@KeepsamM کیا آپ نے کبھی دجال کا نام سنا ہے؟ دجال آپ کو وہ کچھ دے گا جو آپ کو کوئی نہیں دے سکتا۔ میرا مطلب ہے دولت۔ دجال تمہیں دولت دے گا۔ کیا آپ دجال کی پیروی کریں گے؟
@KeepsamM Have you ever heard the name of Dajjal? Dajjal will give you something that no one else can give you. I mean wealth. Dajjal will give you wealth. Will you follow Dajjal?
شریف برادران کیلئے ہر محاذ پر لڑنے اور ذلیل ہونا والا اختیار ولی کو شادی کی دعوت نہ دینا صرف زیادتی نہیں بلکہ ظلم و جبر ہے۔
شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ 😂😂😂
اظہارِ لاتعلقی
میں آج باضابطہ طور پر ٹیم سرِعام سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔ میں نے بطور رضاکار ٹیم سرِعام کے ساتھ اپنی خدمات اس خلوصِ نیت سے سرانجام دیں کہ جب سید اقرار الحسن نے اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی تو اس کا مقصد صرف اور صرف خدمتِ خلق تھا۔
ابتداء میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی تھی کہ ٹیم سرِعام بطور پلیٹ فارم کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی اور نہ ہی سیاست میں حصہ لے گی۔ تاہم اب حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ ٹیم سرِعام کے بانی سید اقرار الحسن نے ذاتی حیثیت میں ایک سیاسی جماعت قائم کر لی ہے۔
یقیناً ہر فرد کو آزادیِ رائے حاصل ہے اور سیاست میں آنا یا سیاسی جماعت بنانا اس کا ذاتی حق ہے، مگر ہزاروں رضاکاروں سے یہ یقین دہانی کروانا کہ اس پلیٹ فارم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، اور پھر اسی بانی کی جانب سے ذاتی طور پر سیاست میں قدم رکھنا، میرے لیے باعثِ تشویش و تعجب ہے۔
یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ٹیم سرِعام کے دوران ہمیں کبھی کسی غلط کام پر مجبور نہیں کیا گیا۔ ہم نے نیک نیتی سے عوامی خدمت کی اور متعدد اچھے کام انجام دیے۔ تاہم ان خدمات کا عمومی تاثر اور کریڈٹ زیادہ تر ایک ہی شخصیت سے منسوب رہا، جبکہ ہمارا مقصد محض عوامی خدمت تھا۔
لہٰذا میں آج پورے احترام کے ساتھ ٹیم سرِعام سے لاتعلقی اختیار کرتا ہوں اور سید اقرار الحسن کو بھی خیرآباد کہتا ہوں۔ ان کے ساتھ اور اس پلیٹ فارم پر گزارا گیا وقت میرے لیے ایک خوشگوار اور یادگار تجربہ رہا۔
دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب کو، بالخصوص ملکِ پاکستان کو، اپنے حفظ و امان میں رکھے۔
آمین ثم آمین
عرضِ بندہ ناچیز
رئیس راشد نواز برڑہ
@iqrarulhassan
اسکا کیا جواب ہے آپکے پاس؟؟؟ ہم تو جواب مانگیں گے
تاجروں کے مطابق طور خم بارڈر کی بندش سے ملکی خزانے کو روزانہ 70 سے 80 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے اور طور خم بارڈر کو بند ہوئے 16 روز ہو چکے ہیں
سرحد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زاہد شینواری نے کہا ہے کہ بارڈر بند ہونے سے تاجروں ،ٹرانسپورٹرز اور عوام کو نقصان ہورہا ہے
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کا اچھا اقدام، سوشل میڈیا پر عوام کی شکایات کا ازالہ، لوگوں کے مسائل براہ راست حکام تک پہنچ رہے ہیں اور حل بھی ہو رہے ہیں، اسے پورے صوبے میں پھیلائیں۔۔!!
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نو منتخب وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی حلف برداری کے آئینی عمل سے متعلق باضابطہ طور پر گورنر خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
عدالت نے واضح ہدایت دی ہے کہ گورنر آئین کے مطابق وزیرِاعلیٰ سے بلا تاخیر حلف دلوانے کے پابند ہیں، بصورتِ دیگر اگر 15 اکتوبر بروز بدھ شام 4 بجے تک حلف نہ دلوایا گیا تو مجھے بطور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی نامزدگی پر، حلف لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
یہ اقدام صوبے میں آئینی تسلسل، جمہوری استحکام اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہم سب کا مقصد یہی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام اور آئین کی بالادستی ہر حال میں قائم رہے۔
#KhyberPakhtunkhwa #SpeakerKP #PTI #ImranKhan #BabarSaleemSwati #ChiefMinister #Democracy #RuleOfLaw #Governance