میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی ہوگی
ہر بار یہی لگا کہ میں حضرت یوسفؑ کی پوری کہانی جانتی ہوں۔
کنواں
غلامی
قید اور پھر بادشاہت۔
لیکن آج میری نظر ایک ایسی چیز پر جا کر ٹھہر گئی جسے میں ہر بار پڑھ کر بھی نظر انداز کرتی رہی تھی
وہ تھیں... تین قمیضیں۔
اللہ چاہتے تو صرف واقعات بیان کر دیتے، مگر انہوں نے تین مختلف مقامات پر تین مختلف قمیضوں کا ذکر کیا
جیسے وہ ہمیں سکھا رہے ہوں کہ:
کبھی کبھی ایک انسان کی پوری روحانی اور جذباتی زندگی صرف تین قمیضوں میں سمٹ جاتی ہے۔
اور شاید ہم سب بھی انہی تین قمیضوں سے گزرتے ہیں
پہلی قمیض
وہ قمیض جس پر جھوٹا خون لگا دیا گیا۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی جب اسے حضرت یعقوبؑ کے پاس لائے...
تو وہ صرف ایک قمیض نہیں تھی
وہ حسد کا اعلان تھی
جھوٹ کی گواہی تھی
ایک باپ کے دل پر چلنے والی تلوار تھی
لیکن حضرت یعقوبؑ نے قمیض دیکھی اور بات سمجھ گئے
اور فرمایا:
"پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں"
تب مجھے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک پہلی قمیض ضرور آتی ہے
ایک دھوکہ
ایک جھوٹا الزام
ایک ایسی جدائی جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا ہوتا
اور سب سے زیادہ درد اس بات کا نہیں ہوتا کہ لوگ بدل گئے
بلکہ اس بات کا ہوتا ہے
کہ جنہیں ہم نے اپنا سمجھا
وہی ہمیں تنہا چھوڑ گئے۔
بعض اوقات
اللہ ہمیں دشمنوں کے ذریعے نہیں آزماتے
وہ ہمیں اپنوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔
شاید تم بھی ابھی پہلی قمیض میں ہو۔
کسی کی بے وفائی ابھی تک دل میں زندہ ہے۔
کسی کی باتیں ابھی تک راتوں کو جگاتی ہیں۔
کسی کی جدائی نے تم سے تمہاری ہنسی چھین لی ہے۔
اگر ایسا ہے
تو یاد رکھو
پہلی قمیض کہانی کا اختتام نہیں ہوتی۔
یہ صرف آغاز ہوتی ہے۔
پھر دوسری قمیض آتی ہے۔
اس بار وہ خون آلود نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگے تو یہی پھٹی ہوئی قمیض ان کی پاکدامنی کی دلیل بن گئی۔
لیکن عجیب بات یہ ہے...
پہلی قمیض پر لگا خون جھوٹ تھا،
دوسری قمیض کا پھٹنا سچ کی گواہی بن گیا۔
گویا اللہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں:
کہ جھوٹ وقتی طور پر جیت سکتا ہے
لیکن ہمیشہ نہیں۔
اگر تم سچے ہو
تو تمہیں ہر ایک کو اپنی صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی
اللہ تمہارے لیے ایسے ثبوت پیدا کر دیتے ہیں
جن کے بعد دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
لوگ تمہارا نام خراب کر سکتے ہیں
لوگ تمہاری عزت چھیننے کی کوشش کر سکتے ہیں
لیکن اگر اللہ عزت دینے والا ہو
تو پوری دنیا بھی اسے چھین نہیں سکتی۔
پھر سال گزرتے ہیں۔
آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں۔
کنواں ختم ہوتا ہے
تو غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
غلامی ختم ہوتی ہے
تو قید شروع ہو جاتی ہے۔
میں نے یہاں رک کر سوچا
حضرت یوسفؑ نے آخر کبھی شکایت کیوں نہیں کی؟
شاید اس لیے
کیونکہ انہیں منزل پر یقین تھا
اگرچہ راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اور یہی ایمان ہے
جب راستہ دھندلا ہو
لیکن دل کو منزل پر یقین ہو۔
پھر آخرکار
تیسری قمیض آتی ہے۔
اب نہ اس پر خون ہے
نہ دھوکہ
نہ الزام
صرف شفا
حضرت یوسفؑ نے فرمایا:
میری یہ قمیض لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔
یہ صرف آنکھوں کی روشنی کی واپسی نہیں تھی
یہ امید کی واپسی تھی
صبر کا صلہ تھا
اور برسوں کی دعاؤں کا جواب تھا
اللہ دیر کرتے ہیں، مگر بھولتے نہیں
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر غافل کبھی نہیں ہوتے
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تین قمیضیں صرف حضرت یوسفؑ کی نہیں
ہم سب کی بھی ہیں
کبھی ہم پہلی قمیض میں ہوتے ہیں
ٹوٹے ہوئے
کبھی دوسری میں
اپنی سچائی ثابت کرتے ہوئے
لیکن مسئلہ یہ ہے
ہم تیسری قمیض بہت جلدی چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں فورا شفا دے دیں
لیکن ہم ابھی تک پہلی قمیض پر لگے خون کو دھونے میں لگے ہوتے ہیں
ہم اب بھی ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
کاش وہ دھوکہ نہ ملا ہوتا
کاش وہ شخص نہ ملا ہوتا
کاش وہ جدائی نہ ہوئی ہوتی
کاش وہ الزام نہ لگتا
مگر شاید اللہ فرما رہے ہوتے ہیں:
اگر پہلی قمیض نہ ہوتی تو صبر نہ سیکھتے
اگر دوسری نہ پھٹتی تو تمہارا کردار ظاہر نہ ہوتا
اور اگر یہ دونوں نہ ہوتیں تو تیسری قمیض کی قدر بھی نہ ہوتی
شاید اسی لیے سورۂ یوسف کو بہترین قصہ کہا گیا
کیونکہ یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں
ہر اس دل کی کہانی ہے
جو آج رو رہا ہے
لیکن کل مسکرائے گا
اگر آج تم پہلی قمیض میں ہو تو مایوس نہ ہونا
اگر دوسری میں ہو تو ثابت قدم رہنا
اور اگر ابھی تک تیسری قمیض نہیں ملی تو جلدی نہ کرنا
جس رب نے خون آلود قمیض سے کہانی شروع کی
اسی رب نے شفا دینے والی قمیض پر اسے مکمل کیا
اس لیے اگر آج تمہاری زندگی میں صرف پہلی یا دوسری قمیض ہے
تو یاد رکھنا
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہی الحکیم…
آج تمہاری کہانی بھی لکھ رہا ہے
اور جب اللہ کہانی لکھتے ہیں۔
تو کوئی داغ ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی الزام ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی آنسو ہمیشہ نہیں رہتا
آخرکار
ہر صبر کرنے والے کے لیے
اللہ ایک تیسری قمیض ضرور رکھتے ہیں۔
کشمیر میں انقلاب آچکا ہے!!🔥
جو لوگ India کی ویڈیوز بار بار شئر کر رہے تھے وہ کشمیریوں کی یہ ویڈیوز شیئر کیوں نہیں کرتے؟؟
کشمیری اپنا حق لیں کر دم لیں گے!!
یہ ویڈیو دیکھیں اور افسر شاہی کا کمال پتا چلے گا !
جنوبی پنجاب میں گھر مٹی سے بنے یعنی لوگوں کی معاشی حالت کا اظہار مٹی کی دیواریں کررہی ہیں لیکن گھر کے سامنے ستھرا پنجاب کا ڈرم لگا ہوا ۔ کہنے کو صفائی کا پروجیکٹ ہے اب وہ غریب آدمی جو پکا گھر نہیں بنا پا رہا اسکی جیب سے " کوڑاکرکٹ " کا بِل نکالا جائے گا کہ دیکھو ہم صفائی کر رہے ہیں اور وہ کسی سیٹھ کی جیب میں جائے گا
انڈیا میں نوجوان انقلاب لے آئے،
نوجوانوں کو کاکروچ کا لقب سپریم کورٹ کے ایک دلال جج نے دیا جسے انڈین نوجوانوں نے دل پر لے لیا،
اور آج دیکھ لیں بھارتی فوجیوں کو بھی جوتیاں مار کر نوجوانوں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔
عوام ہی کسی ملک کی مالک ہوتی ہے نا کہ سرکاری دلے۔
جب مرضی سے گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں تو مار مرا کے نکلتی ہیں حب حقیقت سے آنکھیں چار ہوتی ہیں تو پتہ چلتا اس دنیا میں رہنا آسان نہیں بہت سے خوبصورت دھوکے ہوتے جن کے پیچھے انسان لوٹ جاتا ہے
@MoeedNj جھکی ہوئی گردنوں کے شہر میں اک سرکش کھڑا ہے
خاموش ضمیروں کے شہر میں سچ بن کے کھڑا ہے
ڈر کے سوداگر جھک گئے، سب نے راستے بدلے
وہ تنہا ہے مگر حق کی خاطر سر اٹھا کے کھڑا ہے
قلم ٹوٹے، زبانیں بکیں، ضمیر قید ہوئے
وہ قید میں بھی آزادی کا پرچم تھامے کھڑا ہے
آج اسپیکر قومی اسمبلی نے حب الوطنی پر لیکچر جھاڑا ہے اور اپوزیشن کی حب الوطنی پر سوالات اٹھائے ہیں۔۔پی ٹی آئی دور میں فوج کے ایک سپہ سالار سے متعلق انکے خیالات اور الفاظ کچھ یوں تھے:”۔۔۔۔چیف آف آرمی اسٹاف تشریف لائے۔۔پیرکانپ رہے تھے۔۔۔پیسنے ماتھے پہ تھے۔۔“
ایاز صادق صاحب کے ان الفاظ کے بعد پاک فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ ”یہ پاکستانی قوم کی ہندوستان پر واضح برتری اور فتح کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔۔۔
فاشزم خاموشی پر پلتا ہے۔ اسے بھوکا رکھیں۔ اپنا قلم اٹھائیں — یا کی بورڈ — اور مزاحمت کریں۔ پاکستان کے عوام کو احتجاج، اظہارِ رائے، یہاں تک کہ اختلاف کی سرگوشی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان سے بلوچستان تک کریک ڈاؤن کیا جاریا ہے۔ مگر وہ ہر لفظ نہیں روک سکتے۔ وہ ہر اسکرین نہیں بند کر سکتے۔
تو لکھیں۔ چیخیں۔ شیئر کریں۔
یہ رجیم آپ کی خاموشی سے زیادہ آپ کی آواز سے ڈرتی ہے۔ انہیں ڈرانے کا حق استعمال کریں!