Exposing @/http_Clover for faking a lucky halo 2020 giveaway. They had sponsored it to @ItxsNiki and when I won they replied my dm right away saying that they had to finish their "home work" which would take 10 minutes. After that, they never replied and its been a week. 1/2
کل بروز ہفتہ 18 نومبر عمران خان صاحب کے بڑے بیٹے سلیمان خان کی سالگرہ ہے
جو کہ 26 سال کے ہو جائیں گے
اس دوران ان کی والدہ اور والد نے جو قربانیاں دی ہیں
وہ کبھی بھی فراموش نہیں کی جائیں گی
جمائمہ خان اج پاکستان کا سافٹ امیج دکھانے میں اپنی بھرپور کوشش کر رہی ہیں
وہ اپنی ڈاکومنٹریز کے ذریعے ہو وہ اپنے انٹرویوز کے ذریعے ہو یا پھر پاکستان کے برے ٹائم میں فنڈ ریزنگ کا کام ہو
عمران خان جو اپنی 26 سال کی جدوجہد میں اج پاکستان میں جیل میں بیٹھے ہیں
عمران خان صاحب کی قربانیاں تو لازوال ہیں
اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے بیٹے کی سالگرہ پر انہیں سالگرہ کی مبارکباد دینے کی اجازت نہیں ہے 💔
#HappyBirthdaySulmanKhan
جب سے عمران خان کو زبردستی اقتدار سے بیدخل کیا گیا ہے اسکے بعد سے پاکستان کی اکانومی مکمل تباہی کا شکار ہے.. اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف بھی قرضے کی اگلی قسط دینے سے انکاری ہے
"کروڑوں روپے لگا کر سرکاری وسائل استعمال کر کے بھی یہ لوگ بیانیہ نہ بنا سکے، انکا بیانیہ صرف یہ ہے "ہماری بات ہوگئی" ہے،عوام ایسا بیانیہ نہیں مانتی، اس وقت بیانیہ صرف اڈیالہ جیل میں بیٹھے شخص کا چل رہا ہے"جنید سلیم
@ImJunaidSaleem#ImranKhan#NawazSharif
Link : https://t.co/DefOaoNpvb
جسٹس عمر عطا بندیال صاحب کو جسٹس قاضی فائز عیسٰی صاحب کے حامی صحافی گالیاں دیتے تھے کہ عمر عطا بندیال ہم خیال بنچ بناتے ہیں، دوسرا تمام اہم کیسز اپنے سامنے لگاتے ہیں،
میرا ان صحافیوں سے سوال ہے کہ
جسٹس قاضی فائز عیسٰی صا��ب نے اڑھائی ماہ میں اپنے ساتھ کسی ایسے جج کو بٹھایا ہو جو ان کے گروپ سے تعلق نہ رکھتا ہو؟؟
انہوں نے ن لیگ کے بیانیے کی تقویت کے ہی صرف کیسز لگائے اور وہ بھی اپنے پاس،
ا�� ان صحافیوں کے اصول کہاں چلے گئے ہیں؟؟؟
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو آئین، قانون، اصول،دین، شریعت اور اسلام کا بہت بڑا ٹھیکیدار بنانے والے اب بھی تو لب کشائی فرمائیں
پی پی 231 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر خالد نثار ڈوگر کا اپنی گرفتاری سے پہلے کا بیان "میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھے عمران یا کسی قائدین نے ریاست کے خلاف اکسایا اور نہ ریاست کے خلاف بغاوت کا کہا .. "
#KhalidNisar#ImranKhan#PP231
ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی،وارث علی نے فوج کے کاروبار اور منافع کے بارے رپورٹ طلب کی۔
سیکریٹری دفاع اور اٹارنی جنرل نے کچھ رپورٹ پیش نا کی۔
تو جج صاحب نے کل حکم جاری کیا کہ سیکٹری دفاع کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
تو آج جج صاحب کو ہی ہائی کورٹ کی جانب سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
جس القادر یونیورسٹی کے کیس میں عمران خان کو قید رکھا ہوا وہ ہے کیا ہے ؟ جس کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں اس نے سب سے زیادہ یہودیوں کے خلاف اور مسلمانوں کے حق میں کام کیے، عمران خان کی مخالفت میں اتنا نہ گرو کہ اس کے اچھے کاموں میں بھی کیڑے نکالو اورکل قیامت کے دن جواب دینا مشکل ہوجائے، مفتی طارق مسعود
@Muftitm
https://t.co/t9QUQjIAhN
ساڈی گل ہو گئ اے
ساڈے کیس معاف ہو گئے
اسٹیبلشمنٹ میرے ساتھ ہے
عدالتیں میری غلام ہیں
الیکٹ ایبلز میرے پاس آ رہے ہیں سفیر مل رہے ہیں
یہ سب کچھ دن دہاڑے اس لئے کیا جا رہا ہے کہ عوام ہتھیار پھینک دیں، دس فیصد مقبولیت والے کو وزیراعظم مان لیں
80 فیصد والو
اس دھوکے میں مت آنا
درجنوں پرچے ہیں عمر ایوب پر پولیس اور ایجنسیاں پیچھے ہیں مگر باپ کے جنازے پر پہنچا ہوا ہے
ماں باپ بیوی کی لاشیں پارسل کرنے والوں خاندانی ہونا اسے کہتے ہیں
سوشل میڈیا پر یہ بالکل غلط ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی چاہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی مرضی کا کوئی جج ان کے کیسز سننے،
یہ خواہش ن لیگ اور پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ میں ہوتی تھی کہ ہمارے کیسز جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ سنیں ،
ان کی اس خواہش کی وجہ قاضی فائز عیسٰی صاحب کے چیف جسٹس بننے کے بعد درست بھی ثابت ہوئی کیونکہ قاضی صاحب کو کل چیف جسٹس بنے ہوئے دو ��اہ ہو جائیں گے،
ان دو ماہ میں پی ڈی ایم کے خلاف کوئی ایک زبانی آبزرویشن تک نہیں آئی اور عمران خان، تحریک انصاف کے درجن معاملات سپریم کورٹ ہیں، ان کے حق میں آئین اور میرٹ پر ایک لفظ تک نہیں بولا گیا، نہ کچھ کیا گیا ،
نوازشریف کی واپسی سمیت ہر وہ ریلیف جو پاکستان کی تاریخ میں کسی کو نہیں ملا، وہ قاضی فائز عیسٰی صاحب کے آنے کے بعد نیچے کی عدالتیں دیے جارہی ہیں،
آج بشریٰ بی بی کے وکیل انتظار حسین پنجھوتہ اور علی اعجاز بٹر نے یہ نہیں کہا کہ ہمارا کیس کسی مخصوص بنچ کے پاس لگا دیں بلکہ انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق صاحب سے یہ کہا کہ آپ اپنے عمل سے ثابت کررہے ہیں کہ آپ عمران خان کے معاملے میں اپنے حلف سے وفا نہیں کررہے، ہمیں آپ پر ایک فیصد بھی اعتماد نہیں، لہذا آپ اپنے علاوہ یہ کیس
جسٹس محسن اختر کیانی صاحب،
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب صاحب ،
جسٹس طارق محمود جہانگیری صاحب ،
جسٹس بابر ستار صاحب،
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان صاحب،
جسٹس ارباب محمد طاہر صاحب
یا
جسٹس ثمن رفعت امتیاز صاحبہ
میں سے کسی کے پاس بھی لگا دیں،
ہمیں آپ کے علاوہ ان سب ججز پر ا��تماد ہے کہ وہ اپنے حلف کا کچھ نا کچھ پاس ضرور رکھیں گے،
اس لیے یہ تاثر غلط ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کسی مخصوص جج کے پاس کیس لگوانا چاہتے ہیں،
وہ صرف ایک مخصوص جج کے پاس نہیں لگوانا چاہتے باقی سب پر ان کو اعتماد ہے
@intazarpanjutha @aliijazbuttar