ایک آزاد، معتبر اور محترم قانون دان/سیاستدان میرے ان خدشات کی تصدیق کررہے ہیں کہ سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کئے جانے کو تحریک انصاف کیخلاف کریک ڈاؤن کے ایک جواز کے طور پر استعمال کرنے کی یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
پُرامن مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ، جس کے نتیجے میں کم از کم 25 شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، کی فوری تحقیقات ناگزیر ہیں۔
فرانس میں (حالیہ) احتجاج کے دوران مظاہرین کو پولیس پر پٹرول بم تک پھینکتے دیکھا گیا مگر ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ پولیس نے جواباً ان پر گولیاں برسائی ہوں۔
جلاؤ گھیراؤ، جس کی قلعی کسی بھی آزادانہ تحقیقات میں کھل جائے گی کہ یہ تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن کا جواز تراشنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، کی آڑ میں پُرامن احتجاج کے ہمارے بنیادی حق کی سنگین خلاف وزریوں کا میڈیا پر جاری بحث سے ذکر ہی گول کر دیا گیا ہے اور اس پر سِرے سے کلام ہی نہیں کیا جارہا۔
نہ ہی کم از کم 25 پرامن پاکستانی مظاہرین کے قتل اور 600 کے قریب زخمیوں (کے ذمہ داروں کی نشاندہی کیلئے) کسی تحقیق کا کوئی ذکر سننے کو مل رہا ہے۔
اخلاق و اقدار سے یکسر عاری بدمعاشوں، مجرموں اور احمقوں پر مشتمل ایک گروہ پوری طرح قوم پر حاوی ہوچکا ہے۔
ایسے میں جب ملک خاص طور پر تاریخ کی بلند ترین مہنگائی اور تیزی سے بڑھتی بےروزگاری کے ساتھ بدترین معاشی بحران کی دلدل میں دھنس رہا ہے، اقتدار پر قابض گروہ اپنی تمام تر توانائیاں ملک کی سب سے بڑی اور وفاقی سطح کی واحد سیاسی جماعت کو جبر و فسطائیت سے کچلنے کی منصوبہ بندی پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔
وقت آگیا ہے کہ پوری قوم اس کیخلاف اپنی آواز بلند کرے قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے۔