مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔
آج جو حکمران ہیں کل یہی لوگ ہمارے ساتھ کنٹینروں پر پچھلی حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباؤ ہے،آج وہ دباؤ کئی گنا بڑھ چکا ہے۔
کوئی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
عائشہ گلالئی،حنا پرویزبٹ، فیاض چوہان ، عون چوہدری، طاہر اشرفی، مفتی طارق مسعود، مفتی عبدالرحیم، مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایک ہی صف میں ایک ہی لکھی ہوئی بیانیہ کے ساتھ کھڑے کئے گئے ہیں۔ جو سب سرکار کی طوطی کی طرح بولتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے قصور والے کھیت میں ولن بن کر اُس انجمن کا نقاب سرکا دیا ہے جس کے عشق میں نون لیگ کے شرفاء گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہیں
#آئین_شکن_مقدس_گائے