بلوچستان کے دو مختلف علاقوں آواران اور چاغی (دالبندین) میں مسلح کارروائیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں ایک جگہ مبینہ ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے واقعے میں بلوچستان افغان سرحدی علاقے جانے والے ٹرک کو آگ لگا دی گئی۔
#SangarNews#dailysangar#Balochistan #PakistanArmy #BalochWarriors
https://t.co/e9dFNCi9hY
Families of Basheer, Arman, Shakeel, and Subdar, killed in a fake state encounter, refused to sign the illegal form and rejected false accusations against their children as terrorists.
Basheer’s mother said, ‘We reject the bodies of our innocent sons under these inhuman conditions, as it could overshadow the struggle of thousands of Baloch missing persons’ families.
The resolve of these courageous Baloch mothers will undermine the oppressive rule of this so-called democratic state.
#EndBalochGenocide
I fear, and expect, that our slow genocide will be replaced by a rapid one. This State has long prepared for our nation’s death— It has practiced it every day for years.
#EndBalochGenocide
ریاست کے جانب لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے بعد انتظامیہ انکے لواحقین کو انکے لاشیں دینے سے انکاری ہے۔ ان خاندان کو اپنے بچوں کے لاشوں کو لینے کے لیے زبردستی ایک غیر قانونی فارم دستخط کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ ان کے خاندان کسی بھی صورت اس غیر قانونی فارم کو دستخط نہیں کریں گے۔
کوئٹہ کے باشعور عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ کوئٹہ سیول ہسپتال جلد از جلد پہنچ جائیں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف مزاحمت کا حصہ بنیں ۔
آج یہ صرف عوامی جلسہ نہیں ہے، یہ صرف اجتماع نہیں ہے، بلکہ یہ عوامی ریفرنڈم ہے، یہ بلوچ قوم کا فیصلہ ہے یہ بلوچ عوام کے عدالت کا فیصلہ ہے۔ بلوچ عوام آج اپنا فیصلہ کرچکی ہے، کہ وہ اپنے نسل کشی کے خلاف متحد کھڑی ہے ،اب ہم آپ کو پیغام دیں گے آپ طاقت اور ہتھیار استعمال کریں یا ہمارے خلاف جھوٹا پروپیکنڈہ کریں۔ ہم دونوں صورتوں میں اپنے عوامی مزاحمت سے آپ کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
کوئٹہ : جس طرح ریاستی مشینری کا استعمال کرکے ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہاہے اس سے آدھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تو آج جبری گمشدگیوں ریاستی تشدد اور بلوچ نسل کشی کا چیپڑ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ! مگر تمام توانائی و وسائل ہمیں بیرونی ایجنٹ ثابت کرنے کے لیے ضرف کیے جارہے ہیں
ہمارے خلاف ریاست کے سارے ستون اکھٹے ہوچکے ہیں ہم خوفزدہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ ہمارے ساتھ ہماری قوم اور دیگر مظلوم اقوام کھڑے ہیں دنیا بھر میں ہمیں مورل سپورٹ اور پیغامات مل رہے ہیں
جس طرح اسلام آباد میں ہم پر تشدد ہوا تو یوریی یونین نے آپکو طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کرنے کو کہا اور ساری دنیا میں آپکی ہی جگ ہنسائی ہوئی ۔
آپ ہمارے خلاف ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے ہمارے لیے دنیا بھر کے دروازے کھل جائیں گے وہ آپ پر ہے کہ آپ ہمارے مطالبات مان کر ہمارے ساتھ انسانوں جیسا برتاو کروں گے یا ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھ کر ہماری نسل کشی جاری رکھو گے
#MarchAgainstBalochGenocide
کوئٹہ : جن کو لگتا تھا اسلام آباد دھرنے سے واپس بلوچستان جانا ہماری شکست ہے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ہماری شکست :
ہم نے یہ کمایا ہے عوامی طاقت ہی ہماری فتح ہے عوامی طاقت سے ہی ریاستی تشدد بلوچ کش پالیسیوں کا مقابلہ کریں گے عوامی طاقت سے ہی اپنے پیاروں کو بازیاب کروائیں گے عوامی طاقت سے ہی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو روکیں گے
ہم خالی ہاتھ بلوچستان لوٹ کر نہیں ائے ہیں آپکی بربریت اپنے ساتھ کی جانے والی سلوک کی داستانیں لے کر ائے ہیں یہ عوامی اجتماعی ہمارے استقبال کے لیے نہیں بلکہ تمہاری دہشت اور وحشت کے خلاف تمہاری بے جا طاقت کے استعمال کرنے کے خلاف عوامی عدالت میں عوام کا فیصلہ ہے
جہاں مدعی عوام منصف بھی عوام ہی ہیں
ہماری جدوجہد اسلام آباد میں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ جدوجہد نئی شکل نئی رنگ میں شروع ہوئی ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد : سازشوں کے اس شہر اقتدار میں ہماری آخری رات :
جبر کی ایسی کئی راتیں ہم نے حوصلوں سے مات دی ہیں سرد راتوں کو کانپتی مائیں سینے سے لگائے اپنے بچوں کی تصویریں کھلا آسمان چاروں اطراف بندوق بردار اور ہم نہتے لوگ ۔۔۔!
بڑی بڑی عمارتوں سبز اور سرخ بتی والی گاڑیوں میں بیٹھے اقتدار کے پوچاریوں کی نگاہوں میں ہم چھوٹے ضرور نظر اتے ہیں
مگر ہمارے حوصلے بولان کی سنگلاخ پہاڑوں کی طرح بلند ہیں
ہم نے ظالم کی طرف انگلی اٹھا کر اسکے منہ پر اسے ظالم اور جابر کہا اسکی بربریت کی کہانی انکوں بتاتے ہوئے ہچکچائے نہیں ان قلم پروش ضمیر پروشوں کی طرح ڈرے نہیں ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے رہے :
ہم نے ایسی سیاہ تاریک راتیں پہلے بھی دیکھی ہیں مگر اس سحر کی امید ہماری جیت کی چاہ ہمارے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی ہیں ۔
ہم اس وقت تک لڑیں گے جبتک لڑنے کی ضرورت باقی ہے
یہ لڑائی صرف بلوچوں کی نہیں پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والی زیر دست اقوام کی لڑائی ہے جس کو منزل تک پہنچائیں گے
رات باقی ہے سفر اور سفر اور سفر
#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد : میری پندرہ سال کی جدوجہد میں اپنے گھر سے زیادہ وقت میں نے پریس کلبوں کے سامنے گزارا ہے کوئٹہ پریس کلب کراچی پریس کلب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے میری زندگی کا بہشتر وقت احتجاجوں میں گزرا ہے ایسا وقت بھی ہم نے دیکھا ہے ہماری پریس کانفرنس کی کوریج میں ایک صحافی اور ساتھ میں پریس کلب کا صرف چوکیدار بیٹھا ہوتا تھا مگر بدقسمتی سے آج اسلام آباد پریس کلب کی جانب سے ہمارے احتجاجی دھرنے کا عذر جس طرح سے پیش کیا گیا اس سے لگتا ہے ریاست کے سارے ستون ہمارے خلاف ہیں پہلے تو ہماری احتجاجوں کو کوریج نہیں دی جاتی تھی مگر اب صحافی فریق بن کر ہمارے احتجاج سے بھی نالاں اور بیزار نظر آرہے ہیں
مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ صحافتی زمہ داریاں کیا ہوتی ہے مگر اتنا ضرور کہو گی کہ ایک طرف طاقتور اوردوسری طرف کمزور ہوں تو ہمیں طاقتور کے بجائے کمزوروں کی دادرسی کرنی چاہیے
#MarchAgainstBalochGenocide