خاتون اسلحہ بردار گارڈ کے ساتھ کرنل کا انتظار کررہی تھیں کہ جیدے ہی کرنل آئے احتجاج کرنے والے طلباء پر ہلہ بولا جاسکے۔ لیکن قدرت انتظار کررہی تھی کہ جیسے ہی کرنل آئے اسے پوری فوج پورے ادارے کے لیے ذلت کا سامان بنا دیا جائے۔
Imran Khan's former wife, British film producer and screenwriter Jemima Goldsmith, has raised the alarm.
If the British government remains a silent bystander and allows Pakistan's military dictator to cause irreversible harm to Imran Khan's health or, God forbid, even his life, it will be a betrayal of its professed values of democracy and fundamental rights.
#TorturingImranKhanIsACrime and @Jemima_Khan has appealed to her government to prevent it from continuing.
دو دن میں دو بڑے سانحات ہوئے سرحد یونیورسٹی بچوں پر فائرنگ پمز اسپتال 14 بچے جلس گئے لیکن بیغیرت عوام ٹس سے مس نہیں ہوئی سب اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے
کیا اس افسوسناک واقعے کے بعد ملک بھر کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی ایگزٹس ، فائر ایگزٹس چیک ہوئے ہیں ؟ آگ بجھانے والے آلات مہیا کیے جارہے ہیں ؟ فائر الارمز لگائے جارہے ہیں ؟ کیا کٹھ پتلی حکومت یا قابض فوج نے کسی ہنگامی ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے؟
نہیں ! تو اسکاطلب ہے یہ حادثہ نہیں نااہلی اور جرم ہے۔ پھر ابھی آپ میں سے مزید کچھ بھی مریں گے۔ رونا پیٹنا ڈالنے سے ، کمیٹی بنانے سے ، استعفی دو اور لو کے شور سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ آپ نے سبق نہیں سیکھا۔
کوٹ لکھپت جیل سے میان محمود الرشید کو اچانک اسپتال منتقل کیا گیا، آپریشن ہوا اور اس کے فوری بعد جیل منتقل کردیاگیا،، ن لیگ نے جبر فسطائیت کی ڈوز مزید بڑھا دی ہے،، اعجاز چوہدری کے گردے صرف 30 فیصد کام کر رہے ہیں لیکن انہیں پھر بھی اسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا، یاسمین راشد کا سانس کا عارضہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،
کتنا تکلیف دہ منظر ہے۔ جس پمز ہسپتال کے قصیدے پڑھ پڑھ کر پوری فارم 47 حکومت تھک نہیں رہی تھی،
اس کے نومولود بچوں کے وارڈ کی صورتحال ملاحظہ ہو کہ آگ لگ گئی اور کوئی آگ بجھانے والا نہ تھا۔
بچے جل گئے۔ والدین بچوں کا پوچھ رہے ہیں اور بچے ان کے حوالے نہیں کیے جا رہے۔
کبھی بھی پاکستان کی ترقی ، استحکام ، اور خوشحالی کا کوئی بھی سفر فوج کی سیاست سے بیدخلی کے بغیر شروع نہیں ہوگا۔ لیکن فوج کبھی بھی از خود ، یا خدا کے خوف سے متاثر ہوکر ، یا کسی دانشور کے لمبے لمبے تبصروں سے متاثر ہوکر اپنے پلاٹ ، اپنی مراعات ، اس ملک پر طاقتور ترین کنٹرول نہیں چھوڑے گی۔ باقی حساب خود لگا لیں کہ آپ کو کرنا کیا ہے۔
ملک آج ایک بڑے سانحے پرغم میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ڈاکٹر یاسمین راشد کے حلقے لاہور میں آج میلاد نبوی کا لنگر تقسیم کرنے کے پروگرام پر بھی پولیس نے دھاوا بول کر متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
مبین احمد ایک جانثار پرامن ورکر ہے جو تشدد پر یقین نہیں رکھتا، آج کے بابرکت دن ایسے پرامن نوجوانوں کو گرفتار کرنا چنگیزیت کے علاوہ اور کچھ نہیں !!
🚨جماعت اسلامی دس دن سے ملک بھر میں احتجاج کررہی ہے ، پوری ریاست ان کو پروٹوکول اور تحفظ فراہم کررہی ہے
دوسری طرف آج ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ اور زبیر نیازی کے حلقے میں میلاد شریف کا پروگرام رکھا گیا اور اس کے بعد لنگر تقسیم کیا جارہا تھا تو پنجاب پولیس زبیرخان نیازی کی والدہ سمیت شرجیل نیازی، سعدیہ ایوب، مبین احمد، خالد اعوان اور دیگر پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرکے لے گئی
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد واقعہ، ایک سول یونیورسٹی میں فوج کی یونیفارم میں اسلحہ لے کر طالب علموں کو گالیاں دینے، سیدھی پسٹل تاننے اور ہوائی فائرنگ کر کے پورے کیمپس کو ہراساں کرنے والے کرنل کے خلاف سخت ترین محکمانہ کاروائی کی بجائے 25 طالب علموں پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی، یہ وردی کا مجرمانہ استعمال اور وردی کی بے توقیری ہے، پھر الٹا جن بچوں پر بدمعاشی کی گئی ایف آئی آر اور چھاپے بھی انہیں پر پڑ رہے ہیں دھمکیاں بھی انہیں دی جا رہی ہیں، وردی کو اس حال میں پہنچانے والا عاصم منیر کا کالا قانون ہے جس میں ہر فوجی کو سویلینز پر ہر قسم کی بدمعاشی کی کھلی چھٹی ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
جو بچے شہید ہوئے ابھی ان کو پیدا ہوئے چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے۔ اس سانحے میں جو کوتاہیاں سامنے آئیں وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
1- انتظامیہ کو بارہا بتایا گیا کہ ائرکنڈیشن سسٹم بار بار ٹرپ کررہا ہے لیکن کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔
2- ایمیرجینسی راستے مستقل بنیادوں پر بند تھے۔
3- ایمرجینسی فائر الارم سسٹم بند تھا۔
4- ڈیوٹی پر مکمل عملہ موجود نہیں تھا انچارج بھی چھٹی پر تھا۔
5- جب فائر برگیڈ اور ریسکیو کا عملہ پہنچا تو ہسپتال کے گیٹ بند تھے کسی نے فوری گیٹ نہیں کھولا جس سے ریسکیو جلدی پہنچ کر امدادی کاروائیاں کرتی۔
6- ہسپتال کی منیجمنٹ کوئی ریکارڈ پیش نہیں کر رہی، نہ اس کو سسپنڈ کیا گیا ہے،سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کرنا کافی نہیں سب سے پہلے تو اس ذمہ دار مینیجمنٹ کو ہٹانا چاہئے۔
شعیب شاہین
سانحہ پمز۔۔
جب تک نوازشریف/شہبازشریف/آصف زرداری/مریم نواز علاج کیلئے امریکہ،برطانیہ،سوئٹزرلینڈ اور دبئی جاتے رہیں گے،جب تک حکمرانوں کے ڈاکٹر اور ہسپتال ملک سےباہر ہوں گے،جب تک حکمران طبقہ اپنا علاج اپنے سرکاری ہسپتالوں میں نہیں کروائےگا تب تک ہمارے سرکاری ہسپتال ڈنگر ہسپتال ہی رہیں گے اور تب تک ہمارے بچے ایسے ہی مرتے رہیں گے۔۔
بچوں کا معاملہ بہت ہی نازک ہوتا ہے۔ ایسا خوفناک سانحہ کہیں بھی پیش آسکتا ہے۔ جن حکمرانوں کو دنیا جہان کی ذلت سمیٹ کر کبھی شرم نہیں آئی انہیں غفلت کی نشاندہی پر کہاں سے آئے گی۔
بچوں کے والدین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے کچھ پرہیز رکھیں اور یوٹیوبرز سے بھی گزارش ہے کہ اسے اپنی ریٹنگز کا موضوع مت بنائیں اور ورثاء کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکے غم کو مت چھیلتے رہیں۔ زیادہ زور کی صحافت آئی ہوئی ہے تو ملک کے سبھی ہسپتالوں کے سیفٹی سٹینڈرز ، فائر ایگزٹس ، اور دیگر سہولیات کا کچہ چٹھہ کھولیں۔
پمز میں مصطفیٰ کمال کی میڈیا ٹاک کے دوران عام شہریوں نے کڑے سوالات کر دیے تو صورتحال بگڑ گئی، میڈیا ٹاک ادھوری چھوڑ کر روانہ ہونا پڑا۔
مصطفیٰ کمال اپنی گاڑی کے بجائے ہسپتال کی گاڑی میں دوسرے راستے سے روانہ ہوئے۔
آخر عام شہریوں کے سوالات سے اتنی گھبراہٹ کیوں؟ سوال تو بنتا ہے اپکی نا لائقی نا اہلی پر جسکی وجہ کئی گھروں کے چراغ گل ہوگئے ۔
#PIMS