اللہ کی دی ہوئی نعمتیں بانٹنے میں خوشی، اس نعمت سے بڑھ کر ہوتی ہے جو خود کے لیے رکھی گئی ہو انسان کا اصل سرمایہ اس کا دل ہے، جو دوسروں کی خوشیوں میں خوش رہتا ہے وہ کبھی خالی نہیں ہوتا
رزق صرف مال نہیں، بلکہ سکون، محبت اور ہمدردی بھی ہے
@mianfarhadali78 اگر نمائندے عوام کے ووٹ سے قومی اسمبلی پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں، تو ان پر فرض ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم کریں۔ صادق آباد کے عوام جواب مانگنے میں حق بجانب ہیں، کیونکہ خاموشی اب ظلم کو قبول کرنے کے برابر ہے۔
@mianfarhadali78 ٹلو روڈ کی یہ حالت صرف سفر کو مشکل نہیں بنا رہی، بلکہ مریضوں، بچوں، طالب علموں اور روزگار کے لیے نکلنے والے لو��وں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یہ صورتحال پنجاب کی ترقی کے دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
@mianfarhadali78 صادق آباد جیسے بڑے اور اہم شہر کو اس حالت میں چھوڑ دینا کھلی نااہلی اور بے حسی کا ثبوت ہے جب رحیم یار خان کے عوام نے اپنے نمائندے کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب کیاتو اس امید کے ساتھ کیا کہ ان کے بنیادی مسائل حل ہوں گے، نہ کہ سڑکیں پانچ سال تک پتھروں کا قبرستان بنی رہیں
If Imran Khan is released & addresses the world. The news would spread globally like a storm & Pakistan’s narrative would finally reach far & wide, effectively exposing India’s ambitions of occupation & warmongering.
@OfficialShehr@Haidersaeedpti1@javerias@NaeemPanjuthaa
چلو جی۔ ن لیگ کے چمچوں نے ابھی ن لیگ حکومت ختم ہونے سے پہلے ہی گواہیاں دینی شروع کر دیں کہ ہم پر دباؤ ڈال کر ہم سے بیانیہ بنوایا جاتا رہا۔
اور جب ہم نے طاقتور لوگوں کا بیانیہ بنا دیا تو ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے😂😂
یا اللّه۔ یہ میرے کان کیا سن رہے ہیں؟ 😂🤣
فرنٹ لائن وائیررز اگر ایسے ہوں گے تو بیانیہ بھی ایسا ہی بنے گا جیسا بنا ہوا ہے 😂
توب�� ، توبہ ، کیسی کیسی گواہیاں آنا شروع ہو گئی ہیں 😎
مجھے تو اس دن کا انتظار ہے جب میرے مہربان دوست حسن ایوب صاحب اعترافی بیانات کا سلسلہ شروع فرمائیں گے 💔
گوجرانوالہ سے ایک لڑکے نے میرے سے معلومات لیکر ایکسپورٹ کا بزنس شروع کیا
شروع شروع میں روزانہ گوجرانوالہ سے سیالکوٹ آتا تھا
پھر اس نے ایک روم کرائے پر لے لیا اور محنت جاری رکھی
اب ماشاء اللہ سٹی ھاوسنگ میں اس نے دس مرلہ کا گھر بنا لیا ہے ساری فیملی یہاں شفٹ کرلی اور ایک فیکٹری
ن لیگ ذرائع سے پتا چلا کہ نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کے آخری ایام میں کچھ ٹیسٹ شوکت خانم کینسر ہسپتال سے ہوئے
عمران خان اور ہسپتال انتظامیہ نے مریضہ کا نام ہمیشہ صیغۂ راز میں رکھا۔ ن لیگ کو کینسر ہسپتال پر حملہ آور ہونے سے پہلے کچھ شرم کر لینی چاہیے۔
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اخت��اف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
We join with the family of former Pakistani Prime Minister Imran Khan in raising very real concerns about his health and security in detention in Pakistan.
There must be independent access and monitoring of his detention and guarantees given for his safety.
بابا جی کے الفاظوں کی ضرورت نہیں ہے ان کی انکھوں میں دیکھ کر سب انکے غم کا اندازہ لگا سکتے انکی اولاد نے انکے ساتھ بہت برا کیا ہے باپ کبھی اپنی اولاد کو بدوا نہیں دیتا پر جب دے دے تو عرش ہل جاتا ہے اللہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کی تابعداری اور فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے
@SidraHunYar اکثر دونوں افراد تھکن، گھبراہٹ اور نئے ماحول کے دباؤ میں ہوتے ہیں اس لیے زبردستی یا جلد بازی کے بجائے بات چیت اعتماد، سکون اور ایک دوسرے کو سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے
جب ذہن مطمئن ہو رشتہ مضبوط ہو اور رضامندی و راحت موجود ہو تب ہر قدم خود بخود خوبصورت ہو جاتا ہے
عمران خان کی بہنوں کو وکلاء کو کسی کو بھی ملنے کی جازت نہیں دی جارہی ،ہم انتظار کر رہے ہیں ،دھرنہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملاقات ن��یں ہو جاتی .عمران خان کے ساتھ ساتھ بشری بی بی بھی آئسولیشن میں ہیں ان کو بھی ان کی فیملی سے نہیں ملنے دیا جارہا.
@SMunirMaan اسکے ضمیر اور اسکے عزم کی آزمائش ہوتی ہیں وہ جانتے ہیں کہ راستہ مشکل ہے مگر انکے دل میں وضاحت کی جو آگ جل رہی ہے، وہ انہیں شکستہ نہیں ہونے دے رہی اسی لیے گرچہ زمانہ روکنے پر تل جائے مگر جو اپنے مقصد سے جڑا ہو، وہ شکست کھا کر بھی شکستہ نہیں ہوتا
@SMunirMaan یہی کیفیت اس وقت ان چہروں میں جھلکتی ہے جو دھرنے کی سرد راتوں میں بھی اپنے یقین کی حرارت سے روشنی پیدا کر رہے ہیں
عمران خان کی بہنیں اور وہ کارکن جو ان کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سب اس حقیقت کی گواہی بنے ہوئے ہیں کہ بعض جدوجہدیں صرف سیاسی نہیں ہوتیں وہ انسان کے اندر کی سچائی،