Vladimir Putin couldn't deliver a speech at the UN General Assembly due to ICC arrest warrant, but Benjamin Netanyahu can deliver his speech at the UN even with ICC arrest warrant! How much Zionist lobby have control over the UN and US.
This world has completely lost its meaning
Netanyahu walked into the United Nations expecting a global audience—and instead got rows of empty seats.
As he took the podium, diplomats from more than 50 countries walked out. An Israeli tally later counted 77 delegations left the chamber when he entered to speak.
Nothing says “greatest ally” quite like delivering a speech to a half-empty room.
Whatever Netanyahu came to say, a significant number of governments had already decided they had no interest in hearing it.
I love that for him.
Palestine's Permanent Representative to the UN, Riyad Mansour, could not hold back his tears while speaking about the Palestinian female doctor who lost 9 out of her 10 children in the genocidal Israeli attack.
"This is a horror and trauma beyond the grasp of the mind, beyond what the heart can endure."
The depth of Israel's international isolation is difficult to fathom if you're just watching mainstream media.
But these images do not lie. Look at all these delegates leaving the General Assembly in protest as soon as Netanyahu takes the podium...
Trita Parsi https://t.co/gA8E1Rt5W7
“ I wanted to change Pakistan’s corrupt political system, and today I still want to change this corrupt system of governance.” — Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
I want to liberate Pakistan from the domination of feudal lords and waderas. I want a system in the country in which every citizen enjoys equal rights, regardless of their religion or beliefs.
My opposition is not to any individual, province, or political party; rather, it is to a system in which power becomes superior to the law. I oppose the wadera system in Sindh, the feudal structures in Punjab and other provinces, corruption, and a political arrangement in which democratic institutions remain subordinate to a military system.
I am not against the armed forces. My opposition is to the policies of a few generals in the military whose decisions result in harm to the country and its people.
In the past, the name of religion and Islam was used for specific purposes. As a consequence of this misguided policy, religious extremism and Talibanisation spread throughout the country, and their effects were suffered by people across Pakistan, particularly the people of Khyber Pakhtunkhwa.
Even at that time, I used to say: “The Taliban you are creating will one day become monsters and will devour you yourselves.” But my words were interpreted as being against the military. Today, the consequences of those policies are before the country. Suicide attacks are taking place, and soldiers of the armed forces as well as innocent civilians are losing their lives.
When @ImranKhanPTI ’s government was removed and he was arrested, I condemned the action and issued statements in his support. Some MQM workers asked me, “Why are you speaking in his favour when he strongly opposed you in the past?”
I told my colleagues: Do not look at who did something wrong to you; look at what good you can do for someone when they are going through a difficult time.
When Nawaz Sharif’s wife, Begum Kulsoom Nawaz, fell ill in London, I sent colleagues to visit her and inquire about her health. When Nawaz Sharif and his daughter Maryam Nawaz were arrested, I condemned their arrests.
Whenever injustice has been done to anyone, I have raised my voice for them. I have always raised my voice in support of the oppressed and against oppression, regardless of which political party, province, or school of thought the person belonged to.
When I raised my voice against the system, assassination attempts were made against me in Pakistan, and I was attacked with a grenade. Following this, at the request of my colleagues, I came to London temporarily.
I wanted to return to Pakistan, but the path for my return to Pakistan was closed. Even while living here, I continued my struggle. I am still striving for a better system in Pakistan.
Altaf Hussain
Addressing the gathering held in London on the occasion of his 73rd birthday
19 September 2026
میں پاکستان کو دنیا کا ایک مضبوط ترین ملک دیکھنا چاہتا ہوں ۔
I want to see Pakistan as one of the strongest nation of the world. Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں کل بھی پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرنا چاہتا تھا اور آج بھی کرپٹ سیاسی نظامِ حکومت کی تبدیلی چاہتا ہوں۔ الطاف حسین
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں کے تسلط سے نجات دلانا چاہتا ہوں، میں ملک میں ایسا سسٹم چاہتا ہوں کہ ہرشہری کو یکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کا مذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔میری مخالفت کسی فرد، صوبے یا جماعت سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہےجس میں طاقت قانون سے بالاتر ہوجائے۔ میں سندھ کے وڈیرانہ نظام، پنجاب اور دیگر صوبوں کے جاگیردارانہ ڈھانچوں، بدعنوانی اور ایسے سیاسی انتظام کا مخالف ہوں جس میں جمہوری ادارے عسکری نظام کے تابع ہوں۔ میں فوج کے خلاف نہیں بلکہ میری مخالفت فوج کے ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ماضی میں مذہب اور اسلام کےنام کو مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، اس غلط پالیسی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور طالبانائزیشن پھیلی جس کے اثرات پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے برداشت کیے۔ میں اس وقت بھی کہتا تھا کہ آپ جوطالبان بنارہے ہیں یہ ایک دن مونسٹربن جائیں گے اور آپ ہی کو کھائیں گے، لیکن میری باتوں کوفوج کے خلاف لیا گیا، آج ان پالیسیوں کے نتائج ملک کے سامنے ہیں، ملک میں خودکش حملے ہورہے ہیں اور فوج کے جوان اور عام معصوم شہری جاں بحق ہورہے ہیں۔
جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اورانہیں گرفتارکیا گیا تومیں نے اس عمل کی مذمت کی اوران کے حق میں بیانات دیے تو ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جس شخص نے ماضی میں آپ کی شدید مخالفت کی، آپ اس کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟ تومیں نے اپنے ساتھیوں کو یہی تلقین کی کہ یہ مت دیکھو کہ کس نے تمہارے ساتھ برا کیا تھا، یہ دیکھو کہ تم کسی کے مشکل وقت میں اس کے لیے کیا اچھا کر سکتے ہو۔جب نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازلندن میں علیل ہوئیں تو میں نے ان کی عیادت کے لئے ساتھیوں کو بھیجا، جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نوازکوگرفتارکیا گیا تومیں نے اس کی مذمت کی۔ جب بھی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی، میں نے اس کے لئے آوازبلند کی۔ میں ہمیشہ مظلوم کےحق میں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہوں خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت، صوبے یا مکتبہء فکر سے ہو۔
میں نے نظام کے خلاف آوازبلند کی تومجھ پر پاکستان میں مجھ پر قاتلانہ حملے کئے گئے، مجھ پر گرینیڈسے حملہ کیا گیا۔جس کے بعد میں ساتھیوں کی درخواست پر عارضی طور پر لندن آگیا، میں پاکستان واپس جانا چاہتا تھا مگر مجھ پر پاکستان واپس جانے کے راستے بند کردیے گئے۔ میں نے یہاں رہ کر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی ،میں اب بھی پاکستان میں بہتر نظام کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19ستمبر 2026ء
🚨متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ جمعرات کی شب لندن میں ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کے گھر پر دو نقاب پوش افراد نے حملہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 17 ستمبر بروز جمعرات کی شب لندن وقت کے مطابق 8 بجکر 11 منٹ پر دو نقاب پوش افراد ایک کار میں مل ہل کے علاقے میں واقع ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کی رہائش گاہ پہنچے اور گھر کی باہر کی گرل کو پھلانگ کر اندر آئے اور چند سیکینڈ میں باہر گئے۔دونوں نقاب پوش افراد 8 بجکر 20 منٹ پر گرل پھلانگ کر دوبارہ داخل ہوئے جبکہ تیسرا فرد گاڑی کے اندر موجود تھا۔ دونوں نقاب پوش افراد نے اندر داخل ہوکر داخلی گیٹ کے سائیڈ شیشے کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ جیسے ہی سیکوریٹی الارم بجا تو دونوں نقاب پوش افراد گرل پھلانگ کر گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
اس واقعے سے فوری طور پر میٹرو پولیٹن پولیس کو آگاہ کیاگیا۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے جناب الطاف حسین کے گھر پہنچ کر ان سے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں، گھر کے متاثرہ جگہ کا معائنہ کیا اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دیکھی۔ پولیس نے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی رابطہ کمیٹی کے ارکان اور ایم کیو ایم یوکے کے ذمہ داران و کارکنان جناب الطاف حسین کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔
ایم کیو ایم کے ترجمان نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ بانی و قائد جناب الطاف حسین اللہ کے فضل و کرم سے خیریت سے ہیں۔
@metpoliceuk
🚨BREAKING: Two masked men have attacked MQM leader Altaf Hussain at his home in London. The two men broke into the Mill Hill home of MQM founder Altaf Hussain, causing significant damage to the property, according to party sources. The intruders jumped over the front gate two times and tried to force their way into the house, damaging the front door and a window. Hussain was inside his ground-floor bedroom, only a few feet from the attempted entry point.
جوسلوک محمد مرسی کے ساتھ ہوا ا نشااللہ وہ عمران خان کے ساتھ نہیں ہوگا
مجھے یقین ہے کہ27 ستمبر سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کواسپتال اورموجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنماؤں اوروکلاء کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے 18، اگست2026ء کو بانی PTI عمران خان صاحب کو شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی معائنے کے حوالے سے جو واضح ہدایات دی تھیں ان کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایاگیا، ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ نہیں کرایاگیااورمختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا۔
حکومت کا یہ فعل انتہائی سفاکانہ، ظالمانہ، غیرمنصفانہ اورمتعصبانہ ہے، عدالت سے سزایافتہ ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف کوعلاج ومعالجے کیلئے شاہانہ انداز میں بیرون ملک بھیجاگیا، نواز شریف باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے لندن گئے تھے کہ وہ اپناعلاج کراکر چارہفتے میں وطن واپس آجائیں گے لیکن انہیں وطن واپس آنے میں چارسال کاعرصہ لگ گیا۔ جب وہ وطن واپس آئے تو اصولی طورپر ایک سزایافتہ قیدی کو مقررہ وقت پر عدالت میں پیش نہ ہونے اورتوہین عدالت کاارتکاب کرنے پر گرفتارکرکے جیل بھیجنا چاہیے تھا مگر نوازشریف کیلئے ریڈکارپیٹ بچھاکر بادشاہ سلامت کی طرح ان کااستقبال کیاگیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا یہی نظام ہے کہ نوازشریف کو دی گئی سزائیں قصہ پارینہ بنادی گئیں۔
عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کے بانی اور سربراہ ہیں، سپریم کورٹ نے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں شفٹ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد نہ کرکے اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے توہین عدالت کاارتکاب کیاہے، بہت جلد موجودہ حکومت کے اراکین کواپنے اس عمل کاجواب دیناپڑے گا۔اس سلسلے میں عمران خان کے وکلاء کی پٹیشن عدالت میں ہے اورمجھے یقین ہے کہ27 ستمبر2026 ء سے قبل ہی سپریم کورٹ ایسا تاریخی قدم اٹھائے گی کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اسپتال منتقل کیاجائے گا اور موجودہ حکومت کے ذمہ داروں کو کہیں اورمنتقل کیاجائے گااورجوالمناک سلوک مصر کے صدر محمد مرسی کے ساتھ ہوا انشااللہ ایسا عمل عمران خان صاحب کے ساتھ نہیں ہوگا۔
حقوق کامطالبہ کرنے پر پہلے ایم کیوایم کو غدارکہاگیا اب پی ٹی آئی، پی ٹی ایم، بی وائی سی اور کشمیرکی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی غدارقراردی جارہی ہے یعنی جو حق اورسچ بات کرے اسے غدارکہاجارہاہے۔ میں نے فوجی جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اورناجائز اقدامات پر تنقید کی تو ستمبر2015ء میں میری تحریر، تقریر پر 6 ماہ کیلئے پابندی لگادی گئی جوکہ 11 سال گزرنے کے باوجو دآج تک لگی ہوئی ہے۔ 22 اگست2016ء کی رات فوج نے میرے گھر نائن زیرو کو seal کیا،پھرستمبر2022ء میں نائن زیروکوآگ لگانے کے بعد بلڈوز کردیاگیا، سیاسی ومذہبی جماعتیں،بعض اینکرپرسنزاوریوٹیوبرز مجھ پر من گھڑت اورجھوٹے الزامات لگاتے ہیں مگرصوبہ پنجاب اور KPK کے لوگوں کو یہ نہیں بتایاگیا کہ ملک کے فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین کے پورے خاندان کو دربدرکردیاگیا، میرے بڑے بھائی ناصرحسین، بھتیجے عارف حسین، بہنوئی اسلم ابراہانی اور ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، شہداء کی قبریں یاسین آباد کے شہداء قبرستان میں ہیں، اہل پنجا ب اورKPK کے لوگ وفد بناکرکراچی آئیں تو ہمارے ذمہ دار انہیں ان متاثرہ خاندانوں سے ملواسکتے ہیں جن کے بچوں کو ان کے سامنے گرفتارکرکے لاپتہ کردیاگیا یا ماورائے عدالت قتل کردیاگیاہے۔
میں سمجھتاہوں کہ قانون سب کیلئے برابر ہوناچاہیے یہ نہیں کہ کوئی امیرجرم کرے تو اس کا گناہ معاف کردیا جائے اوراگر کوئی غریب جرم کرے تو اس کیلئے سزا ہو، یہ سراسرناانصافی اورظلم ہے۔ جب تک ملک میں جزا اورسزا کا نظام قائم نہیں ہوگا ملک صحیح ڈگر پر گامزن نہیں ہوسکتا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 454ویں فکری نشست سے خطاب
23، اگست2026
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
کشمیر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں، بلوچستان میں لوگ میتیں لیکر دھرنا دیے ہوئے ہیں، پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، انڈیا نے ایٹمی آبدوزیں کھڑی کردی ہیں، پاکستان سنگین مسائل سے دوچار ہےلیکن حکمراں باہر کے مسائل میں مصروف ہیں۔کیا حکمرانوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے؟
الطاف حسین
اطلاعات کے مطابق آپ کے والد میاں نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈارکے نواسے رضا ڈارکی جانب سےغیر ملکی خواتین کو پاکستان بلانے کے بعد اغوا کرنے، کروڑوں ڈالرز تاوان کا مطالبہ کرنے ،ان کی عصمت پر ہاتھ ڈالنےاور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے سے کیا پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا ہے؟
3/3
پرامن سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ:
پاکستان میں ظلم وجبر کاایسا نظام مسلط کردیا گیاہے کہ اب لوگ بند کمروں میں اپنی جماعت کا یوم تاسیس بھی نہیں مناسکتے،11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں مہاجرطلبہ کی تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی، 11، جون2026ء کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس تھا، ہم نے تمام ساتھیوں کو ہدایت کردی تھی کہ کسی کھلی جگہ سڑک یا میدان میں یوم تاسیس کا کوئی پروگرام نہ رکھا جائے اورریاستی اداروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ایم کیوایم کے کارکنان نے قانون ہاتھ میں لیاہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے میرا سوال ہے کہ کیا بند کمروں میں یوم تاسیس منانا اور کیک کاٹنا بھی جرم بنادیاگیاہے؟پاکستان ٹائمزنیوز کے سینئر صحافی تحسین عباسی کے دفترمیں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کی تقریب رکھی گئی جس میں سینئر وبزرگ وکیل ادریس علوی ایڈوکیٹ، محمدسلمان ایڈوکیٹ،صحافی تحسین عباسی، ان کے 15 سالہ صاحبزادے حسین علی سمیت 11 کارکنان وہمدرد شریک تھے، پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترمیں چھاپہ ماراگیا اور تمام افراد کو گرفتارکر لیاگیا اور پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترکو seal کردیاگیا۔ آج جب ان گرفتارشدگان کی ضمانت کیلئے ایم کیوایم کے وکلاء جج میر ساغرجان ابڑو کی عدالت میں پہنچے تو تفتیشی افسر نے ان گرفتارشدگان کے خلاف ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ 7 ATAلگادی اوریہ کیس انسداددہشت گردی کی عدالت بھیج دیا۔ میرا فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے سوال ہے کہ بند کمرے اور چاردیواری کے اندر کیک کاٹنا کیا دہشت گردی ہے؟یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ گرفتارشدگان تحسین عباسی، ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ،، محمد ناصر، عمر ملک، مرزا وسیم، آفاق عالم، سید حمید پاشا، تسلیم شیخ، محمد حارث اور 15سالہ کم عمر حسین علی کوکراچی سینٹرل جیل میں عادی مجرموں کی بیرکوں میں رکھاگیاہے جبکہ یہ تمام افراد تعلیم یافتہ، وکلاء اور سیاسی قیدی ہیں لیکن انہیں سیاسی قیدیوں کی بیرکوں میں منتقل نہیں کیاگیا۔ وکلاء برادری اور کراچی بار ایسوسی ایشن سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا سینئر اوربزرگ وکلاء کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کریں۔
فیلڈ مارشل صاحب امریکہ اورایران میں صلح ضرورکرائیں لیکن اپنے ملک میں مصالحت کیوں نہیں کرتے؟ آپ بلوچوں، پشتونوں، کشمیریوں، مہاجروں اوردیگرمظلوموں سے مصالحت اور مفاہمت کیوں نہیں کرتے؟ خدارا کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھیں، بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق دیں، KPK میں ڈرون حملے بند کرائیں اورمہاجروں پر ظلم وستم کاسلسلہ بند کرائیں۔ ہمسایہ ممالک سے برادرانہ اوردوستانہ تعلقات قائم کریں کیونکہ گولہ باردو سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پالیسی سازوں کوچاہیے کہ وہ امریکہ کی صورتحال سے سبق حاصل کریں، امریکہ کوبھی بہت زعم تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملہ کرکے 24 گھنٹے میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پرمجبور کردے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ایران نے سپرطاقت امریکہ کے سامنے کھڑے ہوکر اور جرات و ہمت سے اس کاسامنا کرکے امریکہ کا غرور خاک میں ملادیا۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایم کیوایم،پی ٹی آئی اورکشمیری کارکنوں کو رہا کریں اور ملک میں سیاسی مفاہمت کاآغاز کریں۔ ایم کیوایم کے کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ فی الفورختم کیا جائے اور پرامن سیاسی کارکنوں پردہشت گردی کامقدمہ قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،نثاراحمد پنہور، ان کے صاحبزادے محسن پنہور، پریس فوٹو گرافر فیصل مجیب سمیت کراچی اورحیدرآبادکے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایاجائے اور تمام گرفتارشدگان کورہا کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر416ویں فکری نشست سے خطاب
15، جون2026ء
2/3
اس کے باوجود انہی فوجی جرنیلوں نے بے نظیربھٹو کوقتل کردیا۔بے نظیربھٹو کی نرینہ اولاد بلاول زرداری نے بھی کبھی یہ نہیں کہاکہ جب تک ان کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے والے جرنیلوں کااحتساب نہیں ہوجاتا،وہ اقتدار کاحصہ نہیں بنیں گے اور اس مقصد کے لئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ان جاگیرداروں کے ہاں نہ شرافت ہوتی ہے اورنہ اصول ہوتے ہیں، ان کامقصد صرف اقتدار اور شان وشوکت ہوتی ہے اور وہی بلاول زرداری نے کیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان:
پاکستان کے فوجی جرنیلوں کو سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کرکے یہ عہد کرنا چاہیے تھا کہ اب وہ کبھی پاکستان کی سیاست میں بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں کریں گے اور اپنی غلطیوں کاازالہ کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسانہیں ہواکہ ایک لاکھ فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔پاکستان کی فوج نے 1971ء میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈالے، یہ سرینڈر فوج کے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ تھااور فوج کو اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے تھا لیکن آج کیاہورہا ہے؟
فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب کے نام!
میراسوال ہے کہ آپ کے دورمیں کیا تماشے ہورہے ہیں؟ کیا دھاندلیاں ہورہی ہیں؟ آپ حافظ قرآن ہیں کیا آپ کو قرآن مجیدمیں کوئی ایسی آیت نہیں ملی کہ مظلوموں پر ظلم نہ کرو؟آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں مظلوم بلوچوں، صوبہ خیبرپختونخوا میں پشتونوں اورکشمیرمیں کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟کشمیرکے حالات آپ کے سامنے ہیں، آپ کہاں کہاں اور کتنے لوگوں کو گولیاں ماریں گے؟فوجی جرنیلوں کی جانب سے بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں پر جوظلم وستم ڈھایاجارہاہے کیا اس سے پاکستان کی سلامتی وبقاء ہوگی یا یہ عمل پاکستان کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا؟
فیلڈمارشل صاحب میری بات لکھ کررکھ لیجئے، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ آپ کو استعمال کررہے ہیں، کل جب پاکستان کی بقاء وسلامتی پرکوئی مشکل وقت آیا تو نہ ڈونلڈ ٹرمپ آپ کی مدد کریں گے اورنہ ہی امریکہ آپ کی مدد کیلئے آئے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان ماضی میں بھی امریکہ اورمغربی قوتوں کے مفادات کے لئے استعمال ہوتارہااوراب بھی ہورہا ہے،پاکستان کی فوج نے امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران بلاوجہ ٹانگ اڑائی، افغان وار میں ملک کی فوج اورتمام وسائل کو امریکہ، برطانیہ اورمغربی ممالک کے مفادات کیلئے جھونک دیااورامریکی ڈالرز لیکر KPK میں جہادی مدرسے قائم کیے، طالبان بنائے لیکن آج اپنے ہی تشکیل کردہ طالبان کو دہشت گرد اور خوارج قراردیا جارہا ہے اوراپنی بنائی ہوئی افغان حکومت کو اپنا دشمن قراردیاجارہاہے۔پالیسی سازوں کویہ نہیں بھولناچاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اور روس کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے۔
اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اور اسٹیٹس کوتوڑا۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہےلیکن اب ہم اس سسٹم کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سےخطاب
اے پی ایم ایس او واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے سیاسی افق پر ایم کیوایم کوجنم دیا۔ آجAPMSO کی جدوجہد کو48 سال ہوگئے جس پر میں اپنے تمام تحریکی ساتھیوں اورعوام کومبارکباد پیش کرتاہوں۔
اے پی ایم ایس او نے پاکستان کے ایلیٹ کلچر میں ایک ایسی تنظیم کی بنیادرکھی جوغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، جس کامنشورتمام قوموں کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوانکے حقوق دلاناہے، اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اوراسٹیٹس کوکوتوڑتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیجا۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کاسربراہ خود کئی کئی نشستوں سے الیکشن لڑتاہے لیکن ایم کیوایم کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کوایوانوں میں بھیجا اورخود الیکشن نہیں لڑا۔ایم کیوایم نےمذہبی منافرت کی مخالفت کی اوریہ پیغام دیاکہ پاکستان صرف مسلمانوں کانہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کاوطن ہے، پاکستان میں آباد عیسائی، ہندو، سکھ اورتمام غیرمسلم بھی برابرکے پاکستانی ہیں، پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کابھی پاکستان پر برابر کاحق ہے اوران کے ساتھ مذہب کی بنیادپر امتیازنہیں برتاجاناچاہیے، اسی طرح شہریوں میں فقہ اورمسلک کی بنیادپر بھی لوگوں میں آپس میں نفرت نہیں ہوناچاہیے اورہمیں کسی کواس کے فقہ یامسلک کی بنیادپر کافر قرار نہیں دیناچاہیے، ایم کیوایم نے کاروکاری جیسی فرسودہ رسومات کی بھی کھل کی مخالفت کی اوراس کاشکارہونے والی لڑکیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے اورانہیں اپنے مرکزمیں پناہ دی، ایم کیوایم نے غیرمسلم لڑکیوں کے اغوااور ان سے جبراً مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیوں کے خلاف آوازاٹھائی۔ پاکستان میں رائج اس اسٹیٹس کو اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف آوازبلند کرنے پراسٹیبلشمنٹ نے مجھے غدارقراردیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جس کسی نے بھی اسٹیٹس کو اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی پالیسیوں کے خلاف آوازبلند کی تواس کی قسمت میں یا توپھانسی، یاقیدہوتی ہے یاجلاوطنی ہوتی ہے۔ مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیا گیا، عمران خان کابھی قصور یہ ہے کہ اس نے کرپٹ جرنیلوں اوران کے آقاؤں کوللکارا۔
ہماری جدوجہدانصافیوں کے خلاف ہے، 53سال گزرجانے کے باوجود کوٹہ سسٹم جیساغیرمنصفانہ نظام آج بھی رائج ہے جوسندھ میں شہری اوردیہی عوام کوتقسیم کرتاہے، جس کی بنیادپر شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی ہیں۔ ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہے لیکن اب ہم اس کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، اس ظالمانہ اورغیرمنصفانہ سسٹم کواب ختم ہوناچاہیے۔ میں غریب سندھیوں، ہاریوں اورمزدوروں سے بھی کہتاہوں کہ وہ بھی اس سسٹم کے خلاف آوازاٹھائیں کیوں کہ اس سے غریب سندھیوں کونہیں بلکہ وڈیروں کو فائدہ پہنچ رہاہے، یہ وڈیرے غریب سندھیوں پر بھی ظلم ڈھاتے ہیں اورانکی بچیوں تک کواٹھالے جاتے ہیں۔ غریب سندھیوں کوچاہیے کہ وہ ان وڈیروں سے نجات کے لئے میدان عمل میں آئیں۔میں تمام غریب اورپڑھے لکھے سندھی نوجوانوں کوبھی دعوت دیتاہوں کہ وہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں، ہم متحد ہوکراس فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
میں یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے پر ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، یوٹیوبرتحسین عباسی، ان کے بیٹے اوردیگربزرگ کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدیدمذمت کرتا ہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیاکسی سیاسی جماعت کایوم تاسیس منانا جرم ہے؟ اسی طرح ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پہنور، فیصل مجیب اوردیگرساتھی بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ ان تمام کورہا کیاجائے اوریہ ظلم وستم بند کیاجائے۔