والدِ محترم رحمہ اللہ کا یہ کلپ 2004 میں انکے ”دورہ بھارت کے دوران ممبئی“ میں کیئے گئے ایک خطاب سے لیا گیا ہے۔ آج اس کلپ کا ایک چھوٹا سا حصہ بہت شیئر ہوا حتی کہ مختلف ٹی وی چینلز نے بھی دکھایا۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ بھارت میں دیا گیا والدِ محترم کا یہ بیان بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کا حرفِ اول بن گیا۔ اللہ اکبر وللہ الحمد ! براہ کرم اس کلپ کو آخر تک سماعت فرمائیں۔
تم یہ بات ضرور محسوس کر لوگے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دُشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں،اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔
﴿سورۃ المائدۃ، ۸۲﴾
جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، اُنہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دِفاع میں لڑیں) کیونکہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دِلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
﴿سورۃ الحج ، ۳۹﴾
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا؛
’’ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اپنے دل میں بھی جہاد کی نیت نہیں کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ۔“
(سنن ابوداؤد ، ۲۵۰۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
وٹس ایپ چینل پر فالو کرنے کےلیے :
https://t.co/0kivl07RBU…
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى”
“اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔
( جامع ترمذی،۳۴۸۹)
جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“،
(راوی کہتے ہیں)
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟
آپ ﷺنے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ ﷺنے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ ﷺنے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پورا وقت آپ ﷺپر درود پڑھا کروں؟ ۔
آپ ﷺنے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔
(جامع ترمذی،۲۴۵۷)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
“میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد، احمد اور ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا میرے بعد حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں یعنی خاتم النبین ہوں۔ میرے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آئے گا۔“
(صحیح بخاری،۳۵۳۲)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے۔
(سنن ابن ماجہ ، ۹۰۷)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
" جمعے کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو ( اس وقت ) اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا : خاموش رہو تو تم نے فضول گوئی کی ۔
(صحیح مسلم،کتاب جمعہ کےاحکام،۱۹۶۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-
ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
(صحیح بخاری، ۱۷۷۳)
(لوگو!) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دُھن لگی ہوئی ہے، جو مؤمنوں کے لئے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔
﴿سورۃ التوبۃ ، ۱۲۸﴾
کہہ دو کہ : اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
﴿سورۃالزمر ،۵۳﴾
اے پیغمبر(ﷺ)! سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔ یاد رکھو کہ فجر کی تلاوت میں مجمع حاضر ہوتا ہے۔
﴿سورۃ الاسراء، ۷۸﴾
﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾