تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے، ان کےوالد سرشاہنواز بھٹو ایک بڑے جاگیردارتھے،وہ تقسیم ہند سے پہلے ریاست جونا گڑھ کے منشی تھے اور سلطنت برطانیہ کےفرمانبردار اور اطاعت گزار تھےجس کےصلے میں انگریزوں سے انہیں ”سر“ کا خطاب اورہزاروں ایکڑ زمینیں انعام کےطور پر ملی تھیں۔جوشاؤنسٹ اور متعصب عناصر سرسید احمدخان کو سرکاخطاب ملنے پر انہیں انگریزوں کاایجنٹ قراردیتے ہیں وہ بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کوانگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری پرسرکاخطاب ملنے پر کیاکہیں گے؟ بھٹوکے والد سر شاہنواز بھٹوکی زمینوں پر سلطنت برطانیہ انگریز اورامریکی شکار کھیلنے آتے تھے، ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے والدکے ساتھ انگریزوں اور امریکیوں کی خدمت گزاری میں شریک ہوتے۔ایک مرتبہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ہوریک ہلڈریتھ (Horace Hildreth) شاہنواز بھٹو کی زمینوں پرشکاررکھیلنے آئے تووہ بھٹوکی خدمت گزاری سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اسکندرمرزا اور جنرل ایوب خان سےکہاوہ بھٹو کواپنی حکومت میں جگہ ��یں جس پر انہیں فوجی حکومت میں شامل کیاگیا۔ بھٹو جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں وزیر خارجہ اور مختلف وزارتوں پرفائزرہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل ایوب خان سے اتنی قربت تھی کہ وہ جنرل ایوب خان کو”ڈیدی “ یعنی اپناباپ کہتے تھے۔جب 1966ء میں جنرل ایوب خان کے خلاف محض چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے توذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئےاور 1967ء میں اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے قائم کر نے کااعلان کردیا۔ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کےبانی ارکان میں جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشرحسن، معراج محمدخان، حفیظ پیرزادہ، کمال اظفر، حیات شیرپاؤ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس وقت ملک میں عوام مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کررہے تھے اور ان دنوں سوشلزم کی ہواچل رہی تھی لہٰذا بھٹو نے اپنی جماعت کامنشور”اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت اورطاقت کا سرچشمہ عوام“ رکھا اورعوام کو”روٹی کپڑا اورمکان“ کانعرہ دیا لیکن انہیں پس پردہ فوج کے جرنیلوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔
جنرل ایوب خان کے اقتدار سے استعفیٰ دینے کے بعد 25مارچ 1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے ملک میں دوسرامارشل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو جنرل یحییٰ خان کی حکومت کے ساتھ رہے اوران کے وزیرخارجہ کے فرائض بھی انجام دیے۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں ملک میں عام انتخابات کرائے توان انتخابات میں مشرقی پاکستان سے جنم لینے والی شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ نے 160نشستیں حاصل کیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی محض 81 نشستیں حاصل کرسکی۔ شیخ مجیب مسلسل مطالبہ کرتے ��ہےکہ حکومت سازی کےلئےفی الفورقومی اسمبلی کااجلاس بلایا جائے لیکن جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاکیونکہ فوجی حکومت عوامی لیگ کو اقتدارحوالے کرنا نہیں چاہتی تھی اوربھٹو بھی یہی چاہتا تھاکہ عوامی لیگ برسراقتدار نہ آئے۔ مجبورہوکرشیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کااجلاس بلالیا۔ جس پر فوجی ��رنیلوں کے ہاتھوں پرورش پانے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ دھمکی آمیز اعلان کیا کہ مغربی پاکستان سے جو بھی منتخب رکن اگرقومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کےلئےڈھاکہ جائے گا توواپسی پر اس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی،مغربی پاکستان سے واحد رکن اسمبلی احمدرضاقصوری اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ گئے تھے، جب وہ واپس آئے توبھٹوحکومت میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیاجس میں احمدرضا قصوری بچ گئے لیکن ان کے والد نواب محمداحمدخان قصوری جاں بحق ہوگئے۔جب جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹااورملک میں مارشل لاء نافذ کیاتو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمداحمدخان قصوری کے قتل کے الزام میں ہی بھٹوکو پھانسی دی گئی تھی۔
دنیا کے مسلمہ قانون کے تحت 1970ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے پر شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کواقتدارحوالے کرناچاہیے تھا لیکن فوج نے کہاکہ ملک پر ایک بنگالی وزیراعظم کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتا، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ شیخ مجیب الرحمن ایک غریب کابیٹاتھا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو ایک بہت بڑے جاگیردار سرشاہنوازبھٹو کابیٹا تھا۔
شیخ مجیب الرحمن نے باقاعدہ آپریشن سے پہلے علیحدگی کااعلان نہیں کیاتھا بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہاتھاکہ بنگالیوں کوان کے حقوق دو اوران کے میڈیٹ کو تسلیم کرو لیکن فوج نے بنگالیوں کو تسلیم نہیں کیا، بھٹو بھی کسی قیمت پر بنگالیوں کواقتداردینے کاحامی نہیں تھا لہٰذا بھٹونے لاہورمیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ”اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ لگایا۔
1/2
پی پی پی کے نصیراللہ بابر جیسے سفاک درندے نے ایم کیو ایم کے کارکنان کے ماؤرائے عدالت قتل کئےاور ان کے ساتھ کیا ہوا اس وڈیو کو غور سے سنئیے اور فیصلہ کریں کہ ظلم کس کے ساتھ ہوا ہے
#LiftBanOnAltafHussain#MQM
شمع جونیجو نے کیا غلط لکھا تھا ؟
بس یہ ہی لکھا ناں کراچی کی عوام اب بھپر ��ئی ہے۔ کراچی والے اپنے حقوق کےلئے اب کھڑے ہو گئے ہیں۔ کراچی والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا اب پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی نہیں چلےگی۔ کراچی سول سوسائٹی حق بولنےپر شمع جونیجو کےساتھ کھڑی ہے۔
#PPPChorHai
آپ کا تعلق پاکستان کے کسی بھی شہر، گاوں، دیہات سے ہو، لیکن آپ کے دل میں شہر کراچی اور اس میں بسنے والی عوام کے لئے ہمدردی اور محبت ہے تو اس ٹرینڈ پر اپنا تھوڑا سا حصہ ضرور ڈالیں۔
#PPPChorHai
لیاری ندی میں پانی کے پائپوں کو اونچائی سے گزارنے کے لی��ے جو Pillar بنا کر اس پر پائپ لائن بچھائی گئی، وہ ناقص مٹیریئل استعمال کرنے کی وجہ سے اتنی کمزور تھی کہ pillar سمیت زمین پر گر پڑی۔ اب اپنے اس کارنامے نما پائپ لائن کو مٹی تلے دفنانے کئ کوشش کئ جارہی ہے۔
کوئی شرم؟ کوئی حیا؟ کوئی جواب؟
پھر لوگ لکھیں گے کہ #پیپلز_پارٹی_چور_ہے تو برا منائیں گے۔
ڈیٹیکٹڈ: ایک سیاسی پارٹی @PPP_Org جو قومی بجٹ کو فیملی اے ٹی ایم کی طرح استعمال کرتی ہے۔ تجویز: پاس ورڈ فوراً تبدیل کریں۔ یا نہ کریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ نہیں کریں گے۔ #پیپلز_پارٹی_چور_ہے
روزاول سے مہاجر تحریک کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ اس سے وابستہ کارکنان و ہمدرد اور عوام کا سب سے پسندیدہ مشغلہ تحریکی معاملات پر تنقید و نکتہ چینی🔥
خصوصآ ذمہ داریوں سے خود ہٹنے یا ہٹائےجانے پر تو خصوصآ تمام خرابیاں عیاں ہو جاتی ہیں
جو انافنا کرنے کا درس دیتے نہیں تھکتے خود شکارہوجاتے
@SyedNabeel_M اپ سب سے زیادہ سمجھدار ہیں نبیل بھائی۔
مجھ جیسوں کی تربیت قیادت سے سوالات کرنے کی نہیں ہے۔
معزرت کے اپ کی ٹائم لائن پر اپنا فضول کمنٹ کیا۔ آئندہ اجتناب کروں گا۔
اہلیان کراچی کیا نثار پنہور، محسن پنہور، ڈاکٹر اسامہ انجم اور ارتضیٰ صدیقی کی جبری گمشدگی کو کیا کراچی کا ایک مسئلہ سمجھتے ہیں یا نہیں؟
#ReleaseAllMQMWorkers#Abolish18thAmendment
@AliFahimp ان لوگوں کاواحد گناہ قائد @AltafHussain_90 اور @OfficialMQM سےباوجود بدترین ریاستی جبر کے جڑے رہنا ہے
جو مہاجر قوم کی امیدوں کا واحد محور و مرکز ہیں
علی بھائی کے پول کے توسط سے یہ پول کررہا ہوں
اگر مہاجروں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا گیا تو
#مکافات_عمل
سے کوئی بچ نہیں سکے گا
#JITonGulPlaza
ملک و ملت کا درد رکھنے والے اہل وطن خدا کو حاظروناظر جان کر بتائیں
#GulPlaza
جیسے اندوہناک المناک کربناک سانحے کے بعد بھی @PPP_Org
کس بنا پر حکومت میں رہ سکتی ہے؟؟؟؟؟؟؟
کراچی کادرد ہے تو زیادہ سے زیادہ ووٹ'ریٹوئٹ اور کمنٹ کریں
🆘😭🔥🥹🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
موہوم تھی مگرامید تھی کہ آزمائش بھرے اس وقت میں ساتھ ہونےکا بھرپوراحساس دلایا جائے گا
مگر
حیف صد حیف
سارا پندار دھڑم تختہ ہوکر رہ گیا
کسی ایک نےحال احوال لینےکی زحمت تک نہیں کی🙃
باتیں کروڑوں کی
دکان پکوڑوں کی
@OfficialMQM#وفاپرستی
جن لوگوں نےدعائیں کیں ان کیلیئے ڈھیروں دعائیں🤲🏻
لاہور بھی میرا ہے کراچی بھی میرا
خدا لاہور کو مزید پھلتا پھولتا رکھے لیکن لاہور اور کراچی کا موازنہ ایسا ہے جیسے دیشا پٹانی کا کسی کھسرے سے۔
لاہور کراچی جیسا ہے تو تو لاہور میں گٹروں میں بچے کیوں نہیں ڈوبتے، ڈمپر نوجوانوں کو کیوں نہیں کچلتے۔ پنجاب کی وزیراعلی ڈمپر ایسوسی ایشن کے
@BeingSAOfficial ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور لاڑکانہ تو پیپلز پارٹی کا اپنا شہر ہے ۔
یہ ریمارکس لاڑکانہ میں 90 ارب کی کرپشن اور فنڈز کے غیر شفاف استعمال پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سید سجاد علی شاہ نے دئیے تھے۔
مگر ! بینظیر انکم سپورٹ کے حرام خوروں کو سب اچھا نظر آنا انکی مجبوری ہے ۔
@BeingSAOfficial جس نے تباہ کیا اسے دنیا "بھٹو" کے نام سے جانتی ہے
جو منحوس آسیب کی طرح کراچی سمیت سندھ بھر میں منڈلاتا ہوا سندھ کے سپوتوں کو سفاکی سے نگل رہا ہے
سندھ کا مقدر اس آسیب سے نجات پر ہی سنورنا ممکن ہے