معصوم 16 سالہ وسیم کو بے دردی سے کچلنے والے درندے توقیر نذیر کا عدالت میں انجام! ایسے سنگدل اور حیوان صفت عناصر کو معاشرے میں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اسے عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ پھر کوئی ظالم کسی ماں کی گود اجاڑ نہ سکے بہت اچھا کیا اس کے ساتھ
اسلامی تاریخ کے لازوال ہیرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!
نجانے پنجاب کے عام شہریوں کو پتا ہے کہ نہیں کہ انکی وزیر اعلی مریم نواز نے انکے پنجاب حکومت کے خزانے سے تقریباً گیارہ ارب روپے کا انتہائی پر تعیش گلف اسٹریم جہاز اپنے سرکاری اور نجی استعمال کے لئے خریدا اور گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ مریم نواز نے لندن میں اپنی صاحبزادی کی گریجیوشن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسی جہاز سفر کیا اس پس منظر میں اب ملک بھر میں پڑھے لکھے لوگ سوالات کی بوچھاڑ کرہے ہیں۔ یہ جہاز کس طریقۂ کار سے خریدا گیا؟ اصل قیمت کیا تھی؟ اگر یہ ایئر پنجاب کے لیے تھا تو پھر وی آئی پی استعمال کیوں ہوا؟ اگر مریم نواز نے نجی سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے تو کتنی رقم ادا کی، کس حساب سے، اور رسید کہاں ہے؟یہ معاملہ صرف ایک مہنگے جہاز کا نہیں، بلکہ سرکاری اختیار، عوامی پیسے اور احتساب کا ہے۔ اسی رقم سے پنجاب میں بنیادی صحت، ڈائلیسس، اسکول میل پروگرام اور دوسرے عوامی منصوبوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جا سکتی تھی۔ مزید یہ کہ گلف اسٹریم کا سالانہ آپریٹنگ خرچ بھی کم از کم 80 کروڑ روپے میں جا سکتا ہے۔اس بڑی تحقیقاتی کہانی کی مکمل تفصیل، ثبوت اور جواب طلب سوالات کے لیے OMR کا یوٹیوب لنک کلک کریں اور پورا پروگرام ضرور دیکھیں۔ https://t.co/B8H8jmLIME
پہلی خبر
2024-25 میں 2 بڑی فرٹیلائزر کمپنیوں کو سستی گیس کی مد میں 84 ارب 49 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی
دوسری خبر
دونوں فرٹیلائزر کمپنیوں نے 2025 میں 190 ارب 94 کروڑ روپے خالص منافع کمایا
تیسری خبر
دونوں کمپنیوں نے اس سال اپنے ملازمین کو 15 سے 22 بونس دئیے
اصل خبر
کسان ڈی اے پی کی ہر بوری پر ہزاروں روپے اضافی دے کر بلیک میں خریدنے پر مجبور
#pakistan
قرضوں میں جکڑے اور مہنگائی کے عذاب سے گزرتی قوم جس پر روزانہ پیٹرول بم گرایا جا رہا ہے جس کے حکمران عوام کو بچت اور کفایت شعاری کا درس دیتے ہیں اس کے حکمرانوں کے قافلے اس طرح چلتے ہیں آپ زرا گاڑیوں کی تعداد گن کر دیکھا دیں
بیشک آپ ارب پتی ہوں لیکن جب آپ ایک ایسے صوبے کی حکمران ہوں جہاں 50٪ غربت کی لکیر سے نیچے،ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہوں تو پھر سادگی ہی ترجیح ہونی چاہئے۔سکول سے باہر ڈھائی کروڑ بچہ آپ کے ہی بچوں اور مستقبل کے لیے تھریٹ ہے۔۔
Ahsan Iqbal Hits Maryam Nawaz|| Son Issue Became Instant Reason Behind B...
https://t.co/MfvwHdOH2C via @YouTube@MaryamNSharif@betterpakistan@CMShehbaz
"گاڑیاں مفت، گھرمفت، بجلی مفت، پھر بھی سپیکر نے اپنی سیلیری 21 لاکھ کر لی."
(خواجہ آصف)
----
خواجہ آصف مجھےپسند ہیں کہ کم از کم غربت و افلاس میں خودکشیاں کرتےعوام کا کچھ تولحاظ کرتےہیں. سپیکر سمیت ہر اس حکومتی عہدیدار کو ڈوب کرمرجاناچاہئے ، جواس ملک کودونوں ہاتھوں سےنوچ رہا ہے.
منصور علی خان نے چند ہی منٹوں میں مریم نواز کے لندن جانے کے معاملے پر کیے گئے دفاع کا پورا پوسٹ مارٹم کر دیا۔
یہ کہنا کہ جہاز کا کرایہ یا ایندھن کا خرچہ مریم نواز اپنی جیب سے ادا کرتی ہیں، اصل سوال کا جواب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ نجی دورہ تھا تو سرکاری جہاز نجی مقصد کے لیے استعمال کیوں کیا گیا؟
پٹرول کا خرچہ ادا کر دینا کافی نہیں۔ سرکاری جہاز کے ساتھ عملہ، مینٹیننس اور دیگر سرکاری اخراجات بھی ہوتے ہیں۔
اصل سوال صرف یہ ہے: اگر دورہ نجی تھا تو سرکاری جہاز استعمال کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی؟
عوام کو اس سوال کا واضح جواب چاہیے۔
@NadeemAfzalChan@AzmaBokhariPMLN
میں نے اب ایک فیصلہ کیا ہوا ہے کہ موجودہ حکمران جب اپوزیشن میں ائے تو میں نے ان کے ساتھ اب اُس طرح کھڑا نہیں ہونا جس طرح پہلے ہوا کرتا تھا، میں نے بہت ریسک لئے اپنی جان کو داؤ پر لگایا لیکن اس دور میں سبق سیکھا ہے کہ ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ حامد میر
ایک اور بیٹی کی فریاد سامنے آگئی 🚨🚨
👈ڈائریکٹر کالجز نے کہا کہ اگر تو معاملات سیدھے رکھنے ہیں
تو میرے ساتھ تعلقات اچھے رکھنے ہونگے ،
👈کالج کی پرنسپل کا استحقاق کمیٹی کے سامنے بڑا نکشاف .
بلاول بھٹو کا فرمانا ہے کہ شہباز شریف حکومت “فارم 47” کی پیداوار ہے؟ بلاول زرا بتائیں کہ اگر انتخابات 2024 متنازع تھے تو پھر اسی انتخابی نظام سے حاصل ہونے والے تمام آئینی اور سیاسی عہدوں کی حیثیت کیا بنتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو آج پاکستان کی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔
آج کے On My Radar میں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ 2024 کے انتخابات کے بعد “فارم 47” کی اصطلاح کیسے قومی سیاست کا سب سے بڑا موضوع بنی، اور اب ڈھائی سال بعد پیپلز پارٹی کیوں اسی حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے جس کی وہ خود اہم اتحادی ہے۔ اگر پورا نظام متنازع ہے تو کیا صدرِ مملکت، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، گورنرز، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی اہم کمیٹیوں کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھتا ہے؟ اس اہم بحث میں سینئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی اپنی رائے پیش کریں گے۔اس دلچسپ اور فکر انگیز تجزیے کی مکمل تفصیل دیکھنے کے لیے OMR کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں https://t.co/ytTNMeJXJ9
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊
دنیا کی خفیہ ایجنسیاں اور سفارتی ذرائع اب کھل کر مان رہے ہیں کہ ایران امریکہ درمیان اس پوری بیک ڈور ڈپلومیسی اور خفیہ بات چیت کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تھے یہ بات انڈیا کے فارن پالیسی میکر اور اینالسٹ کے لیے بھی ایک سٹڈی کیس ھے کہ کس طرح ایک ملٹری جنرل نے اتنی بڑی گلوبل پولیٹکس کو پردے کے پیچھے رہ کر بغیر کسی شور شرابے کے انتی مہارت سے ہینڈل کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ایسا مضبوط ڈپلومیٹک پُل کا کام کیا جس کی امید شاید دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا منجھا ھوا سول ڈپلومیٹ نہیں کر رہا تھا . انڈین دفاعی تجزیہ کار پروین سوانی
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دھوم انڈیا سمیت ساری دنیا میں ھے