ہم کِھلکھِلا کے ہنستے ہیں ، ہر تازہ گھاؤ پر
کُچھ لوگ مُعترِض ہیں، اِسی رکھ رکھاؤ پر
مُمکن نہیں ہے ، عشق کی بازی کو ہار جائیں
دِل جیسی چیز ہم نے لگائی ہے داؤ پر..
تلخیء ہجر بڑھے اور بڑھے وحشت بھی مگر
میری جانب سے تجھے اب کوئی آواز، نہیں آئے گی...
میں نے ہر شب جلائے چراغ تیری یادوں کے سحر ھونے تک
تھک کیا گیا ھوں تیری امید تیری جستجو کرتے
چراغ سحر ھوں بھوجنے کو ھوں اے میری دوست
میری جانب سے تجھے اب کوئی آواز نہیں آئی گی
آپ کا شمار رنگباز یوتھیوں میں ہوتا ہے. ابھی تک پتہ نہیں چل سکا آپ مراثیوں کے دانشور ہیں یا دانشوروں کے مراثی آپ نے زبان و بیان کی آڑمیں قوم کے فرہنگ و تلفظ کو بگاڑنےکی بہت کوشش کی. ایک ساتھ 4 چینل لانچ کر کے ایک بزنس ٹائیکون کا بٹھہ بٹھایا. تبدیلی پرچار میں جی بھر کے رسوا ہوئے