اتنا ہی یاد رکھ مجھے
جیسے کسی کتاب میں
بیتے دنوں کے دوست کا
خط اک پڑا ہوا ملے
لفظ مٹے مٹے سے ہوں
رنگ اڑا اڑا سہی
لیکن وہ اجنبی نہ ہو
اٹھ کر تیرے گلے لگے
بھولے ہوئے تمام دکھ
گزرے ہوئے تمام سکھ
بیتے دنوں کی ہر کتھا
تجھ سے کہے اور رو پڑے
𝕽.🔴.𝕶
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ( دس محرم ) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔
(ترمذی،۲۴۲۵)
حیرت سے تجسّس سے تعجب سے کریں گے
تعریف بھی کچھ لوگ تعصب سے کریں گے
گو نام نہ لیں پھر بھی مرا ذکر تو ہوگا
اب یاد مجھے خاص تناسب سے کریں گے
اک میری زباں بند کرو دیکھتے جاؤ
سب بات مرے طرزِ تخاطب سے کریں گے
جو نقش ِ قدم میرے مٹانے کو چلے ہیں
تقلید مری میرے تعاقب سے کریں گے
ہر جھوٹ یقیں جیت کے بیٹھا ہے سو احمد
حق بات بھی اب لوگ تذبذُب سے کریں گے
ڈاکٹر احمد خلیل........
یومِ عرفہ کی خصوصی دعا
لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ
وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ترمذی۔۳۵۸۵
ہر اِک جِسم گھائل، ہر اِک روح پیاسی
نِگاہوں میں اُلجھن، دِلوں میں اُداسی
یہ دُنیا ہے یا عالمِ بد حواسی
یہ دُنیا اگر مِل بھی جائے تو کیا ہے
جلا دو اِسے، پُھونک ڈالو یہ دُنیا
مرے سامنے سے ہٹا لو یہ ُدنیا
تُمہاری ہے، تم ہی سنبھالو یہ دُنیا
یہ دُنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
لبیک اللھم لبیک۔۔۔ یہ کلمات ہم ساری زندگی سنتے ہیں۔ لیکن حج کے موقع پر جب لاکھوں افراد کے ساتھ یہ کلمات ادا کرنے کا موقع آئے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک رجز ہے۔ وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ زبان ہی نہیں، پورا وجود لبیک پڑھ رہا ہے۔
اس سے پہلے تو دعاوں پہ یقیں تھا کم کم
تو نے چھوڑا تو مناجات کا مطلب سمجھے
تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے ترا اپنا کوئی
تو بھی اک روز مکافات کا مطلب سمجھے
نامعلوم
شین کاف نظام کی بہت ہی عمدہ غزل
کبھی جنگل کبھی صحرا کبھی دریا لکھا
اب کہاں یاد کہ ہم نے تجھے کیا کیا لکھا
شہر بھی لکھا مکاں لکھا محلہ لکھا
ہم کہاں کے تھے مگر اس نے کہاں کا لکھا
دن کے ماتھے پہ تو سورج ہی لکھا تھا تو نے
رات کی پلکوں پہ کس نے یہ اندھیرا لکھا
سن لیا ہو گا ہواؤں میں بکھر جاتا ہے
اس لئے بچے نے کاغذ پہ گھروندا لکھا
کیا خبر اس کو لگے کیسا کہ اب کے ہم نے
اپنے اک خط میں اسے دوست پرانا لکھا
اپنے افسانے کی شہرت اسے منظور نہ تھی
اس نے کردار بدل کر مرا قصہ لکھا
ہم نے کب شعر کہے ہم سے کہاں شعر ہوئے
مرثیہ ایک فقط اپنی صدی کا لکھا
شین کاف نظام
کوئی شخص مجھے رسول ﷲ ﷺ سے زیادہ محبوب نہیں تھا اور میری آنکھوں نے آپ سے زیادہ عظمت والا نہیں دیکھا اور زندگی بھر آپ کی ہیبت کی وجہ سے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا۔
حضرت عمرو بن العاص رضی ﷲ عنہ
(مسلم ص70،حدیث:321)
*
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم*
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
اےصبا مصطفیٰ سےکہہ دینا غم کےمارےسلام کہتےہیں.
یاد کرتےہیں تم کو شام و سحر، دل ہمارےسلام کہتےہیں.
زائر طیبہ تو مدینےمیں پیارےآقا سےاتنا کہہ دینا
آپ کی گرد راہ کو آقا بےسہارےسلام کہتےہیں
ذکر تھا آخری مہینےکا، تذکرہ چھڑ گیا مدینےکا
حاجیو مصطفیٰ سےکہہ دینا، غم کےمارے سلام کہتے ہیں
نبیﷺ کی نیا سفید لباس پہننے پر سیدنا عمرؓ کو دعا
الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا
تمھیں نیا لباس، قابل تعریف زندگی اور شہادت کی موت نصیب ہو۔
{سنن ابن ماجہ۔۳۵۵۸}
قالَ النبی ﷺ:
ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ الله تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے. البتہ الله تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو، اور اس کے شر سے الله کی پناہ مانگو.
ماجہ 3727
(ابوداؤد 5097؛ مسند احمد 7407، 7619، 9627؛ حاكم 7769؛ مشکوٰۃ 1516)
اپنے آپ کو اس بات کی پختہ ترین عادت ڈال لیں
بلکہ مکمل اور باقاعدہ ٹریننگ دیں
کہ اپنی خوشی کا اعلان اسوقت تک نہ کریں
جب تک وہ مکمل اور کامیابی کے تمام نتائج حاصل نہ ہو جائیں.
کیونکہ قبل از وقت اعلان حاسدوں کو متوجہ کرتا
اور سب کچھ بیچ راہ ہی ختم کر ڈالتا ہے.