پاکستانی قوم عمران خان کو پچاس سال سے جانتی ہے۔ ان سالوں میں عمران خان نے کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ کبھی ان کو دھوکہ نہیں دیا۔ کبھی اپنے ملک کے لیے ندامت کا باعث نہیں بنا۔ ہمیشہ اس کی بہتری کے لیے کوشش کی۔ ہمیشہ اس کے لیے عزت اور نام کمایا۔ ہمیشہ اپنے لوگوں کے راستے میں آسانیاں بکھیریں۔
تب بھی جب دنیا کو اس کی جیت ناممکن لگتی تھی۔ تب بھی جب اس کے اپنوں کو بھی اس کے خواب اس کے قد سے بڑے اور غیر مرئ لگتے تھے۔ تب بھی جب اس کا مِشن دیوانے کی بَڑ گردانا جاتا تھا۔ اور آج بھی جب اندرونی اور بیرونی تمام طاقتیں اس کو گرانے کے لیے یکجا ہوگئ ہیں۔ وہ اپنی قوم کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔ اور ڈٹا رہے گا۔ اگر اس نے کہا ہے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک لڑے گا تو ہم جانتے ہیں کہ وہ لڑیگا۔ ہمیں اس کے دعوی کی صداقت جانچنے کے لیے اسے آزمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ نصف صدی سے ہمارا آزمایا ہوا ہے۔ مگر وہ سہہ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سہتا رہے اور ہم آنے والے برسوں میں اس کی بہادری کو لوک گیتوں میں بیان کریں۔ عمران خان آنے والی نسلوں کے لیے ایک دیومالائ کردار ہوگا لیکن اس کی داستان میں ہم کیسے یاد رکھے جائیں گے ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔
“وہ ٹوٹ نہیں رہا، اس کے حوصلے بلند ہیں، وہ ہزار سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہے”۔۔ یہ سب باتیں جہاں عمران خان کی اول العزمی کی تعبیر ہیں وہیں ۴۰ دن سے بے گناہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلتا عمران خان ہماری کم مائیگی کی دلیل، ہماری ذلت کا ثبوت ہے۔جہاں دنیا سے الگ تھلگ، کال کوٹھری میں اپنی ایمان کی طاقت کے دم پہ بیٹھے اس شخص پر روز و شب کا پھیر بندگی کے نئے رموز آشکار کر رہا ہو گا۔ وہیں ہمارے ہر دن کی شام ہمارے قریب تر آتے زوال کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ ہر ڈوبتا سورج ہماری پستی کا تماشہ دیکھتا جارہا ہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے نظریں ملانے کے لیے اس کی نظروں میں معتبر ہونا درکار ہے۔ ہمیں اپنی حمیت کے لیے اس کی خوداری کی حاجت ہے۔ ہمیں اپنی بقا کے لیے اس کے عزم کی ضرورت ہے۔
اس کی لڑائ لڑنا ہم پر اپنے پرکھوں کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے لازم ہے، اپنی نسلوں کے آگے بہرہ مندی کے لیے واجب ہے۔
اس کی بہادری میں اپنے لیے اطمینان نہیں، خلش ڈھونڈیں۔ اس کے چہرے کے سکون میں اپنے لیے تسلی نہیں ارتعاش تلاش کریں۔اس کا عزم آپ کی روح کے لیے تھپکی نہیں تازیانہ ہے۔ ثابت کریں کہ ہم اس کے قابل ہیں۔ ثابت کریں کہ صرف وہ نہیں لڑا ہمارے لیے ہم بھی اس کے لیے لڑنا جانتے ہیں۔
سوال کریں!
گلی، محلوں، چوک، چوراہوں، سڑکوں پر۔ گھروں میں۔ انفرادی طور پر، اجتماعوں میں۔ زبان سے۔ عمل سے۔ پوچھیں کہ وہ کس جرم کی پاداش میں قید ہے۔ پوچھیں کہ اس کو پابندِ سلاسل رکھ کر قوم کی کیسی نیک نامی، کون سی خدمت ہورہی ہے۔ بتائیں کہ اس کا گناہ اپنی ملت کا سودا نہ کرنا ہے۔ بتائیں کہ اس کا قصور ہماری غیرت پر سمجھوتا نہ کرنا ہے۔ بتائیں کہ یہ نظام اس کو نیچا دکھانے کے لیے کتنا گر چکا ہے۔ بتائیں کہ اس کو ہرانے کے لیے کیسے جائز اور نا جائز کے معیار تلپٹ کر دیے گئے ہیں۔
بولیں! آواز اٹھائیں۔ اس سے پہلے کے اس کا حوصلہ، ہمارا پچھتاوا بن جائے۔
اِس سے پہلے کہ مائیں بچوں کو لوریوں میں اس کی کہانی سنائیں اور ان میں ہماری حیثیت کسی بدنما کیدو جتنی بھی نہ رہی ہو۔
Its an answer to those asking who is he?
He is the man Of his words he rules the hearts he is Mr Imran Ahmed Khan Niazi the heartbeat of pakistan.
He is the Man who has the power to make people sell everything for his love
Can you??
Noo you can’t don’t even try
#imrankhanPTI
میری دو دسمبر کو عمران خان سے ملاقات ہوئی، وہ بہت غصے میں تھے، میں نے پہلی بار ان کو اتنا ڈسٹرب دیکھا، عمران خان پر ذہنی تشدد کیا جا رہا ہے، عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے یا میری بیوی یا فیملی کو کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہوگا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان
“دیکھیں ISPR صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو!”
- عمران خان
#PakistanLovesImranKhan