ایف بی ار کو 30 ستمبر 2026 تک 58 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے جبکہ گزشتہ برس ستمبر 2025 تک ایف بی ار کو 38 لاکھ ریٹرن موصول ہوئی تھیں۔
ایف بی ار نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا ٹیکس ہدف 3053 ارب روپے بھی حاصل کر لیا ہے اس کی علاوہ ایف بی ار نے ستمبر 2026 کا 1330 ارب روپے کا ٹیکس ہدف بھی حاصل کر لیا ہے جبکہ سب سے اہم خبر یہ ہے کہ FBRنے 9 ارب 41 کروڑ روپے کے ویلتھ اسٹیٹمنٹ فراڈ کا سراغ لگا لیا ہے جس کے مطابق 85 ٹیکس دہندگان نے پرانے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر ظاہر شدہ اثاثے شامل کیے ۔
ٰٖٓ ٰٖٓایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں 15اکتوبر تک توسیع سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش سرکلر کو جعلی قرار دے دیا مگر گزشتہ چند روز سے جس طرح FBRکی پورٹل کام نہیں کررہی،اس کے پیش نظر توسیع ضرور کی جانی چاہئے
پاکستان پیپلز پارٹی کو نہ صرف سب سے زیادہ گورنر راج لگانے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ آخری دورِ حکومت میں پیپلزپارٹی نے دو صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 16فروری 1975ء کو صوبہ سرحدیعنی خیبرپختونخوا میں سردار عنایت اللہ گنڈاپور کی حکومت ختم کرکے اختیارات گورنر میجر جنرل سید غواث کے سپرد کیئے گئے۔25فروری1994ء کو وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دور میں صدرفاروق لغاری نے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کو گھر بھیج کر عنان اقتدار گورنر میجر جنرل ریٹائرڈ خورشید علی خان کے حوالے کردی۔صدر آصف زرداری گزشتہ دور میں دو بار گورنر راج لگاچکے ہیں۔25فروری 2009ء کو پنجاب میں گورنر راج لگایا گیا جبکہ 13جنوری 2013ء کو کوئٹہ میں خودکش دھماکے کے بعد بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔یعنی اب اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جاتا ہے تو صدر آصف زرداری کی ہیٹ ٹرک ہو جائے گی
کبھی ڈیجیٹل میڈیا تحریک انصاف کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتا تھا ۔۔۔وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی اہم ترین پریس کانفرنس شروع ہوئے دس منٹ ہوچکے مگر لائیو دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے
ایف بی آر کے نیشنل فیس لیس سینٹر نے کامُ کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد ٹیکس گزار اور ٹیکس افسر کا براہ راست رابطہ ختم کرنا ہے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کا نیشنل فیس لیس سینٹر (این ایف سی) پاکستان میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار کو بدل دے گا۔
اب تک اگر کسی ٹیکس دہندہ کا گوشوارہ آڈٹ کے لیے منتخب ہوتا تو اسے ایک مخصوص دفتر کے ایک مخصوص افسر سے، اکثر بالمشافہ، معاملہ کرنا پڑتا تھا۔ نئے نظام میں یہ رابطہ ختم ہو جائے گا۔ کیسز کا انتخاب کوئی افسر نہیں بلکہ ایک کمپیوٹرائزڈ، رسک پر مبنی نظام کرے گا۔ اس کے بعد ہر کیس خودکار طریقے سے ملک میں کہیں بھی موجود کسی افسر کو تفویض کر دیا جائے گا۔ ٹیکس دہندہ کو معلوم نہیں ہوگا کہ افسر کون ہے اور افسر کا اس بات میں کوئی اختیار نہیں ہوگا کہ کون سا کیس اس کے پاس آئے۔
ہر کیس تین الگ الگ ہاتھوں سے گزرے گا۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ کرے گا اور تیسرا کوئی بھی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے اس کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔ کوئی ایک افسر شروع سے آخر تک کسی ٹیکس دہندہ کے کیس پر اختیار نہیں رکھے گا۔
تمام نوٹس، جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوں گی۔ جہاں قانون کے تحت موقع پر تصدیق یا ٹیکس وصولی کی ضروری ہوگی، وہ کام ایک علیحدہ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔
نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے۔ اس کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کرے گا اور اس میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے علیحدہ شعبے ہوں گے۔ اس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے پروگرام مینجمنٹ یونٹ پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے
اس ٹویٹ پر کچھ لوگوں نے “سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ”ہونے کی پھبتی کسی حالانکہ میں نے یہ سب تفصیل 18نومبر 2022کو اپنے وی لاگ میں بیان کی تھی (لنک پیش خدمت ہے) مکرر عرض ہے تنقید ہو یا تعریف میں شوق کمال یا خوف زوال سے بے نیاز ہو کر کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا https://t.co/fG3VoYYIaS
لیفٹیننٹ جنرل (ر)نعمان محمود جنہیں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا پہلا جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے ایک بہادر فوجی افسر کے بہادر بیٹے ہیں۔ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود مشرقی پاکستان میں 32بلوچ کے کمانڈر تھے 7دسمبر 1971کو اطلاع ملی کہ 16ویں انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل نذر حسین کو پیر گنج کے علاقے میں اغوا کرلیا گیا ہے۔لیفٹیننٹ کرنل راجہ سلطان محمود ان کی تلاش میں گئے تو بھارتی فوج نے گھیر لیا۔سپاہی ایک ایک کرکے شہید ہوتے گئے ۔لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمود راجہ نے بھارتی فوج کے مورچے میں چھلانگ لگا دی اور کیپٹن جتندر سنگھ کو زخمی کردیا جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے۔اسی اثنا میں بھارتی فوج کے ایک حوالدار نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس سے لیفٹیننٹ کرنل سلطان راجہ شہید ہو گئے ۔
لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمود راجہ کی بہادری کے بارے میں پہلی گواہی بریگیڈیئر جوگیندر سنگھ بخشی نے دی دوسری گواہی میجر جنرل لچھمن سنگھ نہال کی طرف سے آئی جنہوں نے اپنی کتاب Indian sword strikes in East Pakistan میں ان کی بہادری کی تفصیل بیان کی۔2012میں جب راجہ نعمان محمود بریگیڈیئر تھے تو بھارتی فوج کے ایک افسر میجر(ر) اعتبار سنگھ نے انہیں خط لکھ کر نہ صرف جرات و بہادری کی تفصیل بتائی بلکہ یہ بھی بتایا کہ آپ کے والد کو پورے اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا تھا اور وہ پیر گنج کے علاقہ میں سپرد خاک ہیں
جب لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمود راجہ شہید ہوئے تو راجہ نعمان محمودکی عمر بمشکل چار یا پانچ سال تھی۔11ستمبر 1987کو انہوں نے بلوچ رجمنٹ کے ذریعے افواج پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کو کمانڈ کیا۔آئی ایس آئی میں ڈی جی اینالسز رہے۔بطور لیفٹیننٹ جنرل جی ایچ کیو میں آئی جی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی تعینات ہوئی۔بعد ازاں کور کمانڈر پشاور کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔نومبر 2022 میں جب آرمی چیف کی تعیناتی کا مرحلہ آیا تو وہ نیشل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریزیڈنٹ تھے اور ان کا نام بھی متوقع امیدواروں میں شامل تھا۔
ہاں ،میں عادی مجرم ہوں۔بلال غوری کا روزنامہ جنگ میں کالم
اادہ تو یہ تھا کہ رہا ہوتے ہی اسیری کی روداد بیان کرونگا مگر یہ مشاہدات اور تجربات اُدھار رہے۔ سردست مجھے ایک اور قرض چکانا ہے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ انہوں نے جو فرمایا ،سب میراسرمایہ ۔سال میں دو مرتبہ حکومت اپنے منظور نظر افراد کو تمغے اور اعزازدینے کا اعلان کرتی ہے مگر قبلہ طلال چوہدری نے مجھے جو تمغہ امتیاز عطا فرمایا ہے وہ سب سے بیش قیمت اور قابل قدر ہے ۔سرتسلیم خم،میں عادی مجرم ہوں ۔خارزار صحافت میں قدم رکھا تو اساتذہ نے یہی درس دیا کہ ’’ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا‘‘۔یہی وجہ ہے کہ کبھی قلم کی حرمت پامال ہونے یا اساتذہ کے شرمسار ہونے کی نوبت نہیں آئی ۔مسلم لیگ ن کی دوتہائی اکثریت جب پرویز مشرف کے دور میں 15نشستوں تک محدود ہوگئی تو زباں بندی اورقحط صدا کے اس دور میں جاوید ہاشمی جیسے ’’باغیوں‘‘کیلئے آواز اٹھائی ۔آپ شاید تب بھی تنظیم سازی میں مصروف رہتے ہوں گے ۔
مشاہد اللّٰہ خان ، عرفان صدیقی اور صدیق الفاروق جیسے قدآور لوگ تورخصت ہوئے ،جاوید ہاشمی آپ کے نزدیک اب ’’باغی‘‘ نہیں بلکہ ’’داغی‘‘ہوچکے لیکن سینیٹر پرویز رشید حیات ہیں ،آپ نے ان سے ہی رجوع کرلیا ہوتا تو میرے جرائم کی طویل ترین فہرست دستیاب ہوجاتی ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے ہی دریافت کیا ہوتا کہ جب وہ پابند سلاسل تھیں تو میرے ناقابل اشاعت کالموں کا مجموعہ ’’لاپتہ کالم‘‘پڑھنے کے لیئےکیوں منگوایا۔ وفاقی کابینہ میں اپنے ساتھیوں سے تفصیل معلوم کی ہوتی، عطا اللّٰہ تارڑ ،احسن اقبال یا اسحاق ڈار سے پوچھ لیا ہوتا کہ جب سیاسی بندوبست کے تحت پانامہ کی آڑ میںحکومت گرانے کی کوشش کی جارہی تھی تو اس ’’عادی مجرم ‘‘کا کیا کردار رہا؟
جب ثاقب نثار المعروف ’’بابا رحمتا‘‘کی طرف سے نہال ،طلال اور دانیال کو توہین عدالت کے ہتھوڑے سے نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کیا جارہا تھا تو اس ظلم اور جبر کے خلاف آواز اُٹھانے پر میرے اہلخانہ کو اسی قسم کی پریشانیوں کا سامنا رہا ،جس نوعیت کی ابتلا وآزمائش کا سامنا آج کرنا پڑ رہا ہے۔گائوں میں میرے بڑے بھائی کو متنبہ کیا گیا کہ اسے سمجھائو ،باز آجائے ورنہ اس کی لاش بھی نہیں ملے گی ۔قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی کند تلوارسے سیاستدانوں کی گردنیں اُتاری جارہی تھیں تو اسی ’’عادی مجرم ‘‘نے نتائج کی پرواکئے بغیر کلمہ حق بلند کیا ۔مگر شاید آپ کو موسمیاتی باغی اور مزاحمت کار پسند ہیں ،وہ جو تب سوال اُٹھائیں جب آپ مشکل میں ہوں لیکن مشکلیں کافور ہوتے ہی لمبی تان کر سو جائیں ،آپ کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی مالی منفعت کے پیش نظرخاموش ہوجائیں ۔
آپ کے قائد کی طرح سمسٹر انقلابی ہوں ،جب حالات سازگار نہ ہوں سمسٹر بریک لے لیں ۔وہ جو گوبر کو گلقند قرار دیں ،آنے والوں کی راہ میں گل پاشی کریں اور جانے والوں کے عیب چنیں ۔مگر ہم گوشہ نشیں ،نہ کسی کے حلیف سخن ساز نہ کسی کے حریف دشنام طراز۔کبھی کسی حکمران کی منقبت پڑھی نہ کسی کی شان میں قصیدہ لکھا۔ہر آنے والے کی راہ میں پلکیں بچھانے اور جانے والوں کیلئے ٹسوے بہانے کا کام انہیں مبارک جن کا رزق اس خوشامد اور چاپلوسی سے وابستہ ہے ۔’’عادی مجرم ‘‘شوق کمال اور خوف زوال سے بے نیاز ہوا کرتے ہیں ۔مجھے کسی صلے یا ستائش کی تمنا نہیں، نہ ہی موجودہ حکومت سے ذاتی طور پر کوئی گلہ یا شکوہ ہے ۔ہاں ’’پیکا ایکٹ‘‘کے ذریعے جس طرح صحافت کا پسند سلاسل کردیا گیا ہے اس پر اعتراض ہے ۔
جھوٹی خبر ،حقائق کے برعکس تجزیئے یا من گھڑت الزامات پر احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اسے قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے کر دراصل اظہار رائے کی آزادی کا تصور ختم کردیا گیا ہے ۔2021ء میں جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی طرف سے مجھے نوٹس ملا کہ آپ کے خلاف انکوائری ہورہی ہے اور میں نے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 20کے حوالے سے واضح کیا کہ جو شخص سمجھتا ہے کہ اس کی توہین ہوئی ہے وہ خود شکایت درج کرواسکتا ہے اس کی جگہ کوئی اور شخص شکایت کنندہ نہیں ہوسکتا مثلاً محکمہ زراعت کے کسی ڈائریکٹر کو لگتا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو وہ خود کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے اس کی جگہ کوئی ماتحت یا خود محکمہ زراعت فریق نہیں بن سکتا ۔متعلقہ قانون میں بھی Natural Personکا ذکر ہے مگر اس کی خلاف ورزی کرکے انصاف کا قتل عام کیا جارہا ہے۔
طریقہ کار تو یہ ہے کہ جسکے خلاف شکایت ہے اسے نوٹس جاری کرکے اپنا موقف اور صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے مگر میرے حوالے سے اس خصوصی شفقت کا مظاہرہ کیا گیا کہ جس دن وی لاگ آیا ،اسی دن نہ صرف انکوائری مکمل کرلی گئی بلکہ مجھے اٹھا کر مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ۔1/2
اسلام علیکم میں مسز بلال غوری،الحمداللہ،غوری صاحب خیریت و عافیت سے گھر واپس آ گئے ہیں، یہ سب غوری صاحب کے چاہنے والے دوست اور میرےBrother in law اور دوست احباب آ ج ان کی بدولت یہ سب ممکن ہوا،اور غوری صاحب ہمارے پاس ہیں،اور ہمیشہ کی طرح با ہمت آ واز بلند کرنے والوں کا شکریہ
این سی سی آئی کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملک امان سینئر سول جج نے کالم نگار اور سئینیر اینکر بلال غوری کو جوڈیشل کرتے ہوئے اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا بلال غوری کی ضمانت کی درخواست دائر کردی گئی جس پر سوموار کو سماعت ہوگی سٹیٹ کو نوٹس جاری کردیا گیا
#BilalGhauri
@naveedch66 میں حیران ہوں بلال غوری کے معاملے پر زیادہ تر صحافی خاموش کیوں ہیں؟
شاید اسلئے کہ سچ کا ساتھ کوئی نہیں دیتا۔
مگر حق سچ کا ساتھ اللہ تعالیٰ ضرور دیتے ہیں۔
انشاء اللہ بلال غوری صاحب جلد بخیریت اپنے گھر آئیں گے
بلال غوری کی سادہ صحافت
بلال غوری تعلیم یافتہ اور صاحب مطالعہ صحافی ہے، مہذب اور شائستہ انداز میں لکھنے اور بولنے والا، محبِ وطن اور آئین پسند، قانون کا احترام کرنے والا۔ انہیں جس وی لاگ پر اٹھایا گیا، اسے مختلف الخیال صحافیوں، سیاسی اور سماجی حلقوں نے بے ضرر قرار دیا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ وہ نہ سازشی ہے، نہ کسی کے ایجنڈے پر چلنے والا۔ چھپانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ گرفتاری ہوتے ہی بلال غوری نے ایک پراعتماد اور باضمیر صحافی کی طرح سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پاس ورڈز بھی بتا دیے، اس کے باوجود وہ آج تک جیل میں ہے۔عدالت کا فیصلہ بہرحال ماننا پڑتا ہے۔ آج ضمانت ہونے کا قوی امکان تھا، مگر سرکاری وکیل کی طبیعت خراب تھی، اس لیے سماعت پرسوں پر جا پڑی۔ ان شاء اللہ، وہ تو رہا ہو ہی جائے گا، لیکن اس حوالے سے زیادہ تر نام نہاد صحافتی تنظیموں کی “ پراسرار خاموشی “ یاد رکھی جائے گی۔ہر پیشی پر پروفیشنل صحافی دوست موجود ہوتے ہیں۔اکثر احباب کی رائے ہے کہ اگر بلال غوری کی صحافتی تربیت بھی اسی نرسری سے ہوئی ہوتی جہاں سے پی ٹی آئی میڈیا بریگیڈ اور اس سے پہلے ’’منتخب میڈیا پرسنز‘‘ کی ہوتی آ رہی ہے، تو وہ جس کے بارے میں جو جی چاہے کہتا، آزاد ہوتا۔ ڈالر بھی کماتا، اہلیت کی کمی ہے نہ قابلیت کی۔ کسی بڑے میڈیا ہاؤس میں بھی ہفتے میں تین، چار دن 40، 45 منٹ کا ٹاک شو بھاری معاوضے پر حاصل کر سکتا تھا۔
رزقِ حلال کمانے کے لیے سیدھی سادی ، غیر جانبدارنہ ، اصولوں پر مبنی صحافت کی جدوجہد بلال غوری کا جرم بن گئی ہے ؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر کوئی ’’بدلتے زمانے‘‘ کے ساتھ خود کو نہیں ڈھال سکتا!