عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ ی�� جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا موڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
یہ ڈاکٹر تفسیر کا اس وقت کا انٹرویو ہے جب وہ گیارہ میں سے چھ روز نواز شریف کے ساتھ سروسز ہسپتال میں رہا تھا جب پلیٹ لیٹ گرنے کا ڈرامہ رچایا گیا تھا ۔ اس شخص نے اس وقت اس فراڈئیے کا پردہ چاک کیا تھا ۔یہی جھوٹ بول کر فرار ہونے والا شخص عمران خان کا پاکستان میں علاج برداشت نہیں کررہا
اس پر کمنٹس کھولیں۔ قوم اس اہم موضوع پر اپنی رائے دینا چاہتی ہے۔ انکی رائے سنیں۔ انکے پیسوں سے آپکو تنخواہ ملتی ہے۔ یہ اکاؤنٹ بھی انہی کے پیسوں سے چلتا ہے۔ قوم کی عزت کریں۔ یہ رویہ درست نہیں۔
تم نے خان صاحب کی تصویر ہٹائی، قوم نے چہرہ دلوں میں بسا لیا۔ تم نے اسکی آواز پر پابندی لگائی، قوم خود اس کی آواز بن گئی۔ تم نے اسکو دیواروں کے پیچھے تنہا کیا، مگر باہر کروڑوں لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ آخر تمہارا جبر تھک گیا، قوم کا یقین نہیں۔ تمہارے اختیار کا غرور ہارا، عمران خان کی استقامت اور عوام کی وفا جیت گئی۔ تم اسے کبھی شکست دے ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ قوم اسے ہارنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
اور ہاں خان صاحب آخری گیند تک کھیلنے ک عادی ہیں !
شرم آنی چاہئے تمہیں !
عمران خان کے ورکرز، جانثاروں اور چاہنے والوں نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے تمام راستے رات بھر مکمل طور پر کھلے رہے اور کہیں کوئی اجتماع یا رکاوٹ نہیں بنائی گئی۔ پاکستانی اور عالمی میڈیا موقع پر موجود تھا اور ایک ایک لمحہ رپورٹ ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود اگر حکومت اپنی توہینِ عدالت کو چھپانے کے لیے ورکرز کے رش یا راستوں کی بندش کا جھوٹا بیانیہ بناتی ہے تو یہ پروپیگنڈا حقائق اور پوری دنیا کے سامنے موجود ریکارڈ کے منافی ہوگا۔
“نواز شریف دھاندلی اور سیاسی انتقام پر تقریر کرنے کا کانفیڈنس کہاں سے لیتا ہے؟ کیا قوم نہیں جانتی کہ نواز شریف نے کیسے ڈاکٹر یاسمین راشد سے انتخابات میں شکست کھا کر اپنا جعلی فارم 47 بنوایا۔ خود بیماری کا بہانہ بنا کر جیل سے بیرون ملک گئے اور آج عمران خان کی آنکھ کے علاج میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ سب دھاندلی اور ظلم کرنے کے باوجود تقاریر ایسے کرتے ہیں جیسے کچھ کیا ہی نہ ہو۔“ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
پاکستان کو آزادی مبارک، قوم اب تک آزاد نہیں ہوئی، وہ سہمی ہوئی ہے۔ قوم تب آزاد ہوگی جب عاصم منیر وزرائے اعظم سے ملنے کی بجائے اپنی حدود میں رہے گا، حکمرانی کی بجائے عوام کی نوکری کرے گا۔
قوم زیادہ دیر سہمی نہیں رہے گی، اپنی آزادی کی راہ خود ڈھونڈے گی۔ اور پھر تم آزاد نہیں رہو گے۔
پاکستان حقیقی معنوں میں تب آزاد ہوگا جب اس کے پہلے مسنگ پرسن، قائدِاعظم محمد علی جناح، کے فرمودات، خصوصاً یہ کہ جرنیل اس قوم کے نوکر ہیں، پر عمل ہوگا۔
پاکستان زندہ باد۔
14 اگست — آزادی کا دن، مگر آزادی کہاں ہے؟
یوں تو 14 اگست یومِ آزادی ہے. یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں، اپنی سرزمین رکھتے ہیں، اپنا پرچم رکھتے ہیں اور اپنی قومی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ آزادی یقیناً منائی جانی چاہیے، لیکن شاید اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں کہ آزادی کے اصل معنی کیا ہیں؟
کیا آزادی صرف جھنڈیاں لگانے، عمارتیں سجانے، چراغاں کرنے اور تقریبات منعقد کرنے کا نام ہے؟ یا آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک عام شہری، ایک دکاندار، ایک مزدور، ایک ٹرانسپورٹر اور ایک کاروباری شخص سرکاری خوف، غیر ضروری دباؤ اور انتظامی جبر کے ��غیر اپنی روزی کما سکے؟
آج راولپنڈی کی صورتحال دیکھ کر یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔
شہر کے دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز کو گزشتہ چند دنوں سے جشنِ آزادی اور سرکاری تقریبات کے نام پر ان پر غیر معمولی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کہیں سجاوٹ اور چراغاں کے لیے پیسے خرچ کرنے کا دباؤ، کہیں انتظامیہ کی کارروائیوں اور جرمانوں کا خوف، اور کہیں کاروبار بند ہونے سے ہونے والا نقصان۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی قومی دن کی خوشی زبردستی منوائی جا سکتی ہے؟
ر فیلڈ مارشل کی آمد، کسی پریڈ یا سرکاری تقریب کی وجہ سے پورے شہر کی سڑکیں بند ہوں، کاروبار متاثر ہوں، بس اڈے مفلوج ہوں اور عام شہری گھنٹوں مشکلات کا سامنا کریں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ریاستی تقریبات آخر شہریوں کے لیے ہیں یا شہری ریاستی تقریبات کے لیے؟
ممکن ہے جن فیلڈ مارشل کے نام پر یہ سب انتظامات کیے جا رہے ہوں، انہیں خود بھی اس حد تک کی گئی کارروائیوں کا علم نہ ہو۔ مگر ہمارے نظام کا المیہ یہی ہے کہ بعض اوقات خوشامد، ضر��رت سے زیادہ فرمانبرداری اور نوکر شاہی کا جوش عوام کی سہولت اور بنیادی حقوق پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
آزادی کا سب سے خوبصورت جشن وہ نہیں جس میں شہر کو روشنیوں سے بھر دیا جائے؛
آزادی کا سب سے خوبصورت جشن وہ ہے جس میں شہری خوف سے آزاد ہو۔
آزادی یہ ہے کہ دکاندار اپنی مرضی سے اپنے کاروبار کو سجائے، نہ کہ کسی کارروائی کے خوف سے۔
آزادی یہ ہے کہ ٹرانسپورٹر قانون کے مطابق کام کرے، نہ کہ ہر نئے انتظامی حکم کے سامنے بے بس ہو۔
آزادی یہ ہے کہ سرکاری افسر خود کو عوام کا حاکم نہیں بلکہ خادم سمجھے۔
آزادی یہ ہے کہ قانون طاقتور اور کمزور، دونوں کے لیے برابر ہو۔
اور آزادی یہ ہے کہ شہری سوال اٹھا سکے، اختلاف کر سکے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز بلند کر سکے۔
ہم نے 1947 میں ایک آزاد وطن حاصل کیا تھا۔ اب اصل جدوجہد یہ ہونی چاہیے کہ اس وطن کے اندر رہنے والا ہر شخص بھی خود کو آزاد محسوس کرے۔
ورنہ جھنڈیاں تو ہر طرف لہراتی رہیں گی، ترانے بھی بجتے رہیں گے، چراغاں بھی ہوتا رہے گا، مگر اگر ایک عام آدمی اپنے ہی شہر میں بے اختیار اور مجبور ہے تو ہمیں آزادی کے مفہوم پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
راولپنڈی کے دکانداروں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور عام شہریوں کی مشکلات کے پس منظر میں ایک ہی سوال ہے:
ہم سے زبردستی آزادی کا جشن تو منوا رہے ہو مگر کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
ایک مجبور اور بے اختیار قوم کو 14 اگست کی پیشگی مبارک باد۔
"9 مئی کے جھوٹے مقدمات میں ہماری بےگناہ خواتین یاسمین راشد، زرتاج گل، کنول شوذب، عالیہ حمزہ، عائشہ علی بھٹہ، صنم جاوید، فردوس رائے، خدیجہ شاہ، فرخندہ کوکب، اور فرح آغا کو 5,5 اور دس دس سال سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ہم اپنی بے گناہ خواتین کے لیے عدالتوں سے انصاف مانگتے ہیں، ہماری اسیر خواتین کو رہا کیا جائے" @SheikhWaqqas