سندھ اسمبلی میں تین روز تک تقاریر اور نعرے بازی سے 18 سال کے مسائل ختم نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عوام اپنی محرومیوں کو بھول سکتے ہیں۔
چوہڑ جمالی، ضلع سجاول میں بڑے عوامی اجتماع اور پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں ہونے والی بحث عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، کرپشن اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے صرف جذباتی تقاریر سے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
عوام نعرے نہیں، اپنے مسائل کا حل اور اپنی 18 سالہ محرومیوں کا جواب چاہتے ہیں۔
علامہ راشد محمود سومرو
چوہڑ جمالی، ضلع سجاول
تین دن سندھ اسمبلی میں ڈراما رچا کر 18 سال کے گناہ معاف نہیں کروائے جا سکتے!
سندھ سندھ کے نعرے لگا کر عوام کی آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کا وقت گزر چکا ہے۔ عوام کو معلوم ہے کہ ان 18 سالوں میں سندھ کے ساتھ کیا ہوا، کرپشن کہاں تک پہنچی، میرٹ کا کیسے قتل ہوا، نوجوان نسل منشیات میں کیسے ڈوبی اور تعلیم و صحت کا نظام کیوں تباہ ہوا۔
ٹنڈوباگو میں کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تین دن تک جاری رہنے والی بحث عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام ان 18 سالوں کا حساب ضرور لیں گے، نہ گناہ بھولیں گے اور نہ محض جذباتی نعروں پر انہیں معاف کریں گے۔
علامہ راشد محمود سومرو، کا بدین میں پریس کانفرنس ٹنڈوباگومیں عوام اجتماع سے خطاب
گولارچی بدین میں عوامی سیلاب امڈ آیا
میرے لیے محترمہ فریال تالپر صاحبہ قابلِ احترام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں صوبوں کی حمایت کروں تو حلقے کے عوام کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ انہوں نے اپنے ممبران کو مخاطب کرکے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز! اگر آپ نے صوبہ سندھ کی تقسیم کی بات کی تو محترمہ بینظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے؟
انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم پر صرف بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانا ہے، کرپشن پر کوئی منہ نہیں دکھانا؟ صرف سندھ کی تقسیم پر بینظیر صاحبہ کو منہ دکھانا ہے، نوکریاں بیچنے پر کوئی منہ نہیں دکھانا؟ سندھ کی کرپشن پر بینظیر بھٹو صاحبہ یاد آتی ہیں، لیکن ہزاروں لوگ قبائلی لڑائیوں میں قتل ہو رہے ہیں، قتل کرانے والے قبائلی سرداروں اور جرگے نہ کرانے والے قبائلی سرداروں کو ٹکٹ دے کر وزیر بنایا ہوا ہے، وہاں محترمہ بینظیر بھٹو آپ کو کیوں یاد نہیں آتیں؟
علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ بینظیر صاحبہ کی تو فکر ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ ہسپتالوں میں کرپشن کر رہے ہیں، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ نوکریاں بیچ رہے ہیں، اللہ کی فکر نہیں کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
گولارچی بدین میں عوامی سیلاب امڈ آیا
سندھ کی تقسیم کا ذکر آتے ہی محترمہ بینظیر بھٹو یاد آتی ہیں، لیکن سندھ میں کرپشن کرتے وقت کیوں یاد نہیں آتیں؟
نوکریاں بیچتے وقت کیوں نہیں؟
ہسپتالوں میں کروڑوں روپے لے کر پوسٹنگز دیتے وقت کیوں نہیں؟
منتھلیاں وصول کرتے وقت کیوں نہیں؟
میرٹ کا قتل کرتے وقت کیوں نہیں؟
سندھ کے وسائل کی لوٹ مار کرتے وقت کیوں نہیں؟
بدین میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو کو منہ دکھانے کی فکر ہے، لیکن اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے، اس کی کوئی فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کم از کم جتنا بینظیر سے ڈرتے ہو، اتنا اللہ سے ڈر کر سندھ پر رحم کرو، سندھ کے عوام پر رحم کرو۔
علامہ راشد محمود سومرو کی بدین میں پریس کانفرنس
اداروں کی عزت کرو!
ادارے کسی فرد یا جماعت کے نہیں، پوری قوم کے ہوتے ہیں۔
انہیں سیاسی لڑائی میں گھسیٹنا اداروں کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف سیاسی اختلاف ہے تو سیاسی میدان میں جواب دو۔
#لعنتی_امریکی_پٹو#وسائل_چور#ڈیجیٹل_حرام_خور#سلیکٹڈ_بدامنی
#کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا