٹکٹس کی شِفارشات اور اسکے خلاف متاثرہ اُمیدواران کے اپیلوں پر کاروائی معطل کی- مجھے اُمید ہے پی ٹی آئی AJK سے جوڑے تمام لوگ اس فیصلے کو سپورٹ کرینگے- ہم اُمید دلاتے ہیں ہم ہر فیصلہ خان صاحب کے نظریئے کے مطابق ملک قوم اور جمہوریت کی حاطر باہمی مشورے سے کرتے ہیں۔
اس بچارے نے کیا کھڑا ہونا ہے۔ اس کے جھکتے شانے دیکھیں۔ اس کی درباری مسکراہٹ دیکھیں۔ ایسے تو اعلی نوکر بھی دربار میں میں پیش نہی ہوتے۔ یہ ملک شلک بس نام کے ہیں۔ ان کی خاندانی وراثت ہے اقتدار میں رہنا۔ چاہے اس کے لئے کسی کے جوتے بھی اٹھانے پڑیں۔ پشتوں سے یہ ہی سلسلہ جاری ہے۔ معاف کیجیے گا ہمارے جیسے کچھ لوگوں کو جن ان سے اصولوں کے لیے لڑنے کی کچھ امید لگا بیٹھے تھے۔ نو میڈم نو۔ پشتوں کے نوکر کبھی سر نہی آتھا سکتے۔
ہر وقت تحریکی لیڈرشپ پر تنقید کرنا اور عمران خان کے بیانیے پر کم بات کرنا کاؤنٹر پروڈکٹو ہے
اصل مدعوں پر بات کرنے کی بجائے آپکا ستر فیصد سے زائد وقت اپنے مورچوں پر بمباری کرنے پر گذر جاتا ہے
سیاسی جدوجہد حد درجہ صبر ہمت و صبر کی متقاضی ہوتی ہے
پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن سیاسی جماعت ہے جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے ملک میں آئین و قانون جج بالادستی انصاف کی فراہمی
اس سب کو آپ تدبر و تدبیر و مسلسل مدلل صبر آزما جدو جہد سے حاصل کر سکتے ہیں
اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو تعمیری تنقید ضرور کرو مگر دائرے میں شائستگی کے ساتھ
بڑا تیر مارا ھے بجٹ بنا کر ۔
وزیراعظم کے سٹاف کا بجٹ بنانے میں کیا کردار ہوتا ھے ؟ یہ تو ہمیں پہلی بار پتہ چلا ھے ۔
پہلے کسی زمانے میں ایک ماہ کا بونس دیا جاتا تھا بجٹ بنانے والی ٹیم کو ، اب یک مشت 6 ماہ کی تنخواہ۔
شاید پاکستان میں تیل نکل آیا ھے ۔
میں نے صحافت چھوڑ دی ہےمیں نے پہلے بھی کہا ہے،ابصار عالم
آپ واپس بھی تو آسکتے ہیں۔۔۔رپورٹر
میں نہیں کرونگا آپ ریکارڈ کرکے رکھ دیں۔۔۔یکم اگست 2016 کو ابصار عالم کا بطور چیئرمین پیمرا بیان۔۔۔
اب کس منہ سے واپس آئے ہیں؟
ابصار عالم اور اس جیسے دوسرے بڈھے راتب خور عسکری لفافے خود اور اپنی اولاد کو حرام کی کمائی کھلاتے ہیں، یہ ظالم رجیم کے حامی، سہولت کار، ضمیر اور قلم فروش ہیں، اپنے مالکوں کو خوش کرنے کے لیے یہ غلیظ انسان کشمیریوں کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کررہا ہے۔