- IMF کے مطابق پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی 5300 ارب روپے کی کرپشن گزشتہ 4 سال میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ میں پچھلے ساٹھ سالوں میں سب سے کم ترین بیرونی سرمایہ کاری 2022 سے 2026 میں ہوئی
- پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس 50 ہزار ارب روپے پچھلے چار سالوں میں عوام سے لیا گیا
- پاکستانیوں نے سب سے بڑی تعداد میں ملک پچھلے تین سالوں میں چھوڑا
- پچھلے تین سالوں میں دہشتگردی نے بیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا
- پچھلے تین سالوں میں سب سے بڑی تعداد میں تقریباً 79 فارن کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا
- پاکستانی پاسپورٹ تاریخ کی بدترین رینکنگ میں صومالیہ سے بھی نیچے جا گرا۔
- گزشتہ 4 سالوں میں 57،000 ارب کا قرضہ لیا لگا کہاں پتہ نہیں۔
ہم کس کے دامن پہ اپنا
لہو تلاش کریں ۔۔۔۔۔۔۔؟
😢😭💔
پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
نوازشریف کی مسلم لیگ کا بدلتا بیانیہ۔۔۔
ایک دوست نے تجزیہ کیا ھے کہ
1977 میں جنرل ضیا نے مارشل لگایا، وہ ٹھیک تھا۔
1999 میں مشرف نے جو مارشل لا لگایا، وہ غلط تھا۔
1988 میں جنرل ضیا نے جونیجو حکومت برخاست کی، وہ ٹھیک تھی۔
1998 میں جنرل مشرف نے جو حکومت برخاست کی، وہ غلط تھا۔
1990 میں غلام اسحاق نے بینظیر حکومت کے خلاف 58 ٹو بی استعمال کی، وہ ٹھیک تھی۔
1993 میں غلام اسحاق نے نوازشریف کے خلاف جو 58 ٹو بی استعمال کی، وہ غلط تھا۔
1994 میں بینظیر کے خلاف جو تحریک نجات چلائی گئی، وہ ٹھیک تھی۔
1998 اور 2014 میں جو نوازحکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا، وہ غلط تھا۔
1993 میں جسٹس نسیم حسن شاہ نے نوازشریف کی حکومت بحال کی، وہ ٹھیک تھا،
2017 میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کوبرطرف کیا، وہ غلط تھا۔
1997 میں شہبازشریف نے جسٹس قیوم کو کال کرکے مطلوبہ فیصلہ کرنے کا جو حکم دیا، وہ ٹھیک تھا۔
2017 میں سپریم کورٹ رجسٹرار نے جو ایف آئی اے کو کال کرکے جے آئی ٹی کے ممبران کے نام مانگے، وہ غلط تھا۔
2011 میں زرداری حکومت کے خلاف وزیراعلی پنجاب کی جو احتجاجی مہم تھی، وہ ٹھیک تھی،
2016 میں وزیراعلی خیبرپختون نے مرکزی حکومت کے خلاف جو جلوس نکالا، وہ غلط تھا۔
1996 میں اپوزیشن لیڈر بینظیر کو اس کے کم سن بچوں کے ساتھ اڈیالہ جیل میں غیرمردوں کے سامنے گھنٹوں انتظار کروانا ٹھیک تھا،
2017 میں مریم نواز کو باعزت طریقے سے جے آئی ٹی میں طلب کیا جانا غلط تھا۔
سپریم کورٹ پر حملہ درست تھا۔
اج سادہ احتجاج بھی جرم ھے
سن 2000 میں رات کے اندھیرے میں اپنی پارٹی کے کارکنان کو بتائے بغیر مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے جدہ بھاگ جانا ٹھیک تھا،
2007 میں بینظیر کا مشرف کے ساتھ این آر او کرکے پاکستان آنا غلط تھا۔
2012 میں سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دینا ٹھیک تھا،
2017 میں سپریم کورٹ کا وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دینا غلط تھا۔
1990 کے الیکشن میں آئی ایس آئی سے کروڑوں روپے لے کر الیکشن میں دھاندلی کرکے جیتنا ٹھیک تھا،
بے نظیر بھٹو کا سرے محل غلط تھا۔
کواپریٹیو بینکوں، تاج کمپنی سے حدیبیہ پیپر ملز کی حقیقت درست تھی۔
2014 میں عمران خان کا ریٹائرڈ آئی ایس آئی چیف سے ٹیلیفون پر بات کرنا غلط تھا۔
بے محترمہ بینظیر بھٹو کے سوءہز بینک غلط تھے۔
اپنی لندن کی جاءیدادیں۔ جدہ مل۔ اف شور اکاونٹ۔ درست تھے۔
2016 میں اپنی بیٹی کے ذریعے ڈان لیکس کروا کر فوج کو بدنام کروانا ٹھیک تھا،
2011 میں زرداری کا میموگیٹ کے زریعے فوج کے خلاف خط لکھنا غلط تھا۔
مشرف دور میں اس کی ساری کی ساری ٹیم غلط تھی،
2013 میں حکومت بنانے کے بعد مشرف کی آدھی ٹیم کو وزارتیں دینا ٹھیک تھا۔
1990 میں محترمہ بینظیر بھٹو عورت کی حکومت غیر اسلامی تھی
اج مریم صفدر کی حکمرانی درست ھے۔۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر بوٹ کو عزت دینے کا سفر۔۔۔
نوازشریف نے پچھلے دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک نظریئے کا نام ہے۔ ابھی جو کچھ آپ نے اوپر پڑھا ہے، وہ نوازشریف کے نظریئے کی ایک جھلک ہی تو ہے۔
ان لوگوں کی دماغی صحت کا اندازہ خود ہی لگا لیں جو اس قسم کا نظریہ رکھنے والے نوازشریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں!!!
وہ چاہتے تو اس ملک کی خشک زمینوں کو ہریالی میں بدل سکتے تھے…
دریاؤں کے پانی کو سنبھال کر کسان کے چہرے پر خوشحالی لا سکتے تھے…
لیکن نہیں… انہوں نے کسان کو قرض، خودکشی اور محرومی دی۔
وہ چاہتے تو ڈیم بنتے، بجلی سستی ہوتی، فیکٹریاں چلتیं، نوجوان روزگار کماتے…
لیکن نہیں… انہوں نے اندھیرے دیے، بل دیے، اور امیدیں چھین لیں۔
وہ چاہتے تو ایران سے سستا تیل اور گیس لا کر ہر گھر کا چولہا روشن کر سکتے تھے…
مگر انہیں عوام کے گھروں سے زیادہ اپنے محلات روشن رکھنا عزیز ہے۔
وہ چاہتے تو قانون سب کیلئے برابر ہوتا…
ماں اپنے بیٹے کے گھر لوٹنے تک خوف سے نہ مرتی…
بچی اسکول جاتے ہوئے محفوظ ہوتی…
مگر نہیں… اس ملک میں طاقتور کیلئے قانون نرم اور غریب کیلئے صرف سزا ہے۔
وہ چاہتے تو پاکستان کو سیاحت، تعلیم، صنعت اور امن کا گہوارہ بنا سکتے تھے…
دنیا یہاں آتی، سرمایہ آتا، نوجوان باہر بھاگنے کے بجائے اپنے ملک میں خواب بناتے…
لیکن انہوں نے اس قوم کے خوابوں کو ہی ہجرت پر مجبور کر دیا۔
وہ چاہتے تو تعلیم ایسی ہوتی کہ قوم جہالت سے نکلتی، شعور پیدا ہوتا، سوال اٹھتے…
لیکن غلام قوموں کو شعور نہیں دیا جاتا…
صرف نعرے دیے جاتے ہیں۔
وہ غربت ختم کر سکتے تھے…
مگر غریب کا ختم ہونا ان کے مفاد میں نہیں۔
کیونکہ بھوکا انسان سوال نہیں کرتا… صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑتا ہے۔
آپ ذرا سنجیدگی سے سوچیے…
ہر سال آپ زیادہ محنت کرتے ہیں…
پھر بھی زندگی پہلے سے مشکل کیوں ہو جاتی ہے؟
کیوں ہر نئی صبح ایک نئے ٹیکس، نئی مہنگائی اور نئی بے بسی کے ساتھ آتی ہے؟
کیونکہ مسئلہ نااہلی سے آگے جا چکا ہے…
یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں عوام کو اتنا ہی دیا جاتا ہے کہ وہ زندہ رہیں… مگر کبھی آزاد نہ ہو سکیں۔
ہمیں لڑایا جاتا ہے… پارٹیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے…
تاکہ ہم اصل سوال نہ پوچھ سکیں:
“آخر اس ملک کا مالک کون ہے؟ عوام… یا وہ چند لوگ جن کے مفادات ہماری نسلوں سے بڑے ہو چکے ہیں؟”
یہ تحریر کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں…
یہ ہر اُس شخص کے خلاف ہے جو اس قوم کی امیدیں کھا کر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ہے۔
اور یاد رکھو…
غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں ہوتی…
کبھی کبھی غلامی وہ خاموشی ہوتی ہے…
جس میں انسان ظلم دیکھتا ہے، سمجھتا ہے…
مگر پھر بھی بولنے سے ڈرتا ہے۔
@RoymukhtarRoy آپکی دین کے حوالے سب باتیں مفروضہ ہی ہیں
دین اسلام میں ولایت،تصوف،سلاسل کی کوئی جگہ نہیں
یہ سب آپکی خوش گمانیاں ہیں
اور جس طرح بہت سی احادیث جو قرآن کو چیلنج کرتی ہیں
اسی طرح اس حدیث ان کنت مولا والی کی بھی کوئی اتنی اہمیت نہیں
گمراہی کے حصار سے باہر نکلیں
@RoymukhtarRoy چلو اچھا ہو گیا
آپکی پرستش کا پیمانہ ذرا اور زیادہ ہوگا
خوب پوجا پاٹ کریں
لیکن
روز محشر
جیسے حضرت عیسٰی علیہ السلام نے عسائیوں کو اپنا ماننے سے انکار کر دینا ہے
ویسے ہی سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ جیسے جتنے بھی ہیں ان کی طرف سے منہ پھیر لینا ہے
*صرف عمران خان ہی کیوں*
سینیئر تجزیہ کار ہارون رشید کی تحریر
"کچھ لوگ ابھی بھی پوچھتے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے اتنی خوفزدہ کیوں ھے؟
یہ سوال سن کر مجھے اپنے پاکستانی لوگوں کی معلومات پر حیرت ہوتی ہے
کہ اس لاعلم قوم کو اتنا بھی علم نہیں کہ عمران خان کے دور میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار چھٹی جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک ہر بچے کے لیے ترجمہ قران کی تعلیم شروع کی گئی۔۔۔
ملک کے کروڑوں بچے اب سکول میں قران ترجمے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔۔۔
جماعت 12th 11th 10th 9th میں بچوں کے بورڈ کے امتحانات میں لازمی مضمون کے طور پر یہ سبجیکٹ شامل ہے۔۔۔۔
یہ کتنا بڑا قدم ہے یہ بات پاکستان کی سادہ عوام نہیں جانتی مگر امریکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران خان اس قوم کے نوجوان نسل کو قران سے جوڑ رہا ہے کیونکہ امریکیوں کو پتا ہے کہ کالج اور سکول کے سلیبس کس طرح نئی نسلوں کی ذہن سازی کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ
قران کو عام کرنے والے اس عمران خان سے امریکہ خوش ہو گا؟؟؟
یقینا نہیں
یہاں ایک اور وجہ بھی یاد کرانا ضروری ہے
عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر 193 ملکوں کی تنظیم کے سامنے یہ جملے بولے۔۔۔
"”حضور نبی کریم ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور جب مغرب میں(انگریزوں میں) کوئی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل دکھتے ہیں اور دلوں کا درد سب سے زیادہ شدید درد ہوتا ہے"”
کیا اب بھی نہیں سمجھے کہ عمران خان امریکہ کی نظروں میں کیوں چبھتا ہے؟؟
یاد کرو جب اس کی ماں کینسر سے فوت ہوئی تو اس نے کینسر ہسپتال بنا دیا کہ کسی اور کی ماں کینسر سے نہ مرے
پھر جب وہ وزیر اعظم بنا اور سردی کا موسم آیا تو اس نے پناہ گاہیں بنائیں کہ مزدور اور غریب سڑکوں فٹ پاتھ وغیرہ پر نہ سوئیں۔۔۔۔
صحت کارڈ دے کر ہر غریب کو 10 ، 10 لاکھ علاج کے لیے دیے۔۔۔۔
جب وہ لنگر خانے میں گیا تو مزدورں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔۔
جب بات شروع کی تو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہہ کر آغاز کیا۔۔
جب مدینہ منورہ پہنچا تو جوتے نہیں پہنے بلکہ ننگے پیر چلا۔۔۔
مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی۔۔۔
زرداری کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے
نواز شریف کے دور میں بھی سلسلہ جاری رہا
مگر عمران خان نے Absolutely Not کہہ کر کر بتا دیا کہ وہ غلامی قبول نہیں کرے گا۔۔۔
عمران خان کے 3.5 سالہ دور میں امریکہ ایک ڈرون حملہ نہیں کر سکا۔
اب بتائیں
کیا ایسا شخص امریکہ کو برداشت ہو سکتا تھا؟؟
پھر وہی ہوا جو ہونا تھا امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے فوجی جرنیلوں کو بول دیا کہ بس اب اور نہیں اور بالآخر امریکہ اور پاکستانی فوج جیت گئی اور عمران خان اور پاکستان ہار گیا۔
میں 45 سال سے زیادہ عرصے سے صحافت کر رہا ہوں تاریخ کے مطالعے اور اپنے 45 سالہ مشاہدے کی بنیاد پر میں کہتا ہوں کہ 75 سال میں اتنا ظلم کسی پارٹی پر نہیں ہوا جتنا آج فوج عمران خان پر کر رہی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 75 سالوں میں فوج کو ایسے کوئی نہیں ٹکرا جس طرح خان ٹکرا ہے
کیونکہ جو جیسا ٹکرتا ہے اس کو جواب بھی اتنا ہی ملتا ہے اور یہاں جواب کی شدت بتا رہی ہے کہ اس بار اسٹیبلشمنٹ کو بندہ شدید ٹکر کا ملا ہے۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ کسی امیدوار کو الیکشن کے کاغذات ھی جمع کرانے سے روک دیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا ہو
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ ایک جماعت پر الیکشن کمپین کرنے پر گرفتاری ہو جب کہ دوسری جماعت کے جلسے ہر وقت TV پر دکھائے جا رہے ہو۔
آج تک یہ نہیں سنا تھا کہ فوج ایک پارٹی سے اتنی ڈر گئی کہ سرے سے اس پوری پارٹی کو ہی الیکشن سے نکال دیا
آج تک یہ سب نہیں ہوا اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اتنا ظلم کرنے کے بعد بھی ایک بندہ ملک میں سے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت گیا
اور پھر وہ ہوا جو آج تک نہیں ہوا تھا کہ ایک ایک لاکھ کی لیڈ بھی بدل دی گئی
واقعی
آج تک عمران خان جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جو امریکہ کے سامنے ڈٹ گیا ہو
یہاں تو سب لیٹ جاتے تھے
ڈٹ جانے والا پہلی بار دیکھا ہے
اگر عمران خان کو تاریخ کے آئینے میں پرکھا جائے اور موجودہ حالات میں عمران خان کی ثابت قدمی دیکھی جائے تو بلامبالغہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو عمران خان کے قدموں کی دھول بن چکا ہے
عمران خان کے سامنے بھٹو بھی ایسے ہے جیسے سورج کے سامنے چراغ ہو
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں عمران خان سب سے بڑا لیڈر ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عمراں خان کے زمانے میں جی رہے ہیں
آنے والی نسلیں ہم پر رشک کریں گی کہ
وہ بھی کیا خوش قسمت لوگ تھے جو عمران خان کے دور میں زندہ تھے مگر کتنے بںےغیرت اور بںے قدرے تھے کہ عمران خان کو سمجھ نہیں سکے۔۔۔
@MaidahMuhammad الحمدللہ
میں اس بات کو آج سے پندرہ سال پہلے سمجھ چُکا تھا اور آج تک تحقیق جاری ہے
لیکن
جو شعور میں فیڈ کر دیا جاتا عام مسلمان اُسکی پیروی کرتا ہے
خود تحقیق کرنے کی بلکل کوشش نہیں کرتا
آپکی بات درست ہے
سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہترین کارکردگی بڑھانے کے حوالے سے چند ایسی زبردست باتیں بتائی جائیں گی جو عام طور پر سولر سسٹم انسٹال کرنے والے بھی نہیں بتاتے:
1: پینلز کی دھلائی کا بہترین وقت:
سولر پینلز کو کبھی بھی تپتی دھوپ میں ٹھنڈے پانی سے نہ دھوئیں، اس سے پینلز کے شیشوں میں مائیکرو کریکس آ سکتے ہیں جو وقتی طور پر تو نظر نہیں آتے پر جلدی ہی پینلز کی کارکردگی کو متاثر کر دیتے ہیں۔ صفائی کا بہترین وقت صبح سویرے یا سورج ڈھلنے کے بعد ہے جب پینلز مکمل ٹھنڈے ہوں۔
2: ڈش واشنگ مائع (Dish Soap) کا استعمال:
صرف پانی سے پینلز کی چکنائی اور جمی ہوئی مٹی صاف نہیں ہوتی۔ پانی میں تھوڑا سا برتن دھونے والا صابن ملائیں، اس سے پینل کا شیشہ بالکل شفاف ہو جائے گا اور بجلی کی پیداوار 10% سے 15% تک بڑھ جائے گی۔
3: بیٹری واٹر لیول اور ٹرمینلز:
اگر آپ بیٹری استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ٹرمینلز پر پٹرولیم جیلی یا تبت کریم لگا کر رکھیں تاکہ کاربن نہ جمے۔ کاربن بجلی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور بیٹری جلدی چارج نہیں ہوتی اور ہم سولر سے مکمل فائدہ نہیں حاصل کر پاتے۔
4: ارتھنگ (Earthing) کا جادو:
اپنے سولر اسٹینڈ اور انورٹر کو پراپر ارتھ کروائیں۔ یہ نہ صرف آسمانی بجلی سے بچاتا ہے بلکہ سسٹم میں موجود اسٹیٹک چارج کو ختم کر کے انورٹر کی لائف اور کارکردگی بڑھاتا ہے۔ جو کہ بہترین کارکردگی اور سولر لائف کیلئے اہم ہوتا اسے آج ہی کروائیں۔
5: شیڈو آڈٹ (Shadow Audit):
دن کے کسی بھی حصے میں اگر پینل کے ایک کونے پر بھی کسی چھوٹی سی تار یا انٹینا کا سایہ پڑ رہا ہے، تو وہ پورے پینل کی کارکردگی آدھی کر دیتا ہے۔ یقینی بنائیں کہ صبح 9 سے شام 4 بجے تک پینلز پر زیرو شیڈو ہو۔ کسی چیز کا ہلکا سا بھی سایہ نہ ہو۔ یہ بہت بڑی بات ہے اسے ذہن نشین کرلیں۔
6: ہیوی لوڈ کا ٹائم ٹیبل:
سولر سسٹم پر استری، موٹر یا اے سی چلانے کا بہترین وقت وہ ہے جب سورج سوا نیزے پر ہو یعنی صبح 11 سے دوپہر 3 بجے۔ اس وقت بجلی براہِ راست پینل سے استعمال ہوتی ہے اور بیٹری پر بوجھ نہیں پڑتا۔ اور بیٹریاں زیادہ لمبا عرصہ چلتی ہیں۔
7: انورٹر سیٹنگز (Load Management):
اپنے انورٹر کی سیٹنگز میں Battery Cut-off وولٹیج کو تھوڑا اوپر رکھیں۔ بیٹری کو کبھی بھی 100% خالی نہ ہونے دیں، اس سے بیٹری کی زندگی دوگنی ہو جاتی ہے اور وہ بجلی زیادہ تیزی سے اسٹور کرتی ہے۔ یہ بہت بڑی سیٹنگ ہے اس لازمی اپلائی کریں۔
8: تاروں کی لمبائی اور موٹائی:
سولر پینلز سے انورٹر تک کی تار جتنی لمبی ہوگی، اتنی بجلی ضائع (Voltage Drop) ہوگی۔ ہمیشہ کم سے کم فاصلہ رکھیں اور تار کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کریں، ہمیشہ Pure Copper کی تار استعمال کریں۔
9: انورٹر کی جگہ کا انتخاب:
اکثر لوگ انورٹر کو دھوپ میں یا بند الماری میں لگا دیتے ہیں۔ انورٹر جتنا ٹھنڈا رہے گا، اتنی بہتر کارکردگی دے گا۔ اسے ہمیشہ ہوادار اور سایہ دار جگہ پر لگائیں۔ اگر انورٹر بہت گرم ہو رہا ہے تو اس کے پاس ایک چھوٹا سا ایگزاسٹ فین لگا دیں۔
پرو ٹپ: اگر آپ کے پینلز کے نیچے بہت زیادہ گرمی جمع ہوتی ہے، تو اسٹینڈ کی اونچائی تھوڑی بڑھا دیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔ پینلز جتنے ٹھنڈے رہیں گے، اتنے زیادہ وولٹیج پیدا کریں گے۔
اگر آپ سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں تو ان باتوں کو لازمی فالو کریں انشاءاللہ دگنا فائدہ ہوگا سسٹم سے!
اس معلومات کو آگے ضرور شئیر کریں تاکہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ کسی کا فائدہ کرنا صدقہ جاریہ ہوتا۔
#copiedposted
مولانا فضل الرحمن نے 90 کی دہائی میں شہباز خیل کے ایک کچے مکان سے دوست کی کرولا گاڑی میں بیٹھ کر خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے کے لئے اسلام آباد کی طرف سفر کرتے کرتے ہرحکومت سے اپنے حصہ وصول کرتے کرتے بھائی بیٹے اور سمدھی کو وزارت دلانے کے ساتھ ساتھ 15 کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی اپنے لیے اور دیگر کروڑوں کی لگژری گاڑیوں کے ساتھ اٹک لکی مروت ڈیرہ ٹیکسیلا میانیوالی لاہور میں ہزاروں ایکٹر 81 ارب زمینیں اسلام آباد لاہور ڈیرہ میں عالی شان کوٹھیاں محلات مارکیٹیں پلازے بنا چکے ہیں۔۔
نہ کوئی کاروبار نہ خاندانی رئیس نہ کوئی ذریعہ آمدن ہے۔
لیکن اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کر کے اپنے مفاد اور اپنی وزارت کے حصول کے لئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ابھی بہت کچھ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔😓😡
مولانا فضل الرحمن نے 90 کی دہائی میں شہباز خیل کے ایک کچے مکان سے دوست کی ایف ایکس گاڑی میں بیٹھ کر خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے کے لئے اسلام آباد کی طرف سفر کرتے کرتے ہرحکومت سے اپنے حصہ وصول کرتے کرتے بھائی بیٹے اور سمدھی کو وزارت دلانے کے ساتھ ساتھ 15 کروڑ کی بلٹ پروف گاڑی اپنے لیے اور دیگر 86 کروڑ لگژری گاڑیوں کے ساتھ اٹک لکی مروت ڈیرہ ٹیکسیلا میانیوالی لاہور میں ہزاروں ایکٹر 81 ارب زمینیں اسلام آباد لاہور ڈیرہ میں عالی شان کوٹھیاں محلات مارکیٹیں پلازے بنا چکے ہیں۔۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ چین ایران سے تیل لینے کیلئے سمندر پر دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ایران پہنچتا ہے اور پھر دس ہزار کلومیٹر واپسی کا سفر، کل ملا کے ایک بحری جہاز کو بیس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
اور بھارت کو ایران سے تیل لانے پر 6000 کلومیٹر کا دونوں طرف کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
جبکہ پاکستان کو ایران سے تیل لینے کیلئے صفر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا کیونکہ ایران پاکستان گیس پائپ کو مکمل کرکے اس سے تیل اور گیس ایک ہی پائپ لائین سے لیا جا سکتا ہے،
پاکستان کی بد قسمتی دیکھیں کہ کبھی اس قدرتی فائدے سے مستفید نا ہو سکا کیونکہ امریکہ کی اجازت نہیں ہے، وہ امریکہ جسکی دو جنگیں ہم نے لڑیں، وہ امریکہ جو آج ایران جنگ سے باہر نکلنے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے،
ایسی ناکام فارن پالیسی کا کون مصنف تھا؟ 78 سال امریکہ کی غلامی میں ضائع کر دیئے لیکن اپنی سرحد سے تیل نا لے سکے، ہاں سمگلنگ خوب چل رہی ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
دنیا کی 15 بے رحم اور کڑوی حقیقتیں
دنیا کوئی الف لیلیٰ کی کہانی نہیں جہاں آخر میں سب اچھا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک میدانِ جنگ ہے جہاں قانون صرف طاقت کا چلتا ہے۔ اگر آپ دنیا کو ویسا دیکھ رہے ہیں جیسی یہ "ہونی چاہیے" تو آپ دھوکے میں ہیں، اسے ویسا دیکھیں جیسی یہ "ہے"۔
یہ رہے دنیا کے 15 بے رحم اور کڑوی حقیقتوں پر مبنی اصول، جنہیں جتنی جلدی نگل لیں گے، اتنی جلدی کامیاب ہوں گے۔
1-مفاد کا راج۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ کوئی آپ سے محبت نہیں کرتا، لوگ صرف اس "ضرورت" سے محبت کرتے ہیں جو آپ پوری کرتے ہیں۔ جس دن آپ کی افادیت ختم، اسی دن آپ کی اہمیت ختم۔ وفا صرف تب تک ہے جب تک مفاد وابستہ ہے۔
2-پیسہ ہی چھٹی حس ہے
لوگ کہتے ہیں پیسہ سب کچھ نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس پیسہ نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ "غریب کی دانشمندی بھی شور سمجھی جاتی ہے، اور امیر کی حماقت بھی فلسفہ۔" پیسہ آپ کو وہ کان اور آنکھیں دیتا ہے جو دوسروں کے پاس نہیں ہوتیں۔
3-کمزوری ایک گناہ ہے
فطرت کا قانون ہے، بڑے جانور چھوٹے جانوروں کو کھا جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنی کمزوری، دُکھ یا مجبوری لوگوں کو دکھائیں گے، تو وہ آپ کی مدد نہیں کریں گے، بلکہ آپ کو استعمال کریں گے۔ مظلوم بن کر ہمدردی مانگنا چھوڑیں، طاقتور بنیں۔
4-انصاف صرف کتابوں میں ہے
زندگی منصفانہ نہیں ہے۔ برے لوگوں کے ساتھ اکثر اچھا ہوتا ہے اور اچھے لوگ پس جاتے ہیں۔ اگر آپ "قدرتی انصاف" کا انتظار کر رہے ہیں تو کرتے رہیں۔ یہاں حق ملتا نہیں، چھیننا پڑتا ہے۔
5-خاموشی طاقت ہے
اپنے پتے کبھی شو مت کریں۔ جو انسان اپنے اگلے قدم کا اعلان کر دیتا ہے، وہ اپنی طاقت کھو دیتا ہے۔ دنیا ان سے ڈرتی ہے جو خاموش رہتے ہیں اور اچانک وار کرتے ہیں۔ زیادہ بولنا بیوقوفی کی نشانی ہے۔
6-کوئی مسیحا نہیں آئے گا
اپنی زندگی کی فلم میں ہیرو آپ خود ہیں۔ کوئی شہزادہ یا کوئی معجزہ آپ کو بچانے نہیں آئے گا۔ اگر آپ گڑھے میں ہیں، تو سیڑھی آپ کو خود بنانی پڑے گی۔ انتظار کرنا خودکشی ہے۔
7-نتائج کی پوجا
دنیا کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ نے کتنی محنت کی، آپ کتنی راتیں جاگے۔ دنیا صرف "اسکور بورڈ" دیکھتی ہے۔ اپنی محنت کی داستان نہ سنائیں، صرف ٹرافی دکھائیں۔اُس کے بعد کہانی بھی سنی جائے گی۔
8-ماضی کا بوجھ
لوگ آپ کے ماضی کو تب تک یاد رکھتے ہیں جب تک آپ کامیاب نہیں ہو جاتے۔ جس دن آپ جیت گئے، آپ کے سارے گناہ، ساری غلطیاں "تجربہ" کہلائیں گی۔ ناکام آدمی کا ماضی "داغ" ہے، کامیاب آدمی کا ماضی "سبق" ہے۔
9-انکار کی طاقت
اگر آپ ہر کسی کے لیے دستیاب ہیں، تو آپ کی کوئی عزت نہیں۔ "ناں" کہنا آپ کی قیمت بڑھاتا ہے۔ لوگوں کو خوش کرنا چھوڑیں، کیونکہ آپ سب کو خوش رکھ کر صرف خود کو ناراض کریں گے۔
10-اندھا اعتماد بے وقوفی ہے
"بھروسہ" وہ خنجر ہے جو ہمیشہ قریبی شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اپنے راز، اپنے پاس ورڈز اور اپنی کمزوریاں کبھی کسی کو مکمل نہ دیں۔ دوست آج ہے، کل دشمن ہو سکتا ہے۔ تھوڑا سا شک ہمیشہ زندہ رکھیں۔
11-جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے
یہ کتابی بات ہے کہ "اندر کی خوبصورتی اہم ہے۔" دنیا پہلے آپ کا لباس، آپ کی گاڑی اور آپ کا حلیہ دیکھتی ہے۔ اگر آپ مسکین نظر آئیں گے، تو مسکین سمجھے جائیں گے۔ بادشاہ کی طرح نظر آنا ، بادشاہ بننے کا پہلا قدم ہے۔
12-جذبات غلام بناتے ہیں
جو شخص غصے، محبت یا حسد میں فیصلے کرتا ہے، وہ ہمیشہ ہارتا ہے۔ دنیا کے شاطر لوگ آپ کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا سیکھیں، دل کی ماننے والے اکثر برباد ہوتے ہیں۔
13-مفت کچھ بھی نہیں
اگر کوئی چیز مفت مل رہی ہے، تو یاد رکھیں کہ پروڈکٹ آپ خود ہیں۔ ہر احسان کی ایک قیمت ہوتی ہے جو سود سمیت چکانی پڑتی ہے۔ کسی کا احسان لینے سے بہتر ہے کہ بھوکے رہ لیں۔
14-تبدیلی یا موت
جو درخت طوفان میں نہیں جھکتا، وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اصولوں پر اڑنے کی بجائے وقت کے ساتھ بدلنا سیکھیں۔ ڈائنوسار طاقتور تھے لیکن ختم ہو گئے کیونکہ وہ بدل نہیں سکے۔ لچکدار بنیں۔
15-اکیلے آئے، اکیلے جانا
قبر میں جگہ صرف ایک کی ہوتی ہے۔ آپ کے دوست، رشتہ دار، اور چاہنے والے جنازہ گاہ تک ساتھ ہوں گے۔ زندگی کا سفر تنہا ہے۔ اپنے فیصلوں اور اپنی خوشی کی ذمہ داری خود لیں۔
یہ اصول ظالمانہ لگ سکتے ہیں، لیکن یہ وہ ڈھال ہیں جو آپ کو دنیا کے وار سے بچائیں گے۔ "شریف بنیں، لیکن بے ضرر نہیں۔"
تحریر: جاوید تیموری
میرے پاکستانیوں!!!
#دین
ضرور پڑھیں پلیز
قرآن کے تراجم
لفظی غلطیاں، فکری اضافے اور مفہوم کی بگاڑ
زاہد جہانگیر
ایک زمانے تک قرآن پاک کا ترجمہ کرناُ معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اور قرآن کو اپنی زبان میں سمجھنے کی ضرورت کے تحت مزہبی علما کے خیال میں تبدیلی آئی اور اب ہر معروف عالم کا کیا ہوا ترجمہ موجود ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ تفسیر بھی شائع کرتے ہیں۔ لیکن میرا سب سے بڑا اعتراض ان مترجم حضرات کے ساتھ یہ ہے کہ ایک اچھا عالم ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ وہ اچھے مترجم بھی ہوں ۔ تو قرآن کا ترجمہ صرف اس لیے کیا جائے کہ چونکہ دوسرے سب علما نے کیا ہے تو میرا کیوں نہیں، تو ُیہ ایک نا مناسب خیال ہے۔
قرآن کے تراجم کی دنیا میں اصل مسئلہ مترجم کی اہلیت کا ہے، نہ کہ متن کا۔ مترجم اگر زبان شناسی میں کمزور ہو تو وہ قرآن کا مفہوم بدل کررکیتا ہے سے دسویں صدی تک فارسی میں تراجم ملنے لگے مک ترجم نہیں تھے بس چند ضروری الفاظ کا مطلب بیان ہوتا تھا ۔ پہلا فارسی ترجمہ دسویں صدی میں کیا گیا ۔ اس کے بعد گیارویں صدی سے اٹھارویں صدی کے دوران ترکش، سندھی ، پنجابی، اور لیٹن زبان کے ترجمے آنے شروع ہوئے۔
سب سے پہلا اردو ترجمے شاہ عبدل قادر اور رفیع ادین کے تھے جو کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں شائع ہوئے بیسویں صدی میں جب پرنٹنگ پریس کا آغاز ہوا تو درجنوں تراجم منظر عام پر آئے ۔ پاکستان بننے کے بعد جھالندھری، مودودی اور عثمانی کے ماڈرن ترجمے بھی سامنے آئے ۔سنئہ ۲۰۰۰ کے بعد ڈیجیٹل دنیا کے آنے سے مختلف طرح کے ایپس اور اون لائن تراجم نے قرآن کی رسائی آسان بنا دی ہے۔تراجم کی تعداد جتنی بڑھی، اختلافات اور خامیاں بھی اتنی ہی واضح ہوتی گئیں۔
بحرحال میں ابھی حال ہی میں پردھے پر ریسرچ کر رہا تھا تو مجھے دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ عورتوں کے عورتوں کے پردھے کے حوالے سے صرف دو آیات ہیں جس پر مسلمانوں نے رائی کا پہاڑ بنا رکھا ہے۔ ان میں سے ایک سورہ الاحزاب۵۹ : ۳۳ اور دوسری سورہ النور کی آیت ۲۴:۳۱ ہے۔ اس میں سے ۳۳:۵۹ میرے نزدیک زیادہُ اہمیت کی حامل ہے۔ یہ آیت کچھ یوں ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمً
اس کا ترجمہ ChatGPT نے کچھ ایسے کیا ہے:
“اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں اور اللہ بڑا بخشنے ہے” ۔
یہ آیت صرف ایک مثال ہے کہ تراجم میں کیسے تبدیلی آتی ہے — اصل موضوع پردہ نہیں، ترجمے کی غلط فہمی ہے۔
جِلباب جس کی جمع” جلابیب” ہے…
جِلباب ایک عرب لباس ہے، اس کا کسی دوسری زبان میں متبادل لفظ موجود نہیں۔ مترجمین نے اپنے ذہن کے مطابق “چادر” یا “بُرقعہ” لکھ دیا، جس سے مفہوم بگڑ گیا۔
اس آیت میں سب سے اہم حصہ کچھ یوں ہے:
يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
اس کا لفظ با لفظ ترجمہ:
يُدْنِينَ — وہ قریب کریں / وہ نیچے لائیں — they should draw / lower
عَلَيْهِنَّ — اپنے اوپر — over themselves
مِنْ — میں سے / سے — from
جَلَابِيبِهِنَّ — اپنے جلباب /پنی چادریں / اپنے اوڑھنے کے بڑے کپڑے — their outer garments / cloaks
اگر میں ترجمہ کروں تو کچھ یوں ہو گا کہ “ اپنے اوپر جلباب پہن لیا کریں”
ہمارے ہاں شدید اختلاف پایا جاتا ہےکیونکہ اصل الفاظ میں نہ چہرہ ہے نہ گھونگھٹ، مگر زیادہ تر مترجمین نے یہ اضافہ خود سے کر لیا۔
دو بنیادی آراء (ترجمے کے اختلاف کو سمجھنے کیلئے)
1) کچھ مفسرین کے مطابق چہرہ شامل ہے — کیونکہ عرب عورتیں جلباب چہرے تک لاتی تھیں۔ یہ قرآن کا لفظ
نہیں، تاریخی تشریح ہے
2) اکثریت کے مطابق چہرہ شامل نہیں — کیونکہ آیت میں
ذکر ہی نہیں۔ اگر مقصود ہوتا تو قرآن خود نام لیتا، جیسا کہ سورہ نور میں سینے کا حکم دیتے وقت لیا۔ یہ دونوں آراء یہاں صرف ترجمہ کی غلطی اور اختلاف کا ثبوت دینے کے لیے ہیں، نہ کہ پردے کی بحث کے لیے۔
میں نے اس آیت کے چھبیس تراجم دیکھے…
یہی 26 تراجم بتاتے ہیں کہ مترجم کا ذہن معنی میں کتنی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔
اردو تراجم
علامہ حواری: اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رکھیں
طاہر القاادری: اپنی چادر اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں
محمد جنا گڑی: اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں
ڈاکٹر اسرار: اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں
بدلالرحمن کیلانی: وہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں
جاری ہے 👇👇
شریف خاندان کی سربراہی میں بننے والی حکومت کہتی ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آ کر ملک کو تباہ کیا تھا ، ہم نے اۤ کر ملک کو ٹھیک کردیا تو آئیے میں آپ کو 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد اسی پی ڈی ایم 2.0 کی حکومت کی کارکردگی اور ملک کو ٹھیک کرنے کی کچھ تفصیلات بتاتا ہوں فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے کہ ملک کس نے ٹھیک کیا تھا اور کس نے تباہ کردیا 👇
گزشتہ چار برس میں ان تجربہ کاروں کی حکومت میں جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے کم ہوکر 2 فیصد پر اۤگئی، ایکسپورٹس سوا 31 ارب ڈالر سے کم ہو کر 30 ارب ڈالر رہ گئیں۔۔قرضہ 51 ٹریلین سے بڑھ کر 81 ٹریلین روپے ہوگیا۔۔ڈالر 176 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک جا پہنچا جس میں وہ بات شامل نہیں جو ڈالر نے انہیں تجربہ کاروں کی حکومت میں ڈالر نے 350 کا ٹارگٹ ہٹ کیا تھا اور پھر وہاں سے 280 پر واپس آگیا یا لایا گیا
پٹرول 150 روپے سے بڑھ کر 366 روپے ہوگیا یاد رہے کہ انہی تجربہ کاروں کی دور میں پٹرول نے 458 روپے فی لیٹر ہٹ کیا ہیں جوکہ پاکستان بننے کے بعد تاریخ میں پہلی بار اتنا اضافہ ہوا ہیں جوکہ آج تک کسی نے بھی نہیں کیا تھا حتی کہ فوجی ڈکٹیٹرز نے بھی نہیں کیا تھا.
بجلی کی قیمت 17 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 58 روپے فی یونٹ ہوگئی۔۔ایف ڈی اۤئی یعنی بیرون ملک سے آنے والی سرمایہ جسے ہم انگریزی میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ بولتے ہیں وہ تاریخ کی کم ترین سطح پر اۤگئی۔۔سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی اپنے عروج پر پہنچ گئی جس میں پچھلے دنوں اس حکومت کا ترجمان، سینٹر وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کراچی میں خود پریس کانفرنس میں اقرار کردیا کہ پاکستان سے پچھلے تین سالوں میں 100 ارب ڈالرز بیرون مُمالک میں منتقل کئے گئے ہیں جس میں انہوں نے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر جون 2026 کی بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالرز واپس نہیں لائے گئے تو ہم صرف دو بندوں کو اٹھائیں گے اور پھر اس ساری کرپشن یا منی لانڈرنگ کا کچھا چٹا کھول دیں گے۔
اسد اللَّهَ خان کی گفتگو 💔
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
@RoymukhtarRoy آپکا لکھا ہوا ایک ایک لفظ ایک من سونا کے برابر یا شائد اس سے کہیں زیادہ ہے
اللہ کےجوحقیقی دوست ہیں انکے بارے میں سُن پڑھ رکھا تھا
لیکن
اس اللہ کے چُنے ہوئے بندے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اپنے کانوں سے سُنا ہے
بقایا جو مخالف ہیں اللہ نے اُن کی آنکھوں اور عقل پر پردہ ڈال رکھا ہے
یہ اسلامک پاکستان ہے ۔ 🤔
✓حسین شہید سہروردی کو کتا غدار ✓لیاقت علی خان نے ریڈیو پاکستان پر کہا
✓محترمہ فاطمہ محمد پر بھائی کے ساتھ بدکاری کا گھٹیا ترین الزام جنرل ایوب خان نے لگایا
✓بھٹو نے کہا اسی لیے بڈھی شادی نہیں کرتی
✓بنگالیوں کو سور کا بچہ بھٹو نے کہا
✓نصرت بھٹو کو گشتی، بینظیر کو پیلی ٹیکسی لقب ن لیگ نے دیا اور انگریزوں کے کتے نہلانے والی نوازشریف نے جلسے میں کہا
✓بینظیر کی ننگی تصاویر اخباروں رسالوں میں نوازشریف نے چھپوائیں ہیلی کاپٹر سے پھینکوائیں
✓زرداری کو ڈاکو کا لقب نوازشریف نے دیا
✓فضل الرحمن کو ڈیزل اور شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی خواجہ آصف نے اسمبلی فلور پر کہا
✓رفیق تارڑ کو بریف کیس مولوی زرداری نےکہا
✓نوازشریف کو ضیا الحق کا بیٹا بلاول نے کہا
✓جہانگیر ترین کو ڈاکو اور چینی چور ن لیگ شہبازشریف نے کہا
✓زرداری کو علی بابا چالیس چور زر بابا شہبازشریف نے کہا
✓مریم کو بدکردار اور صفدر کو ڈبل شفٹ لگانے والا رانا ثناء نےکہا
✓عمران خان کو یہودی ایجنٹ فضل الرحمن نے کہا
اور طالبان خان ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے کہا ان تینوں میں سے کون درست ہے؟؟
✓امریکن چینل پر خواجہ آصف نے کہا تحریک انصاف زیادہ اسلامی پارٹی ہے ن لیگ لبرل ہے
✓شہبازشریف نے اسمبلی فلور پر کہا تحریک انصاف کا مذہب کی طرف بڑھتا رجحان تشویشناک ہے ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔
✓پی ٹی آئی کی خواتین ایم پی ایز کے بارے میں ٹی وی پہ گندی لغویات عابد شیر نے کہیں
✓مراد سعید پرجھوٹی بہتان تراشی عبد القادر پٹیل نے اسمبلی فلور پر شروع کی بعد میں کئی نے اپنی زبان پلید کی
]عمران خان کی بیوی پر جادو ٹونے کے جھوٹے بہتان سلیم صافی، حامدمیر، آصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، محسن بیگ، نجم سیٹھی، مطیع للہ، عمرچیمہ، مریم صفدر، رانا ثناء، پرویز رشید سمیت دیگر ن لیگیوں نے کھل کر لگائے۔
✓پنجابیوں کو غدار اچکزئی نے کہا
پختونوں کو گندگی زرداری نے حامد میر کے پروگرام میں کہا
✓بیرون ممالک مقیم تمام پاکستانیوں کو یہودی ایجنٹ فضل الرحمن نے جلسے میں کہا
لمبی لسٹ ہے اب آپ بطور پاکستانی سوچیں ان لوگوں کی اخلاقی حالت کیا ہے لیکن یہ لوگ آپکے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ کیا اللہ تعالی اسلام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی تعلیمات تھیں ؟؟ کیا ہم لوگ اتنے گرے ہوئے ہیں کہ یہ سب کچھ دیکھ سن کر بھی ہم پھر انہی لوگوں کو 80 کی دہائی سے آج تک مسلسل اپنا مسیحا سمجھتے ہیں جبکہ ملک اس عرصے میں 40ویں نمبر سے 193 نمبر پر چلا گیا سارے ممالک ہمیں اوورٹیک کرتے گئے اور ہم آج ورلڈ میں سب سے آخر میں کھڑے ہیں کس چیز پر آپکو فخر ہے؟ ججز ۔ بیوروکریٹس سرکاری ملازمین رشوت خور کام چور۔ ذاتی کاروبار والے ملاوٹی 2 نمبر۔ دکاندار اور دیگر پیشہ ور 2 نمبر ۔ کونسا معرکہ ہم نے سر کیا 78 سال میں کیا سیکھا؟ چوری کرنا۔ زنا کرنا ۔ رشوت لینا ۔ فرض شناسی نہ کرنا ۔
مکار کاروباری سیاستدانوں نے عام عوام کو اس شغل میں لگا کر اصل مسئلے سے عوام کی توجہ ہٹائی ہوئی ہے کہ انکے بنیادی مسائل پانی گیس بجلی صحت تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن عوام اسی شغل میں الجھی ہے جسکا عوام کو رائی برابر فائدہ نہیں لیکن کیسے عوام کو سمجھایا جائے کہ اس شغل کھیل میں آپ کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے ۔
اللہ تعالی اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنا نہیں چاہتے۔ اب بھی وقت ہے سوچو۔خود کو بدلو مسلمان بنو ۔ حرام رشوت 2 نمبری کام چوری سے باز آجاو اور اچھے برے کی پہچان کرو شاید ایک کامیاب ملک اور قوم بن جاو۔
لیکن پاکستان کلمے کے نام پر لیا گیا تھا کہہ کر کلمے کی عزت خراب مت کریں۔
منقول