اور میں نے جنات اور اِنسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے کسی قسم کا رِزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزّاق ہے، مستحکم قوت والا!
﴿سورۃ الذاریات، ۵۶-۵۸﴾
سوشل میڈیا کا بھی عجب فنڈہ ہے
آپ اپنے آپ کو جتنا مرضی بڑا اکاونٹ سمجھیں سلیبرٹی یا مقبول سمجھیں
آپ کے افلائن ہوتے ہی لوگ بھول جاتے ہیں دو سے تین دن بعد اپکے نوٹیفکیشن
خاموش ہوجاتے
جو شخص آپکی طرف رغبت یا چاہت رکھتا ہو اس سے بے رغبتی دکھانا دور رہنا آپ کے خسارے کا سبب ہو گا اور جو آپ سے دوری اختیار کئے ہوئے ہے اسکے پیچھے لگنا خود اپنی تذلیل کا باعث ہو گا..
کیا پیسہ شخصیت بنانے میں کردار ادا کرتا ہے؟
شخصیت کے دو پہلو ہوتے ہیں - ایک ظاہری اور ایک باطن
اگر ہمارے پاس پیسے کے ساتھ دماغ بھی ہے، تو بالکل پیسہ شخصیت بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے - لیکن وہ صرف ظاہری کردار ہوگا
یہ وہ ظاہری کردار ہوگا، جس کو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں - اور پھر لوگ ہمارے بناو سنگھار، اوڑھنے بچھونے، اسٹائل، رویے، گیجٹس وغیرہ کو دیکھ کر ہمیں جج کرتے ہیں
اور اس چیز کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب چیزیں اہم نہیں ہیں - ایسا ہرگز نہیں ہے
ظاہری شخصیت بہت زیادہ معاشرے میں اہمیت رکھتی ہے - اور ہمارے روزمرہ کے معمولات اور لوگوں سے ملنے جلنے میں اس کا بہت بڑا رول ہوتا ہے
لیکن پھر بات آتی ہے اندرونی شخصیت کی ...
اس چیز کا پیسے سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے - رتی برابر بھی نہیں
ہمارے اندر جو چیز ہوتی ہے چھپی ہوئی، اس کا تعلق ہماری روحانیت سے ہوتا ہے
جس شخص کا ایمان جتنا مضبوط ہوگا، اس کے اندر کی شخصیت اتنی ہی زیادہ پختہ ہوگی - اور پھر ایسا شخص ہر معاملے میں اخلاق، ادب، تمیز، تہذیب وغیرہ کا بھی خیال رکھتا چلا جائے گا
یہ جو ہماری اندرونی شخصیت ہوتی ہے، اس کا رول ہمارے اعمال/ایکشن کے ساتھ ہوتا ہے - اور یہ بتاتی ہے کہ ہم معاشرے میں کس طرح سے اپنا رہن سہن رکھنا چاہتے ہیں
خلاصہ ...
تو پیسہ ظاہری شخصیت کے لیے تو بہت ضروری ہے، مگر اس کا کوئی تعلق بھی ہماری اس شخصیت سے نہیں ہے جو ہمارے اندر موجود ہوتی ہے
اپنے ظاہر اور باطن کو ہم کیسے manage کرتے ہیں، یہ ہم پر depend کرتا ہے - کیونکہ یہ دونوں چیزیں مل کر ہی ہمیں مکمل کرتی ہیں اور ہماری پہچان بنتی ہیں
ہم خود غلط ہوتے ہیں اور یہ بات ہم باخوبی جانتے بھی ہیں مگر ضد اور انانییت جیسی عفریت کا شکار ہوکر اپنے آپ یا اپنے عمل کو غلط ماننے پر تیار نہیں ہوتے اور یوں غلطیوں پر غلطیاں کر کے غلطی کو تسلیم کرنا تو دور کی بات غلطی کی شناخت کے قابل بھی نہیں رہتے۔
#غالبیات
اچانک رونما ھونے والے کچھ واقعات آپ کی ساری زندگی کی فلاسفی فیل کر دیتے ہیں تبھی کہا جاتا ہے یہ زندگی تو بس خسارہ ہے بس وہی کامیاب جس نے آگے کی زندگی کے لیے انوسٹمنٹ کر لی وہ میری نظر میں عاجزی ہے ایک خوبصورت دل ❤️ ہے
گڈ مارننگ حسیں لوگو ❤️