ڈاکٹر عرفان اشرف کے خلاف کشمیر میں وہ مافیا سرگرم ہے جن کی وجہ سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنی اور آج وہ ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ڈاکٹر عرفان اشرف کے خلاف سرگرم ہے حملہ کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈہ بھی کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عرفان اشرف کا قصور یہ ہی تھا اسکیم خور مافیا کے خلاف علمِ جہاد بلند کر رکھا تھا اور نظریہ پاکستان کو گھر گھر پہنچانے اور مزید کشمیر کے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔
آج اگر ان کالی بھیڑوں کا احتساب کشمیر میں نہ ہوا حالات مزید خرابی کی طرف گامزن ہوسکتے ہیں۔
#کشمیر #Kashmir #Rawalakot #JAAC
ڈاکٹر عرفان اشرف @irfanashraf36 پر حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے سیاسی اختلافات کو تشدد کے ذریعے حل کرنے کی روایت کسی صورت قبول نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور تمام سیاسی و سماجی شخصیات کے
تحفظ کو یقینی بنایا جائے
#DoctorIrfanAshraf #CondemnViolence #RuleOfLaw
@irfanashraf36@MohsinnaqviC42@OfficialDGISPR
@BabarKhajjak May Allah protect him always Ameen
The shit enemy is afraid of his thoughts, his work and his credibility of services for the people of Kashmir
@irfanashraf36 brother may Allah be with you always Ameen our prayers are with you always
فیلڈ مارشل کی بے مثال اور بہترین کاوشوں کے نتیجے میں خطہ بڑی بد*منی سے بال بال بچ گیا ہے اور اب یہاں جلد ہی مکمل امن قائم ہونے کے واضح امکانات روشن ہو چکے ہیں، مروہ بلوچ
ف*نہ ال*ندوستان نے جس قسم کے سنگین اقدامات کیے، ان پر شدید ت*ویش پائی جاتی ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز اور افواجِ پاکستان نے بروقت کار*وائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں رکھا، جس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، مروہ بلوچ
🚨رضا بلوچ بلوچستان کے ایک نوجوان تھے انہیں جاننے والے انہیں ایک خوش اخلاق زندہ دل اور متحرک نوجوان کے طور پر یاد کرتے ہیں ان کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور سوشل میڈیا پر بھی ان کی اچھی خاصی موجودگی تھی عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت رکھنے والے بعض نوجوانوں کو بی وائی سی و بی ایل اے اپنے بیانیے کے فروغ کے لیے اپروچ کرتے ہیں
اور بالکل اسی طرح رضا بلوچ کے ساتھ بھی کیا گیا اور بعد میں انہیں اپنی دہشت گردی کا ایندھن بنا کر ان کی فیملی کو رضا بلوچ کے مستقبل اور کامیابی سے محروم رکھا گیا
🚨بعد ازاں فروری 2026 میں فتنہ الہندستان سے منسلک دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں رضا بلوچ کا نام سامنے آیا جہاں انہیں آپریشن ہیروف ٹو سے منسلک قرار دیا گیا اس کے بعد بلوچستان میں ایک نئی بحث نے جنم لیا اور متعدد مقامی لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ رضا بلوچ کو بھی وائی سی کے ذریعے اس انجام و مقام تک پہنچایا گیا جہاں وہ ایک بے مقصد اور لاحاصل موت کا شکار بنے
🚨ان تصاویر کے تناظر میں چند حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہیں اگر رضا بلوچ کی تصاویر بی وائی سی سے وابستہ شخصیات اور کارکنوں کے ساتھ موجود ہیں وہ بی وائی سی کے مختلف اجتماعات جلسوں جلوسوں اور دھرنوں میں شریک رہے ان کے پاس بی وائی سی کی رکنیت یا شناخت سے متعلق چیزیں موجود تھیں تو کیا ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچتے کہ بی وائی سی دہشت گردوں کی فیکٹری ہے جو کہ معصوم نوجوانوں کو دہشت گردانہ گروہوں کی طرف راغب کرتی ہے
اور بی وائی سی ہی رضا بلوچ کا قاتل ہے
🚨رضا بلوچ کی تصاویر بی وائی سی کی بعض نمایاں شخصیات ماہزیب بلوچ اور فاطمہ بلوچ سمیت مختلف افراد کے ساتھ موجود ہونا اس بات پر مہر تصدیق لگا دیتی ہے کہ وہ بی وائی سی کا رکن تھے اور بی وائی سی کے ذریعے وہ بی ایل اے کا اہلکار بنے اور بی وائی سی نے اسے اس ذہنی کیفیت میں مبتلا کیا جہاں نوجوانوں کو صرف شدت پسندیدگی اور دہشت گردی بطور ایک فرض نظر آتی ہے اسی طرح بعض حلقے صبغۃ اللہ شاہجی اور دیگر بی وائی سی کے کارکنوں کے ساتھ موجود تصاویر کا حوالہ دے کر مزید اس حقیقت کے قریب پہنچتے ہیں کہ بی وائی سی ایک پرامن تحریک نہیں بلکہ بی وائی سی بلوچستان کے معصوم بچوں سے قلم چھین کر انہیں بندوق تما کر ان کی زندگیوں کو برباد کر کے انہیں بی ایل اے کا حصہ بناتی رہی ہے
🚨یہ کہانی اس لیے اہم ہے کیونکہ ایک نوجوان کی زندگی ضائع ہوئی اگر ایک نوجوان شدت پسندی کے راستے پر چلا گیا تو معاشرے کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس کے پیچھے بی وائی سی کے عوامل کارفرما تھے جس کی تصدیق رضا بلوچ کے بی وائی سی کے مختلف جلسوں میں شامل ہونا اور بی وائی سی کی ہائی لیڈرشپ کے ساتھ ویڈیوز اور نشست کرتے ہیں یہ محض انفرادی فیصلہ نہیں تھا اس کے پیچھے بی وائی سی کی نظریاتی اور تنظیمی اثرات بھی موجود تھے
🚨اسی تناظر میں بلوچستان میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ بی وائی سی کے کردار اور ان کے بیانیوں کا عدالتی جائزہ لیا جانا چاہیے ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ نوجوانوں کو مثبت سیاسی جدوجہد تعلیم اور ترقی سے دور کرکے بی وائی سی ایسے راستوں کی طرف دھکیل کیوں رہی ہیں جن کا انجام تباہی ہے
اور بلوچستان کا باشعور طبقہ اس کا جواب "بی وائی سی ایک دہشت گرد تنظیم ہے" سے دیتے ہیں
🚨رضا بلوچ کا واقعہ ایک نوجوان کی زندگی کے ضائع ہونے کی کہانی بھی ہے اور ایک ایسی حقیقت بھی ہے جو آج تک بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث ہے
کہ ایک معصوم نوجوان کی زندگی تباہ کر دی گئی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حقائق تصاویر شواہد کی بنیاد پربی وائی سی کی غداریاں اور غیر ملکی ایجنسی کے ساتھ روابط تلاش کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایسے انجام سے بچایا جا سکے
پاکستان زندہ باد
@OfficialDGISPR@FCBln_South@PakSarfrazbugti@MohsinnaqviC42
#balochunityforpakistan
#pakistanpivotofpeace
#GranHermanoGeneraciónDorada
#RealZaragozaMálaga
#pakistanmediagoesglobal
#Pakistán #ShigarMainTeerChaleyGa
#cdfisabsolutelygreat
#cdfprideofpakistan