تین قسم کےلوگوں کو کبھی بھی فراموش نہ کیاجائے
ایک وہ لوگ جو
مصیبت اور آزمائش میں آپ کے ساتھ کھڑےرہے
دوسرے وہ لوگ جنہوں نے
مصیبت اور آزمائش میں آپ کو تنہاچھوڑدیا
تیسرے وہ لوگ جو
آپ کومصیبت اورآزمائش میں ڈالنے کاسبب بنے
یعنی غدار ٹولے اور ٹولیاں
@AltafHussain_90@OfficialMqm
7 ،اگست2023ء
قوموں کےعروج وزوال کی بنیادی وجہ ''غداری''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوموں کےعروج وزوال میں متعدد نمایاں وجوہات ہوتی ہیں جن میں ایک بنیادی وجہ ''غداری'' کاعمل بھی ہوتا ہے ۔ کسی بھی قوم میں، اپنی قوم کے عوام کی حمایت اور قربانیوں کی بدولت بڑے بڑے مناصب حاصل کرنے والے عناصر جب یہ بھول بیٹھتے ہیں کہ انہوں نے جوجو بھی مناصب حاصل کیے ہیں وہ اپنی جماعت اورعوام کی حمایت سے حاصل کیے ہیں اور یہ تمام کے تمام حاصل ہونے والے مناصب تحریک اور قوم کی امانت ہوتے ہیں،اس سوچ کےخلاف وہ عناصر ،حاصل ہونے والے مناصب کوجب اپنی اپنی صلاحیتوں کا صلہ سمجھنے لگتے ہیں تو وہ غداری کی لعنت کاشکارہوجاتے ہیں۔
اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں میں صرف اورصرف ایم کیوایم ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے اور جس نے ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ،سردارانہ اوربےلگام سرمایہ دارانہ نظام کےخلاف ایک ''انقلابی نظریہ'' صرف دیا ہی نہیں بلکہ اُس پر عمل کرکے بھی دکھایا۔
پاکستان کے فرسودہ جاگیردارانہ نظا م میں غریب ،لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس طبقے کیلئے انتخابات میں حصہ لینا اور منتخب ایوانوں کی رکنیت حاصل کرناناممکن تصورکیاجاتاتھا لیکن ایم کیوایم نے اپنے انقلابی نظریے کے ذریعے اس ناممکن کوممکن کردکھایا۔ایم کیوایم کے اس انقلابی نظریئے کے تحت ایم کیوایم نے غریب، لوئرمڈکل کلاس اور مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھنے والے اپنے نمائندوں کوپاکستان کے قیام سےلے کر 40 سال تک ، 1987ء میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیکر پہلی مرتبہ میئرزاورڈپٹی میئرز کے عہدوں تک پہنچایا اور 1988ء سے لیکر 2013ء تک ہونے والے تمام بلدیاتی اور عام انتخابات میں غریب ومتوسط طبقےسےتعلق رکھنے والےامیدواروں کونامزدکیا،عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ دیئے جس کی وجہ سے ایم کیوایم کے نامزد امیدوار،اِ ن انتخابات میں تاریخی کامیابیاں حاصل کرکے نہ صرف صوبائی وقومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن بنے بلکہ میئرز اورڈپٹی میئرز کے علاوہ وفاقی وصوبائی وزیر اورمشیر بھی بنے ۔
لیکن آہستہ آہستہ ایم کیوایم کے یہ منتخب اراکین، میئرز، ڈپٹی میئرز ، صوبائی ووفاقی وزیرسےلے کر صوبہ سندھ کے گورنر بننے تک کے عہدوں پر پہنچ کر عوام کی حمایت ، قربانیوں اوراپنی تحریک ایم کیوایم کے فلسفے کو بھول گئے اور فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے روپ میں ڈھلتے ڈھلتے بالآخر قوم اور تحریک کے ''غدار'' بن بیٹھے اور پھر اس طرح ان غداروں نے تحریک کے شہداء کے مقدس لہواور تحریک کے'' نظریئے ''کاسودا بھی کرڈالا۔
ان مفادپرست عناصر نے غداری کاعمل کرکے قوم کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا جو قوم کے بڑے بڑے دشمن بھی اُسے نہ پہنچاسکے۔قوم کے یہ تمام غداران جو کل تک غریب یا لوئر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے تھے وہ آج اپنے ظرف وضمیر اورشہیدوں کے لہو کا سودا کرکے بڑے بڑے بنگلوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ کروڑپتی سے لیکرارب پتی تک بن چکے ہیں جبکہ قوم پہلے سے زیادہ مشکل اور انتہائی تکلیف دہ حالات کا شکارہوچکی ہے۔
جس کی تازہ ترین مثال مردم شماری میں دھاندلی ہے ۔ قوم کے غداروں نے حالیہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم کیے جانے والے گھناؤنے اورمتعصبانہ عمل کو جائز قراردیتے ہوئے PDM کی حکومت کے تسلیم کردہ مردم شماری کے دھاندلی زدہ تناسب کے مسودے پر دستخط بھی کرڈالے اورکراچی کی آبادی کم ظاہرکرنے کے گھناؤنے عمل میں سہولت کاری کرنے والے یہ غدارعناصر ،قوم فروشی کے مکروہ عمل پر فخرکرکے عوام کے زخموں پر نمک پاشی بھی کررہے ہیں۔
قوم کے ہرسچے وفاپرست فرد کو میری اس تحریر جو میں اپنے اس Tweet کے ذریعے آپ تک پہنچا رہاہوں وہ اس تحریرکے ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملے کو باربار غورسے پڑھ کر اندازہ کریں کہ آج قوم کی جو شکستہ حالت ہے اور قوم جن مصاب ومشکلات کا شکار ہے، اس میں قوم کے غداروں کا کتنا بڑا حصہ ہے ۔
قوم کے ہرسچے وفاپرست اور ہمدرد فرد سے میری یہ پرزور اپیل ہے کہ وہ قوم کے ان ضمیرفروش غداروں کا مکمل ''سوشل بائیکاٹ'' کریں اورماضی کی طرح اپنے بھرپوراتحاد کامظاہرہ کریں ۔
شکریہ
دعاؤں کاطالب
آپ کا اپنا
الطاف حسین (لندن)
7، اگست2023ء
لاپتا افراد کی بازیابی کے لیۓ اور لاپتا کرنے والوں کے مظالم کے خلاف، ہفتہ گمشدہ افراد منایا جارہا ہے، دوستوں نے 12 اگست کا دن مہاجر لاپتا افراد کے لیۓ مختص کیا ہے، اسی طرح ہر قوم پر مظالم کے خلاف ایک ایک دن رکھا گیا ہے۔
الطاف بھائی سے وابستگی (جسکا تحفظ آئین پاکستان کا آرٹیکل 17 کرتا ہے ) کے جرم میں آج 32 سال ہوجانے کے بعد بھی کچھ مہاجر لاپتا افراد گھروں کو نہیں لوٹے، اسی طرح دیگر قومیتوں کو بھی انکے وجود، وابستگی یا نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے، لہٰذا سب کا ظلم کے خلاف ایک ساتھ آواز اٹھانا بہت ضروری ہے۔
@ImaanZHazir@AminaMJanjua@BalochV4Justice@OfficialMqm@aishamj7@AK_Forty7@Sarawaan1
اب وفا پرستوں کو چاہیئے کے وہ ٹوئٹر پر آئیں زیادہ سے تعداد میں۔ فیس بک پر آپ کے مخالفین آپ سے مقابلہ نہیں کر سکتے اب آگے بڑھیں اور ٹوئٹر اکاونٹس کھولیں اور اس میں الطاف حسین بھائی کے حق میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔۔۔ @AltafHussain_90
کراچی جس کا رقبہ 3780 sqkm ہے اور لاہور کا 1772 sqkm اور آبادی میں کراچی سے بھی آگے۔ یہ کونسی سائنس ہے🤔🤔🤔
مطلب اتنا لوٹ چکے ہو پھر بھی حرامخوروں کا پیٹ ہی نہیں بھر رہا ہے۔
ایم کیوایم کی جانب سے 13 یا 14 اگست کو کسی قسم کی ریلی نکالنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ
اس حوالے سے سوشل میڈیا پرپھیلائی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، کارکنان اور ہمدرد عوام افواہوں پرکان نہ دھریں۔ رابطہ کمیٹی
2005ءکےقیامت خیز زلزلےکےبعد باربار بیان دیتارہا ہوں کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(PDMA) کوانتہائی فعال بنایاجائے،الطاف حسین
اگرمیری اپیلوں پرکان دھراجاتا تو 2005ءکےبعد پاکستان میں قدرتی آفات اورحادثات میں بےشمارقیمتی جانوں کازیاں ہرگز نہ ہوتا،الطاف حسین
ہزارہ ایکسپریس حادثے میں مسافروں کےجاں بحق اور زخمی ہونے پراظہارافسوس
مکمل بیان ملاحظہ کیجئے👇👇👇👇
بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی جرنل عاصم منیر سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے اپیل پر مہاجر قوم کی ایک بیٹی کے جزبات اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب ملکر ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کے تمام اہل خانہ متحد ہوکر اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے خلاف اجتجاجی مظاہرہ کریں #AltafAppealsForMissingPersons
@OfficialDGISPR@AltafHussain_90@OfficialMqm
قائد تحریک الطاف حسین پر سے
غیر آئینی غیر قانونی پابندی ختم کی جائے ....
جیئـــــــــــے قــــائد تـــحــر یـــک الـــــطـــــا ف حــــــســــیـــن
جیئـــــــــــے مہــــــــــــــــــا جــــــــــــــــــــر
آپ پابندی ہٹاؤ نا ہٹاؤ ترانا سننے پر مقدمات بناؤ۔آپ نے ہمیں لاپتہ کروا کر بھی دیکھ لیا ہمارا کاروبار بھی چھین لیا ہماری پارٹی بھی چھین لی پر اس دل سے تم الطاف حسین کو کیسے نکالوں گے۔ہم باز نہیں آنے والے
آگ لگے بستی میں
بھائی والے اپنی مستی میں
#ہر_ظلم_کے_خلاف_الطاف_الطاف
تیسری دنیا کی عدالتیں اورنظام انصاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری دنیا کے عوام اپنے اپنے ممالک میں انصا ف کے حصول کے لئے انہی مشکلات سے گزرتے ہیں جن کا سامنا پاکستان کے 98فیصد عوام گزشتہ 75سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان مشکلات کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ان ممالک میں حقیقی جمہوریت یاتوسرے سے موجود نہیں ہے اوراگرہوبھی تووہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مکمل طورپرزیراثرہوتی ہے ۔ دوسری بڑی وجہ ان ممالک میں بدترین کرپشن کا ہونا ہے ۔ ان ممالک میں شائد ہی حکومت کا کوئی ادارہ ایسا ہو جہاں کرپشن نہ ہو۔چھوٹی عدالتوں میں تورشوت کھلی اورعام ہوتی ہے جبکہ بڑی عدالتیں چونکہ فوج یا اشرافیہ کے زیراثرہوتی ہیں لہٰذا عموماً ان میں رشوت کی لین دین کے طریقہ کار اورانداز زرامختلف ہوتے ہیں اوراسی لحاظ سے مقدمات کے فیصلے بھی کئے جاتے ہیں۔
ان ممالک کی سب سے بڑی عدالتیں یعنی سپریم کورٹس عموماً فوجی یا سول اسٹیبلشمنٹ یا پھر وہاں موجود ارب پتی،کھرب پتی اوربااثرسیاستدانوں کے زیراثر ہوتی ہیں۔ ان ممالک کے آئین میں موجود لکھے گئے قوانین کی خلاف ورزیوں کے عمل کوسپریم کورٹ ہی جائز قرار دے کرسیاہ کوسفید اورجھوٹ کوسچ میں تبدیل کردیتی ہیں ۔
ان دوبڑی اوردیگروجوہات کی بنیاد پر ان ممالک کے 98 فیصد غریب اور متوسط طبقہ کےلوگوں کا انصاف کے حصول کےلئے سپریم کورٹس تک پہنچنا اول توبہت مشکل اورتکلیف دہ عمل ہوتاہے اوردوسرے یہ کہ اگروہ اپنے اپنے گھر کی تمام اشیاء بیچ کربڑے سے بڑے وکیل کی فیس اداکربھی دیں پھر بھی عموماً انہیں انصاف نہیں ملتا۔
پاکستان کی مثال لے لیجئے کہ ملک کوقائم ہوئے 75سال ہوچکے ہیں مگر ان 75سالوں میں بھی آدھی سے زیادہ مدت تک فوجی ڈکٹیٹرشپ بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلط رہی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ ملک میں آئین توڑنے اور مارشل لاء نافذ کرنےکے اس غیرآئینی اقدام کوبالائے طاق رکھ کر اس مارشل لائی عمل کوجائز بھی قرار دیتی رہی ہے ۔باقی عرصہ میں جونام نہاد جمہوری حکومتیں برسراقتدارآئیں وہ بھی فوج کے زیراثر رہ کرہی ملک کی معاشی واقتصادی اورخارجہ پالیسیاں بناتی رہیں۔حتیٰ کہ ملک کاسالانہ بجٹ بھی فوج کی کلیئرنس کے بعدہی پیش کیا جاتا ہے۔ان نام نہاد جمہوری حکومتوں کے دور میں دو فیصد فوجی اشرافیہ،حکمرانوں کو نہ صر ف کرپشن کرنےکی کھلی اجازت دے دیتی ہے بلکہ وہ خود حکمرانوں کے کرپشن کے عمل میں شریک کار بھی بن جاتی ہے ۔
پاکستان کے عوام ایمانداری سے زراغورکریں کہ انہوں نے ملک کی سپریم کورٹ میں دوفیصد اشرافیہ اور حکمرانوں کےمفاد کے مقدمات تو چلتےدیکھے ہوں گے، یا آئینی یا غیرآئینی بحث ومباحثہ کے معاملات پر سپریم کورٹ کوصبح شام حتیٰ کہ رات گئے تک کھلتے اورچلتے دیکھا ہوگا مگر کیاعوام نے کبھی 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے مقدمات ودیگر عوامی مسائل کے لئے سپریم کورٹ کوکبھی صبح و شام یا رات گئے تک کام کرتے دیکھا یاسنا؟ اگرکبھی دیکھا یا سنا بھی ہوگا توشاذونادرہی دیکھا یا سنا ہوگا۔
لہٰذا تیسری دنیا سمیت غریب ممالک کے عوام کو سوچنا ہوگا اور انہیں اپنے اپنے ممالک میں کرپشن فری جمہوریت لانے کےلئے میری دی گئی فلاسفی حقیقت پسندی اورعملیت پسندی (Realism and Practicalism) پر توجہ دینی ہوگی۔
بہت سے لوگ میری یہ بات پڑھ کرشائدسوچ رہے ہوں گے کہ الطاف حسین اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہیں تو اس کے جوا ب میں ، میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں ہونے والے تمام عام انتخابات میں ایم کیوایم کے علاوہ کس جماعت نے غریب ومتوسط طبقےاورمڈل کلاس سے پڑھے لکھے نوجوانوں کوصوبائی اسمبلی ، قومی اسمبلی یاسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجا؟؟؟
کاش کوئی ایک دانشور، قلم کار، صحافی، تجزیہ نگاریا سیاستداں اپنے سیاسی ونظریاتی اختلافات اورتعصبات کوبالائے طاق رکھ کرمیرے اس سوال کاہی جواب دیدے۔
( جاری ہے)
الطاف حسین
31مئی 2023
ایم کیو ایم کے بانی قائد الطاف حسین کی تقریر پہ پابندی ختم کرنے سے متعلق نثار پنہور کی درخواست سندھ ہائیکورٹ نے مسترد کردی گزشتہ دنوں الطاف حسین جنرل عاصم منیر سے بھی درخواست کرچکے ہیں وہ ملکر کام کرنے کو تیار ہیں انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے
*میں قوم پرستی پر بات نہیں کرتا مگر کراچی کے چاروں طرف افغانی چھا گئے ہیں ویسے بھی کراچی والوں کے پاس تفری کے لیے پارک نہیں ہیں اور سندہ حکومت نے جو جگہ کراچی کی عوام کے پارک کے نام پر دی تھی اس پر افغانی سینہ ٹھوک کر اپنے پاب کی جاگیر سمجھ رہے ہیں اور سندہ پولیس
سندھ کےعوام PPP کی غنڈہ گردی سےتنگ آچکےہیں، خیرپور کے محلے دبڑ میں عوام پیپلز پارٹی رہنما علی شیر مکول اور اسکے بھائی عاشق حسین کے خلاف احتجاج کرہے ہیں جو بھتہ نہ دینےپر لوگوں کو جھوٹےکیس بنوا کر بند کروادیتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ہم ایسے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں!
حق کو حق کہنے سے جو ڈرتے نہیں ہیں وہ مر بھی جائیں اگر تو مرتے نہیں ہیں
کچھ تو بات ہے حق کی کارفرمائی میں بے وجہ یونہی سر کٹتے نہیں ہیں
قائد تحریک الطاف حسین بھائی میرے پیرومرشد میں کل بھی ساتھ تھا، آج بھی ساتھ ہو اور مرتے دم تک ساتھ نبھاؤں گا۔
اللہ تعالی غداروں کو نیست و نابود کرئے، اور اُن غداروں کے ہمنواہ یا انکے لئے مخبریاں کرنے والے یا پھر ابھی بھی کچھ آستین کے سانپوں جو چھپے ہوئے ہیں سب کو عبرت کا نشان بنائے۔ آمین
#AltafHussain
اپنے ہی وطن میں
بے وطن سے پھریں
ایسے وطن کولوگو !
ہم کیا کہیں !!!
ماہِ ستمبر 2015ء میں لاہور ہائیکورٹ نے میری تحریر ، تقریر، تصویر حتیٰ کہ پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا میں میرا نام تک لینے پرچھ ماہ کی پابندی عائد کی تھی ۔ اس غیرآئینی و غیرقانونی پابندی کے خلاف سپریم کورٹ بار کی سابق صدراورمعروف قانون داں محترمہ عاصمہ جہانگیر شہید صاحبہ نے لاہورہائیکورٹ اورسپریم کورٹ میں میرے وکیل کی حیثیت سے درخواستیں دائر کی تھیں ۔جس پر انہیں نامعلوم ٹیلی فون نمبروں سے دھمکیاں دی جاتی رہیں ۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ ایک بااصول، بہادر اورنڈرشخصیت کی مالک تھیں۔ انہوں نے ان دھمکیوں کی پروا نہ کی توبالآخر انہیں زہردے کرشہید کردیا گیا۔ اس کے بعد ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینراوربزرگ فلاسفر پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید نے نائن زیرو کی تالا بندی کے خلاف ایک پٹیشن سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی تو 13جنوری 2018ء کوانہیں نامعلوم افراد نے اغوا کیا اورپھرتشدد کا نشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کردیا۔ ان کی تشدد زدہ لاش کراچی کے ایک دوردرازویران ساحلی علاقے ریڑھی گوٹھ ابراہیم حیدری میں ان کی کار کی پچھلی سیٹ پرپائی گئی۔
اس کے بعد ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اورسابق رکن قومی اسمبلی نثاراحمد پنہور نے مجھ پر عائد پابندی کے خلاف 27 اگست 2022ء کوممتاز قانون داں جناب خالد ممتاز ایڈوکیٹ کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس کی سماعت کے لئے 30 اگست 2022ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ لیکن سماعت سے پہلے ہی 29 اور30 اگست 2022ء کی درمیانی شب رینجرزنے نثارپہنورکو ان کے گھرپر چھاپہ مارکر گرفتارکرلیا ۔انہیں کئی روز لاپتہ رکھنے کے بعد 11 اکتوبر2022ء کورہا کیا گیا۔ نثارپنہور نے رہائی کے بعد اپنی پٹیشن کی سماعت کے سلسلے میں کارروائی کے لئے خالد ممتاز ایڈوکیٹ کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں مزیددرخواستیں جمع کرائیں۔ آج مورخہ 30مئی 2023ء کو سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ ،جوجسٹس یوسف علی سعید اورجسٹس عبدالرحمن پر مشتمل تھا، اس کے سامنے اس درخواست کی سماعت ہوئی۔ خالد ممتاز ایڈوکیٹ نے بینچ کے روبرو درخواست کے حق میں اپنے تیارکردہ بھرپوردلائل دیے لیکن سندھ ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے تمام تردلائل سننے کے بعد یہ کہہ کر درخواست خارج کردی کہ نثارپنہور کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے ۔
یہاں پورے پاکستان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا نثاراحمد پہنور پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن نہ تھے؟ کیا وہ سندھ اسمبلی کے رکن نہ تھے؟ کیا وہ پاکستان کے شہری بھی نہ تھے ؟ کیا انہیں ایک شہری کی حیثیت سے ہائیکورٹ میں درخواست گزار بننے کا بھی حق نہ تھا؟ آخر ان کی درخواست کوناقابل سماعت قرار دے کرکیوں خارج کردیا گیا ؟
اہلیانِ پاکستان ! اب آپ خود اپنے ضمیر کے مطابق مجھے بتائیں کہ مجھ پر عائد غیرآئینی وغیرقانونی پابندی کے خلاف کوئی بھی شہری ملک کی کس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے ؟ اورانصاف کے حصول کے لئے وہ کس عدالت میں درخواست دائر کرے؟