ملائیشیا کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی اہلیہ 100 سالہ ڈاکٹر حسمہ محمد 70 سال کی رفاقت کے بعد
آج کوالمپور میں انتقال کر گئیں۔
101 سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ان سے 7 بچے، 18 پوتے پوتیاں اور 4 پڑپوتے ہیں
ڈاکٹر مہاتیر اپنی بیوی کو کامیابی کی وجہ اور وہ مہاتیر کو اپنا ہیرو قرار دیتی تھیں۔
اپریل 2022 میں کہتے تھے عمران خان کی حکومت ختم کر دیں تو ہمارے مسئلے حل ہو جائیں گے، آج صورتحال یہ آگئی ہے کہ اب آپ کو لگتا ہے کہ عمران خان کے لڑکوں کی حکومت ختم کرکے مسئلہ حل ہو جائے گا، I am sorry to say، آپ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، عمردراز گوندل
"میں عالیہ حمزہ کیلئے پریشان تھی تو مجھے کہا گیا کہ 2037 تک بھول جاو، استثنی لیکر، آئین میں دو تین شقیں ڈال کر اور قانون بدل کر خدائی دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ سیاستدان اقتدار کیلئے جوتوں میں منہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں، عالیہ حمزہ کے شوہر کینسر سروائیور ہیں، عالیہ کی چھوٹی بیٹی کی آنکھوں میں خوف اور آنسو جم چکے ہیں، انکے گھر میں مستقل ماتم کی فضا ہے، عالیہ کی سالگرہ پر بیٹی جیل میں کیک لے گئی جو نہیں لے جانے دیا گیا، ماں جیل کی تنگ جالی سے صرف انگلی نکال کر بیٹی کو چھو رہی تھی، عالیہ حمزہ کی گاڑی، فرنیچر، الماریاں، ٹی وی اور بچیوں کا لیپ ٹاپ تک توڑا گیا، دروازے پر گھنٹی بجے تو بچے گھبرا جاتے ہیں"
سابق ایم این اے @Saira_Banokhan@DRTPakistan
عمران خان کی کشمیر اور بھارت کے حوالے سے پالیسی بہت تگڑی اور موثر تھی جبکہ اسٹیبلشمنٹ برطانوی ہائی کمشنر کی درخواست پر عمران خان کو ہاتھ ہولا رکھنے کا کہا کرتی تھی ۔۔۔ یہ کہنا ہے نسیم زہرا اور مشاہد حسین سیدّ کا جو کبھی پی ٹی آئی کے حامی نہیں رہے۔
ہم سب کو ماتم کرنا چاہیے، ہم سب کو شرمندہ ہونا چاہیے، ہر اس شخص کو مجھ سمیت معافی مانگنی چاہیے قوم سے، کہ ہم لوگ سمجھتے تھے کہ ن لیگ حکومت میں آ کر سب ٹھیک کر دے دی،
آئیندہ کبھی زندگی میں ہم مسلم لیگ ن کو سپورٹ نہیں کریں گے، ایڈووکیٹ میاں داؤد
کسی نے کہا تھا کہ اگر انڈین بالی ووڈ اداکار قادر خان کی ویڈیو سامنے ا جاۓ تو اسے Skip مت کجیے گا ۔۔۔
اج یہ ویڈیو دیکھ کر وہ بات سچ معلوم ہوتی ہے ویڈیو لازمی دیکھیے ۔۔
قادر خان کہتے ہیں اس فقیر کی اک بات یاد رکھنا زندگی کا انداز بدل جاے گا ۔
اب وہ بات انکی زبانی سنیں ۔۔۔
انہی عدالتوں سے ہم نے انصاف لینا ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم نے اسی ملک میں رہنا ہے۔
آغا شیخ سرور کی عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو۔
#نکلو_ڈٹ_جاؤ_خان_کیطرح
آپ نے خیبرپختونخواہ میں ہونیوالی دہشتگردی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو ٹھہرایا تو کیا بلوچستان میں ہونیوالی دہشتگردی کا ذمہ دار سرفراز بگٹی ہے ؟ دوسری بات یہ کہ طلال چوہدری نے کہا کہ 70 فیصد افغانی بارڈر کراس کر کے آتے ہیں اور دہشتگردی کرتے ہیں اب تک کوئی نظام کیوں نہ بنایا جا سکا کہ انہیں بارڈر پہ روکا جا سکے ! ثقلین سماء نیوز ۔۔
عطا تارڑ بارڈر والے سوال کا جواب گول کر گئے ۔۔
اہم ترین 🚨
قاسم خان کا انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو، ان لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام، کرپٹو کرنسی، پاکستان کی قدرتی معدنیات کی رشوت دی
اس انٹرویو کو ہر جگہ پھیلا دیں
عمران خان صاحب کی بھانجی ، نورین نیازی صاحبہ کی بیٹی حاجرہ نیازی صاحبہ کا ٹویٹ
حاجرہ نیازی @Hajraniazi3
کہتی ہیں کہ
ایک خاندان کی حیثیت سے ہم اپنی والدہ نورین نیازی اور خالاؤں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں، جو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں غیر قانونی طور پر قید اور زیرِ حراست ہیں۔
ان کی گرفتاری کے بعد سے ہمیں ان تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کے وکلا میں سے بھی کوئی ان سے ملاقات یا رابطہ نہیں کر سکا۔
براہِ راست رسائی نہ ہونے کی صورت میں ہمارے پاس ان کی خیریت سے متعلق اس وقت گردش کرنے والی افواہوں اور رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
یہ عمر رسیدہ خواتین ہیں اور انہیں طبی ضروریات لاحق ہیں، جن میں باقاعدگی سے ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کا یہ بنیادی حق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ محفوظ ہیں، انہیں درکار طبی سہولیات اور دیکھ بھال مل رہی ہے اور ان کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جا رہا ہے۔
ہم اپنے ماموں عمران خان کے معاملے میں بھی ایسا پہلے دیکھ چکے ہیں۔ جب ان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ان تک رسائی سے محروم رکھا گیا تو ان کی صحت کے بارے میں افواہیں اور متضاد رپورٹس بغیر کسی تصدیق کے گردش کرتی رہیں۔ جب ان کی حالت کا علم ہوا، اس وقت تک ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
ہم صرف اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ایک بنیادی اور مسلمہ حق ہونا چاہیے، یعنی ہماری والدہ اور خالاؤں تک رسائی۔
ان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات کرنے، ان سے بات کرنے اور خود یہ دیکھنے دیا جائے کہ وہ محفوظ ہیں اور انہیں درکار طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔
حاجرہ نیازی
موجودہ حالات میں شیخ رشید اکلوتے شخص ہیں جن کو لیکر انتظامیہ پریشان ہے کہ ان کا کیا کیا جائے ؟
اول انہیں پی ٹی آئی چھوڑنے کا نہیں کہہ سکتے کیونکہ شیخ کبھی پی ٹی آئی میں تھے ہی نہیں۔
دوم ان کی پارٹی بھی نہیں توڑ سکتے کیونکہ اس پارٹی میں ایک ہی بندہ ہے۔
سوم بیوی کو بھی نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ بیوی بھی نہیں ہے ۔
چہارم بچوں کی دھمکی بھی نہیں دے سکتے کیونکہ بچے بھی نہیں ہیں ۔
سنگل لائف از بیسٹ
نہ ڈھولا ہوسی ... نہ رولا ہوسی 😆😂🥴🤧
#کاپی
وزیراعظم کی تقریر میں بڑی عجیب بات ہوئی اور وزیراعظم بھی اس سے بڑے پریشان تھے جو چند لوگ ان کی تقریر کے دوران آ گئے تھے وہ ہر بات پر تالی بجا رہے تھے ابھی فقرہ مکمل ہوتا نہیں تھا تو وہ تالی بجا دیتے تھے یہ لوگ اگر گیلری میں آ ہی گئے تھے تو کم از کم انہیں بتا دیا جاتا تالی کب بجانی ہے
عبدالباسط
وہ پٹواری تھے انہیں انگلش نہیں آتی تھی وہ 45 سیکنڈز بعد تالی پیٹنا شروع کر دیتے تھے شہباز شریف کوئی خوشی کی بات کر رہا ہو چاہے غم کی
ہم نے آپریشن کر کے ان کو اپنے علاقوں سے نکالا تو ہماری MIاور ISI انہیں واپس لے آئی اور کہا یہ گُڈ طالبان ہیں آپ ان کا استعمال کرو
میں نے تب بھی کمیٹی میں کہا تھا اگر یہ طالبان اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ انہیں اپنی فوج میں بھرتی کر کے کشمیر میں لڑا لو
ماضی میں علی امین کا دیا گیا بیان
اختیار ولی کے تحریک انصاف کو "لوفر اولاد " کہنے پر سینیٹر ہمایوں مہمند کا جواب۔۔"ماں باپ کی نالائقی ہے کہ ان کا بیٹا 'لوفر' ہو گیا ہے۔ جب بچے لوفر ہوتے ہیں تو وہ گھر سے پیسے چوری کر کے کسی اور جگہ پہ لگا لیتے ہیں، چھپ چھپا کے، ماں باپ کو بتائے بغیر جائیدادیں بنا لیتے ہیں، جب وقت آتا ہے تو اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ جاتے ہیں، وہ شخص لوفر نہیں ہو سکتا جو مشکل وقت میں اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہے، جو اپنے گھر اور عوام کا پیسہ چوری کر کے باہر جائیدادیں نہ بنائے وہ لوفر نہیں ہوتا"۔ سینیٹر ہمایوں مہمند
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ماشاءاللّٰہ مشتاق احمد کی وصیت سب حیران ہوگئے
جنازے سے پہلے بالی ووڈ کے معروف اداکار مشتاق احمد خان کی ایسی مبینہ وصیت سامنے آگئی جس نے سب کو جذباتی کردیا! مسلم میڈیا بھارت کے مطابق مشتاق احمد خان نے اپنی وصیت میں واضح کیا تھا کہ اپنی جائیداد میں سے اولاد کا حصہ اسلامی طریقے کے مطابق دیا جائے جبکہ ایک کنال زمین انہوں نے مسجد کے لیے وقف کر رکھی ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کی وفات کے بعد اسی زمین پر مسجد تعمیر کی جائے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ وصیت ممبئی کی مسجد بلال کے امام محمد اویس کو ان کی اہلیہ نے سنانے کے لیے دی۔ وصیت سنتے ہی مشتاق احمد خان کے بڑے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ والد کی تدفین کے فوراً بعد امام محمد اویس کے ساتھ مل کر مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور میں اپنے ذاتی پیسوں سے اپنے والد کے لیے یہ مسجد تعمیر کروں گا تاکہ جب تک اس مسجد میں اللہ کا نام لیا جاتا رہے میرے والد کو اس کا ثواب ملتا رہے۔ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو ایک اداکار کی زندگی کی آخری خواہش اب ایک ایسی مسجد کی صورت میں زندہ رہ سکتی ہے جو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے