🇵🇰 Imran Khan's sister, Aleema, is again pleading for Pakistan's authorities to transfer him to a hospital as serious concerns about his health grow:
"Get Imran treated. We have been demanding this since February: that Imran has the right to be treated.
I appeal to you. Know our pain first.
When your mother or your brother is sick in your house, tell me what your first priority would be."
His family, doctors, and lawyers haven’t been allowed to see him for seven months, which is insane
Source: @Aleema_KhanPK, @JKhanClassified / Writer: Ian
ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب یہ ٹرینڈ #زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو شروع کریں کیونکہ عمران خان کی رہائی کا واحد حل مزاحمت ہے جس کا آغاز علیمہ خان نے کر دیا ہے۔
پارٹی اور قیادت سے بھی مطالبہ ہے کہ 5 اگست کو فائنل مزاحمتی تحریک کا اعلان کریں
جو چیز محسن نقوی کو آج سمجھ میں آئی ہے، وہ بات پوری قوم کو برسوں سے پتہ ہےـ
اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ #زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو تاکہ پاکستان میں آگے بڑھ سکے، ورنہ معاشرے میں تعفن پھیل رہا ہےـ اتنا تعفن کہ جس میں اس بدبودار نظام میں حکمرانوں کے بچوں کا رہنا بھی مشکل ہو جائے گا
What a fight Imran Khan and his supporters have put up. Every tactic was used to force surrender, yet they refused to bow, refused to bend, and refused to give up. History will remember this resilience.
@ImranKhanPTI Kaptaan, you are rewriting the definition of bravery. Thank you for charging our batteries yesterday. May Allah keep giving you strength and may you be released soon so Pakistan can have permanent batteries to move forward and reach newer heights.
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
”میرے اور میری اہلیہ بشریٰ بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ہمیں عام قیدی کی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے،“- سابق وزیر اعظم عمران خان
#LetTheWorldSeeImranKhan
پاکستانی قوم بہت خوش قسمت قوم ہے جس کے پاس لیڈر عمران خان ہے، جو جُھکنے کو تیار نہیں، ڈرنے کو تیار نہیں، ہر قسم کا ظلم برداشت کرنے کے باوجود اپنے مُلک کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
#LetTheWorldSeeImranKhan
Sad to say, the CIA reportedly paid the Pakistan military $55,000 for Aafia Siddiqui, a shameful sale of the 'Daughter of the Nation" into torture for her, abuse for 2 kids, & apparently death for the infant (Suleman)
🚨 NASEEM SHAH GOT FINED BY PAKISTAN CRICKET 🚨
PCB has fined Naseem Shah with PKR 2 crore for breaching central contract and social media guidelines
Hence Proved, there is no freedom of speech in Pakistan as current regime can't handle a single tweet
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
عمران خان کا بیٹا قاسم خان سے فون پر گفتگو!
اس ملک کے ججوں کو اپنے آپ پر شرم آنی چاہیے۔ ہم بار بار انصاف کے لیے عدلیہ کے پاس گئے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانت بیچ دی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ کیسے اس غیر انسانی سلوک کی اجازت دے سکتے ہیں جو بشریٰ بی بی کے ساتھ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وہ دن کے 24 گھنٹے تنہائی میں رہتی ہیں، سوائے ہفتے میں صرف 30 منٹ کے جب انہیں مجھ سے ملنے دیا جاتا ہے — اور وہ بھی اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسلام میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانا حرام ہے — اور ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے آپ پر شرم آنی چاہیے۔”