پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال میں کے پی ٹییوٹا میں ہنگامی بنیادوں پر 100 سے زائد بھرتیاں عمل میں لائی جا چکی ہیں۔ پہلے جہاں زیادہ تر ہنگامی بھرتیاں سوات سے کی جاتی تھیں، اب ڈی آئی خان، مردان کے بعد بنوں پر خصوصی نظرِ کرم دکھائی جا رہی ہے۔
یہ تمام بھرتیاں بغیر کسی اشتہار، تحریری امتحان یا انٹرویو کے کی جا رہی ہیں، اور محض ایم ڈی کے دستخط یا قلم کی جنبش سے منظور ہو جاتی ہیں۔
ادارہ اپنے باقاعدہ ملازمین کا تین سال سے مقروض ہے، مگر یہ سیاسی بھرتیاں، جو محمود خان کے دور میں شروع ہوئیں، آج بھی بدستو�� جاری و ساری ہیں۔
ٹییوٹا کے ملازمین کی تنخواہوں سے 10 فیصد کٹوتی کر کے ہیڈ آفس کے ملازمین کے الاؤنسز اور ان سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے افراد کی تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
یہ تمام حقائق چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ تک پہنچائے جا چکے ہیں، مگر دونوں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ نوٹیفکیشن ایک مثال ہے
پشاور یونیورسٹی کے بعد ٹیوٹا خیبرپختونخوا کے ملازمین بھی تنخواہوں سے محروم!
آل ٹیوٹا ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے بار بار متنبہ کرنے کے باوجود تنخواہی تاخیر سے آنا اور فنڈز کا نہ ہونا ملازمین کے لیے باعث پریشانی ہے۔
ملازمین نے وزیراعلی سہیل آفریدی سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
ملازمین کے مطابق موجودہ مینجمنٹ نے مسلسل وعدوں کے باوجود سی پی فنڈز کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا
ٹیوٹا خیبرپختونخوا کی گاڑیاں کہاں ہیں؟
ذرائع کے مطابق سابق معاون خصوصی طفیل انجم جاتے جاتے محکمہ کی ویگو گاڑی (AA-4693) اپنے ساتھ لے گئے اور ابھی تک واپس نہیں کی
ایم ڈی ٹیوٹا اس وقت تین گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ دو گاڑیاں (AA-4687 اور AA-4689) بظاہر ڈی آئی خان بھیجی گئیں جبکہ (AA-4647) اس وقت ایم ڈی کے زیرِ استعمال ہے لیکن مزید معلومات سے معلوم ہوا کہ وہ گاڑیاں ڈیرہ میں بھی نہیں۔ تو آخر یہ گاڑیاں گئیں کہاں؟
ذرائع کے مطابق ادارے سے تقریباً 10 گاڑیاں غائب ہیں جبکہ اس وقت تقریباً ہر ڈائریکٹر دو، دو گاڑیاں استعمال کر رہا ہے اور تمام اخراجات اب بھی محکمے پر ڈالے جا رہے ہیں
خیبرپختونخوا حکومت ویسے کون چلا رہا ہے؟ نہ وزیراعلی کی کوئی مانتا ہے اور نہ چیف سیکرٹری کی
ٹیوٹا خیبرپختونخوا میں پچھلے ڈھائی سال سے ملازمین کی تنخواہوں سے سی پی فنڈ کی م�� میں 10 فیصد کٹوتی جارہی ہے لیکن اس سے ملازمین کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بدلے میں کچھ نہیں مل رہا۔
بلکہ ذرائع کے مطابق تنخواہوں سے جو کٹوتی ہورہی ہیں وہ دراصل ان ملازمین کو بطور تنخواہیں دی جارہی جن کو سفارش پر بھرتی کیا گیا کیونکہ تقریباً 95 لوگ کو بغیر کسی ٹیسٹ اور انٹرویو کے ایم ڈی کے پی TEVTA کے ڈسکریشنری پاور پر بھرتی ہوئے۔
اس سلسلے میں چیف سیکرٹری نے بھی احکامات جاری کئے تھے لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا
ہم خیبر پختونخوا TEVTA کے محنت کش ملازمین کی نمائندہ اور فعال تنظیم ہیں۔ ادارے کی بہتری، ملازمین کے حقوق اور طلباء کی معیاری تعلیم کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، مگر گزشتہ 8 سالوں سے TEVTA مینجمنٹ ملازمین کو جائز حقوق دینے میں مسلسل ناکام ہے، جو نہایت تشویشناک اور قابلِ غور ہے
ہم خیبر پختونخوا TEVTA کے محنت کش ملازمین کی نمائندہ اور فعال تنظیم ہیں۔ ادارے کی بہتری، ملازمین کے حقوق اور طلباء کی معیاری تعلیم کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، مگر گزشتہ 8 سالوں سے TEVTA مینجمنٹ ملازمین کو جائز حقوق دینے میں مسلسل ناکام ہے، جو نہایت تشویشناک اور قابلِ غور ہے