ہم نے آپکو ووٹ اسلئے نہیں دیا تھا کہ آپ ہماری چمڑی ادھیڑیں۔
پوری دُنیا میں سب سے مہنگا پٹرول ڈیزل آپ نے کیا ہے، آپ ظالم ہیں جنگ کی آڑ میں پٹرول پمپ مالکان کے آگے لیٹ گئے ہیں۔
آپ نااہل ہیں بزدل ہیں ظالم ہیں اور بے شرم ہیں۔۔سر ڈریں اس وقت سے کہ آپکو بھاگنے کو رستہ بھی نا ملے۔
راحت اندوری مرحوم سے معذرت کے ساتھ ان کے شعر میں ترمیم کررھا ھوں۔
اٹھا شمشیر،دکھا اپنا ھنر کیا لے گا
یہ رھی جان، یہ گردن ھے یہ سر، کیا لے گا؟
صرف ایک تقریر اڑادے گی پرخچے تیرے
تو سمجھتا ھے کہ لیڈر ھے، یہ کر کیا لے گا۔
#مولانا_کا_کڑوا_سچ#کردارکےبادشاہ_مولانا#قابض_چوکیدار
#اسٹبلشمنٹی_ٹٹو
#بزنس_نہیں_دفاع
نا سیاستدان چالیں بدلتے ہیں ، نا عوام بیوقوف بننا بند کرتی ہے ۔۔۔
دو سال پہلے ہوئے لیکشنز کے بعد عوام کے ساتھ جو سلوک ہوا ، جو تباہی پھری ہے پہلے اسکا جواب تو دے لیں ۔
اس ملک میں سب سے سستی غریب آدمی کی زندگی اور عزت ہے ۔
سارا قانون انہی پہ چلتا ہے
مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے ملنے گیا، کوئی ہفتہ یا چار پانچ دن پہلے کی بات ہے۔
میں نے کہا، "مولانا! یہ آپ کا جگر ہے، خدا کی قسم!
اس سے پہلے میں نے دین کے بڑے کام کیے ہیں، لیکن خداے پاک کی قسم!
یہ سیاست بڑا مشکل کام ہے کیوں؟
سیدھا عزت پر حملہ ہوتا ہے۔"
میں نے مولانا سے کہا، "یہ آپ کا جگر ہے!
اگر آپ کسی مدرسے کے شیخ الحدیث ہوتے،
تو اس وقت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے کر کے نہیں، ان سے اوپر کے شیخ الحدیث ہوتے۔
آپ کسی خانقاہ میں پیر ہوتے ہیں، ہیں پیر آپ!
تو اس وقت آپ کے لوگ جبے چوم رہے ہوتے۔
لیکن ادھر اللہ اکبر! اتنا بہتان اور تہمت لگتی ہے، مشکل ترین کام ہے۔
#قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
سعودی عرب میں جہاں بور کرو تیل نکل آتا ہے آدھی دنیا کو تیل بیچتا ہے.
اسکے باوجود یہاں ججز کو فری پٹرول نہیں ملتا صرف عدالت آنے جانے کا کوٹہ ہے وہ بھی پیسے ملتے ہیں.
ہمارے والے 90 ڈالر فی بیرل خرید کر فری دیتے ہیں ان ججز کو.
اور انصاف کا حال یہ ہے کہ 134 نمبر پہ ہیں دنیا میں.
بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔
عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔
میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔
اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔"
ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔"
تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟"
انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟
تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟
اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔
اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔"
لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔
اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟
دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔
تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔
میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں:
سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ
اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔
لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے....
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
@hinaparvezbutt مولانا صاحب کے ساتھ مضبوط لوگوں کی لڑائی اگر ایسی فری میں بغیر ووٹوں کے اسمبلی پہنچنے والیوں تک پہنچ گئی ہے تو ہار مان کر مولانا سے معافی مانگ لیں
غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو ارجنٹائن کیپ ورڈے سے میچ ہار کے تھے۔ انکا ورلڈکپ ادھر ہی ختم تھا ۔لیکن وہاں سے ریسکیو کیا گیا باقی ٹورنامنٹ میں گود میں اٹھا کر فائنل تک پہنچایا گیا ۔فائنل میں خوب چیٹنگ کی گئی لیکن پھر بھی ہار گئے ۔
اسپین کے جیتنے سے کہیں زیادہ خوشی ارجنٹائن کے ہارنے کی ہے۔۔۔ کھیل سے زیادہ توجہ بے ایمانی اور بدتمیزی پر دیتے ہیں۔۔۔ ریفری ٹھیک ہوتے تو آدھی ٹیم سیمی فائنل میں ہی بک ہو چکی ہوتی
#ArgentinaVsEspaña
دفاع بھی ایک مقدس کام ہے چنانچہ دفاع کے ساتھ بجٹ کے لفظ کو لگا کر 'دفاعی بجٹ' کہنا بھی توہین ہے اسی لیے آئندہ اس کو 'مقدس بجٹ' کہا جائے. مولانا فضل الرحمن
مولانا نہیں پھڑیا جا ریا اے بھئ
اڑتالیس گھنٹے بعد مولوی صاحب کو پتہ چلا کہ میں نے کچھ کہا ہے اور پھر وہ شدت غم سے رو پڑا
ایک دن پہلے تک وہ مجھے روٹی کی دعوت پہ اسی جلسے کی مبارکباد دے رہا تھا
مولانا فضل الرحمن
#LawyersStandWithMaulana
@RShahzaddk اٹک کے جامع مسجد کے مفتی مسعود جو اکیس سال سے امامت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے،
مسجد انتظامیہ کو لاہور بلایا گیا اور کہا مفتی کو امامت سے فارغ کرو اسنے فورتھ شیڈول میں شامل کسی شخص سے رابطہ کیا اور اسے فارغ کر دیا گیا اندازا لگا لیں پھر