دنیا بھر سے 21 معروف کرکٹرز عمران خان کے علاج کے لیے خط لکھ رہے ہیں اور پاکستان کے موجودہ اور سابقہ کرکٹرز اتنے بزدل ہیں کہ کوئی ایک بھی آواز نہیں اٹھا رہا ، عمران خان کی رہائی کے بعد سب لائن بنا کر بنی گالہ کا طواف کررہے ہوں گے
آپ میری خبر نورین نیازی سے کنفرم کروا سکتے ہیں
جس دن نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات ہوئی بشری بی بی بھی ساتھ تھیں انہوں نے نورین آپا کو کہا علیمہ خان جو ریلی نکال رہی ہیں اور کام کر رہی ہیں وہ قابل تحسین ہیں
جس پر عمران خان نے پوچھا کیا علیمہ خان ریلی نکال رہی ہیں انہوں نے کہا کہ اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ پارٹی کی بجاۓ میری بہن کو یہ کام کرنا پڑ رہا ہے انہوں نے علیمہ خان کے کام کو سراہا لیکن انہوں نے کہا کہ اب وہ مزید یہ کام نہیں کریں گے اگر انہوں نے ہی یہ کام کرنا ہے تو پھر پارٹی کے عہدیداروں کا کیا فائدہ
آپ میری خبرنورین آپا سے کنفرم کر سکتے ہیں
سید زیشان حیدر
یہ عدالتوں کو بتا رہے ہیں کہ تمہارا باپ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔عمران خان کو گرفتار کرنے کا آرڈر پاس ہوا تو 15 منٹ میں عملدرآمد ہوا اور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی لیکن آج سپریم کورٹ نے 2 دن کا وقت دیا
لیکن ان " بغیرتوں، ذلیل، جابر، ظالم اور 2 نمبروں " نے اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا، سہیل آفریدی
74 سال کی عمر ایک ایڈوانس عمر ہوتی ہے اس عمر میں انہوں نے 300 مقدمات ہونے کے باوجود کبھی طبی بنیادوں پر ریلیف نہیں مانگا جبکہ میڈیکل کی گراؤنڈ exist کرتی ہے یہ ہم نہیں کہہ رہے اڈیالہ جیل کی رپورٹ کہہ رہی ہے ! سلمان صفدر
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
25 ستمبر کو ملک بھر سے کسان اسلام آباد راولپنڈی کی جانب مارچ کریں گے. راستے میں روکا گیا تو پیدل ہی دارالحکومت پہنچیں گے، وزیراعلیٰ مریم نواز سے استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے: کسان رہنماؤں کی پریس کانفرنس
تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو مارچ ہے ، اگر یہ دونوں آپس میں مل جائیں تو بہت بڑا مارچ ہو سکتا ہے اور اسی میں پنجاب سے بھی لوگ نکل آئیں گے.
ہمارے دانشوروں کے بقول عدالتی حکم پر عملدرآماد نہ کرنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی بلکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی نشاندہی کرنے پر توہین عدالت ہوتی ہے ۔
ظالم نے جو کچھ بھی کیا وہ سب جائز ہے مگر مظلوم شکوہ کرے تو توہین ہوتی ہے۔
🚨 ڈاکٹر عظمی نے PIMS تک پہنچنے کی کہانی سنا دی
کل شام کو ہمیں فون آیا کہ اڈیالہ پہنچا جائیں ہم اڈیالہ گئے تو مجھے اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ کے اندر لے گئے اور ڈپٹی سبطین کے کمرے میں بیٹھا دیا
پھر ڈاکٹر فیصل سلطان کو لے تھوڑی دیر بعد آ کر لے گئے ہمیں نہیں پتا تھا کہ کہاں لے کر جا رہے ہیں لیکن پھر ان کو کالے شیشے والی گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے
10 منٹ بعد مجھے بھی لیا ایک لینڈ کروزر ایک پولیس کی گاڑی ایک اور گاڑی اور مجھے لے کر چلے گئے، ہر طرف اندھیرا تھا اور پھر پتا چلا کہ جی PIMS ہسپتال لے کر آئے ہیں
" ہم یہاں بیٹھے وہاں بیٹھے ٹائم گزار رہے تھے عمران خان نے کہا یہ اتنا مجھے ٹارچر کر رہے ہیں میرے ساتھ ظلم ہوا ہے نا ٹی وی نا ریڈنگ میٹریل دیا گیا میرے سر میں کچھ ہونے لگ گیا تھا میرج کوئی پرواہ ہی نہیں کرتے 10 اگست کو ڈاکٹر آئے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یہ کوئی انسانوں کے ساتھ کوئی ایسا نہیں کر سکتا یہ ظلم کر رہے ہیں میرے سے ۔۔۔ میں کہتا ہوں یہ میری سنتے نہیں پروا نہیں کرتے " ڈاکٹر عظمی کی پریس کانفرنس
پرائیویٹ ھسپتال سے سرکاری ھسپتال میں منتقلی کا مقصد آنے والے وقت میں ھونے والی ممکنہ مزید مخصوص پیشرفت کو زیادہ سے زیادہ سست روی کا شکار کرنا اور حکومت کی طرف پیچیدہ بنانا ھے-
حکومتی پارٹیوں کو ھلکا سا پہلا جھٹکا آیا، ادھر سندھ میں نیب کاروائیوں کا آغاز اور یہاں معمولی سا ریلیف اور رات کی نیندیں اور دن کا چین اجڑا سا جا رھا ھے-
بس ابھی شروعات ھے، ابھی کافی وقت اور مزید کئی مشکل مراحل باقی ھے- ھوشیار باش-
آپ تمام کے جذبات کی بے پناہ قدر ہے
لیکن میں بطور میڈیا ایکٹوسٹ کام کرتا ہوں اور میرا کام کوریج کرنا ہے جو میں آج پہلی دفعہ تو کرنے نہیں لگا یہ تو ہمیشہ کی ہے چاہے کوئی جلسہ ہو جلوس ہو ، سیلاب ہو یا کوئی اور سانحہ
میں کارکن نہیں ہوں جناب
🚨 شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں سیکیورٹی کلیرنس کرائی جا رہی ہے
تحریک انصاف کے کارکنوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی شفاء ہسپتال کے باہر ہیں تو وہ وہاں سے ہٹ جائیں
متعلقہ افسر/حکومت، شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے ذریعے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے گی، جس میں ایک معالج، ایک جنرل سرجن، (Internal Medicine) کے ماہر، ایک ماہرِ چشم اور ایک ماہرِ امراضِ قلب شامل ہوں گے، جو قیدی کا طبی معائنہ اور علاج کریں گے،
ڈاکٹر فیصل سلطان اور قیدی کی بہنوں میں سے ایک، یعنی ڈاکٹر عظمیٰ خان کو قیدی کے طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شریک رہنے کی اجازت ہوگی، سپریم کورٹ کا حکم
عدالتی حکم نامہ : عمران خان کو دو روز میں شفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ہسپتال علاج کا سارا خرچہ فیملی اُٹھائے گی ، کیس کی اگلی تاریخ تک کوئی فیملی یا پارٹی ممبر عمران خان کی صحت حوالے سے بات نہیں کرے گا - بیٹوں سے ہفتے میں دو دفعہ بات کرائی جائے اور فیملی سے ہفتہ میں ایک دفعہ ملاقات کرائی جائے۔
تمام شکوک و شبہات دور
سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری
عمران خان کی دو دن کے اندر اڈیالہ جیل سے شفا ھسپتال منتقلی ہو گی
ڈاکٹر عظمٰی عمران خان کی طبی معائنہ کرنے والی ٹیم سے منسلک رہینگی
ہر ہفتے بہنوں اور اہل خانہ کو ملنے کی اجازت ہو گی
نورین نیازی کی عمران احمد خان نیازی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ختم ہو گئی
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس ہال میں ہوئی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی
نورین نیازی نے ملاقات کے دوران عمران احمد خان نیازی کی خیریت دریافت کی اور ان کے موجودہ حالات کے بارے میں معلومات حاصل کیں
ذرائع کے مطابق عمران احمد خان نیازی کی خیریت دریافت کرتے ہوئے نورین نیازی آبدیدہ بھی ہو گئیں
ملاقات کے بعد نورین نیازی میڈیا سے گفتگو کیے بغیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئیں