یہ لوگ اتنے بےشرم کیوں ہیں؟
یہ صاحب جماعت اسلامی کو وزیراعظم کے فون اور مذاکرات پر طعنے دے رہے تھے، اور اچکزئی صاحب مذاکرات میں نہیں گئے تو انھیں اپوزیشن لیڈر سے ہٹانے کا کہہ رہے ہیں۔
اب بتاؤ نا یہ مذاکرات کس کے اشارے پر ہو رہے ہیں؟ کون کون اس ملی بھگت میں شامل ہے؟ فارم 47 پر بیٹھی ناجائز حکومت کو جواز کیوں بخشا گیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
سچی بات یہ ہے کہ چابی پر چلنے والے ان کھلونوں میں کوئی شرم بھی نہیں کوئی حیا بھی نہیں
یہ ہیں حلیم عادل شیخ !! ن۔۔۔۔۔۔۔غ حادثاتی رہنما
چند دن پہلے حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی کا پریس کانفرنس کر کے مذاق بنا رہے تھے اور آج ہاتھ باندھ کر پورے ادب کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن کی گفتگو سن رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے در پر حاضری دے رہے ہیں.
ہمارا رب جسے چاہے عزت دے
Indian defence circles are completely losing it after DG ISPR’s press conference today 😂.
Now they’re blaming Indian Army/ RAW propaganda and Godi media for the embarrassment.
This is what happens when you turn hardcore Andh Bhakts into so-called OSINT analysts.
Camera, set and play the victim card
The Afghan Taliban regime are staging protests in Helmand through its own agents for propaganda. Just look at the Taliban cameraman on the rooftop, ready to capture the perfect shot.
Where are these Taliban learning these propaganda tricks?
فی الحال تحریک انصاف کے وفود سے ملاقاتیں جاری ہیں
البتہ صدیق بھائی سمیت تحریک انصاف کے یوٹیوبرز نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ فارم 47 پر بیٹھی ناجائز حکومت سے مذاکرات اور ملاقات کرنا اب کیسے جائز ہو گیا ہے؟ یہ ملی بھگت کیوں؟ کس کے اشارے پر؟ کیا ایسے انقلاب آئے گا؟ اور خان کو رہائی ملے گی؟؟
تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور یوٹیوبرز
۔
حکومت جماعت اسلامی سے مذاکرات کرے اور وزیراعظم خود امیر جماعت سے رابطہ کرے تو صدیق جان ہوں یا ان جیسے دیگر یوٹیوبرز، وہ اسے ملی بھگت قرار دیتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کا اشارہ بتاتے ہیں، حکومت کو جواز بخشنا کہتے ہیں، طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں
۔
لیکن اگر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت پوری پارٹی اسٹیبشلمنٹ سے رابطے میں ہو، اور یہ الزام خود ان کے اپنے لوگ لگا رہے ہوں، پارٹی رہنما حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگیں، طاقتور حلقوں کی منت سماجت کریں، محسن نقوی سے بار بار ملیں، علی امین بطور وزیراعلی کہے کہ نقوی رہا کروانے کےلیے اخلاص سے کوشش کر رہا ہے۔ وہی محسن نقوی جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ حکومت کن کا نمائندہ ہے۔
تو یہ سب یوٹیوبرز اس گوبر کو حلوہ بنا کر ہی پیش نہیں کرتے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر وہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو صدیق جان کی اس ویڈیو کے پوسٹر میں نظر آ رہا ہے۔ یہ پوسٹرز تحریک انصاف کے تمام یوٹیوبرز کا عکس ہے۔ اسے وہ ترپ کا پتہ کہہ کر حکومت کا گھٹنوں پر آنا بتاتے ہیں، پی ٹی آئی کے سامنے ہاتھ پھیلانا کہتے ہیں، خان کے جیل میں بیٹھے بڑی گیم کی کہانی سناتے ہیں۔ اس کا جواز پیش کرتے ہوئے اسے حکمت باور کرواتے ہیں۔
۔
یعنی ان کے نزدیک حکومت خود جماعت اسلامی سے رابطہ کرے اور مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروائے تو یہ غلط ہوتا ہے
لیکن پی ٹی آئی خود حکومت سے رابطہ کر لے اور اس کا چیئرمین بار بار رابطوں کا مطالبہ اور اس کی تصدیق کرے اور راستہ نکالنے کی اپیلیں کریں تو یہ درست ہوتا ہے۔
۔
جو لوگ ان کے وی لاگز سنتے ہیں، انھیں غور کرنا چاہیے کہ چرب زبانی سے انھیں کیا نقلی مال بیچا جا رہا ہے، ایک خیالی دنیا ہے جس میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا، ویوز کے چکر میں یہ ہمیشہ ایسی ہی کہانی گھڑتے ہیں۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس سے بنی بنائی بات بگڑ جاتی ہے، اور کوئی راستہ نکل رہا ہو تو وہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ گروپ کبھی ویوز کے چکر میں اور کبھی مالکان کے اشارے پر ماحول خراب کرتا ہے۔ اسی لیے لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ یہ یوٹیوبرز ڈبل ڈیوٹی دے رہے ہیں
۔
صدیق جان اور حبیب اکرم سمیت تحریک انصاف کے تمام یوٹیوبرز سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ
فارم 47 پر بیٹھی اس ناجائز حکومت سے مذاکرات کرنا اور اس کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنانا کیسے جائز ہے؟
ایک ناجائز حکومت سے بات چیت کرنا، بریک تھرو کا کہنا اور یوٹیوبرز کے اپنے الفاظ میں ریلیف کی بھیک مانگنا کیسے درست ہے؟
جو چیز جماعت اسلامی کے لیے حرام تھی، وہ تحریک انصاف کے لیے کیسے حلال ہے؟
یہ بھی بتائیں کہ کیا اب حکومت سے مل کر انقلاب لایا جائے گا؟
کیا یہ سب فکس میچ ہے اور ملی بھگت سے ہو رہا ہے؟
جماعت اسلامی لاہور نے صدر انجمن تاجران مال روڈ سہیل محمود بٹ کو قانونی نوٹس بھجوا دیا۔ بجلی چوری کے الزامات پر 48 گھنٹے کا قانونی نوٹس، ثبوت پیش کرنے یا بلا مشروط معافی کا مطالبہ قانونی نوٹس جماعت اسلامی لاہور کے جنرل سیکرٹری اظہر بلال کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے۔
صومالی فورسز کے آپریشن کے دوران قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانی شہریوں کی شہادت انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے
ان پاکستانیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی گئی، احتجاج کیا گیا، میں نے خود حکومت اور حکومتی اداروں سے بار بار رابطہ کیا مگر حکومتِ پاکستان بروقت مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ حد تو یہ ہے کہ کراچی میں متاثرہ خاندانوں کے احتجاجی کیمپ کو بھی اکھاڑ دیا گیا۔
حکومت کی ناکافی کوششوں اور غفلت کے باعث 3 پاکستانی شہری اپنی جانوں سے گئے اور ان کے اہلِ خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
یہ صرف تین خاندانوں کا نہیں، پوری قوم کا نقصان ہے۔ حکومت کو اس سانحے کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے حقائق قوم کے سامنے لانے چاہئیں۔
ایک عمومی رائے ہے اور کافی حد تک درست بھی ہے اس ملک کی جین زی عمران خان کی گرویدہ ہے مگر نظر آرہا ہے کہ حافظ نعیم جس طرح نوجوانوں پر محنت کررہے ہیں اور ان کو جین زی کا جو رسپانس آرہا ہے وہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے حافظ نعیم کا بنوقابل ایک انقلابی پروگرام ہے جس سے ہزاروں نوجوان ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جن کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر صرف یہی نوجوان حافظ نعیم سے جڑ گئے تو کم از کم جین زی پر کسی ایک لیڈر کی اجارہ داری نہیں رہے گی نوجوانوں کی سوچ مقناطیس کی طرح ہوتی ہے جو عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو کام سیاسی جماعتیں اور ان کے سرپرست اربوں روپے خرچ کرکے اور ریاستی طاقت کے بدترین استعمال سے نہ کرسکے وہ کام حافظ نعیم کا ایک پروگرام “بنو قابل “ کر گزرے گا اس کے علاوہ جس طرح وہ عام آدمی کے مسائل پر آواز اٹھارہے ہیں نوجوان اس آواز کی سمت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں بس حافظ نعیم نے ایک کام کرنا ہے اپنی گروتھ اسی طرح آرگینگ رکھنی ہے کسی قیمت پر اسٹیبشلمنٹ کی سپورٹ نہیں لینی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے کیونکہ اب اس ملک میں اسی کی سیاست ہوگی وہی عوام میں شرف مقبولیت پائے گا جو بیساکھیوں کے بغیر چلنا جانتا ہوگا ورنہ بیساکھیوں والوں کا کراچی سے اسلام آباد تک حشر دیکھ لیں ،اقتدار ، وزارتیں ، طاقت اور پروٹوکول رکھنے کے باوجود زندہ لاش بنے پڑے ہوئے ہیں قوم نے ایک اجتماعی فیصلہ تو کرلیا ہے کسی اور کے کندھوں پر چڑھ کر سیاست کرنے والوں کو کندھوں پر بیٹھانے والوں کے لیے بھی بوجھ بنادینا ہے
اپنے منجمد ذہن کھولیں ، حالات کو بدلتے ہوئے انداز میں پرکھیں ، نئی سوچ کے داخلے پر پابندی مت لگائیں اور اس تناظر میں ملکی سیاست کے بدلتے منظرنامے پر نظررکھیں پاکستان کی سیاست کے افق پر نیا سورج طلوع ہورہا ہے اب آپ پر منحصر ہے کہ اس سورج کی کرنوں سے نئے راستے تلاش کریں یا پھر ماضی کے اندھیروں میں رہے کر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں روشنی یا اندھیرے کا انتخاب آپ نے خود کرنا ہے
حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم سے پیٹرولیم لیوی 35 سے 40 روپے کم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ رپورٹس غلط اور لغو ہیں۔
لیوی اور دیگر ٹیکسسز کے نام پر بھتہ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا میڈیا رپورٹس پر ردعمل
#لیوی_بھتہ_نامنظور
ہم کسی بھی پارٹی کے احتجاج کو جو آئین اور قانون کے مطابق ہو اس کو سپورٹ کرتے ہیں
پی ٹی آئی کے مطالبات ناجائز اور غلط نہیں ہیں
حکومت پی ٹی آئی سے سیریس طریقے سے مذاکرات کرے
وزرا کی دھمکیاں اور لہجے درست نہیں ہیں
تمام سیاسی قیدیوں کو رہا ہونا چاہیے
خاص طور پر خواتین کو فوری رہا ہونا چاہیے
#لیوی_بھتہ_نامنظور
ہمیں طریقے سارے آتے ہیں...اب ہم جس جگہ آ چکے ہیں پیچھے نہیں ہٹ سکتے
ہم چاہتے ہیں کہ پرامن احتجاج ہو اسے عوام کی کمزوری نہ سمجھیں
حافظ نعیم الرحمن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) کی اہم پریس کانفرنس
پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس .
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن
7
No More Bhatta levy
Jamaat e islame
#لیوی_بھتہ_نامنظور
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس
لاہور : حکومت نے ہمارے کل کے جلسے کو روکنے کی ناکام کوشش کی
لاہور: لاہور جلسے نے بتا دیا کہ جماعت اسلامی نے میدان نہیں چھوڑا ہے
لاہور: جماعت اسلامی عوامی مسائل کی بات کر رہی ہے
لاہور: ہم پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں جلسے کریں گے
لاہور: لیوی ختم کیے بغیر پٹرول کا مسئلہ ایڈریس ہی نہیں ہو سکتا
لاہور: ان حالات میں مریم نواز نے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا، یہ ن لیگ کے مائنڈ سیٹ کا اظہار ہے
لاہور: ریلیف کے پیکج کے بجائے اصولی طور پر قیمت کم ہونی چاہیے
#حافظ_نعیم_عوام_کی_آواز
اکتوبر میں لانگ مارچ نہیں ہوگا
9 اکتوبر سے 25 اکتوبر تک راولپنڈی میں سری لنکا اور انگلینڈ کے ساتھ میچز ہیں۔ اس لیے اکتوبر میں کسی لانگ مارچ کا کوئی امکان نہیں
پہلے 9 اکتوبر سے 13 اکتوبر تک راولپنڈی سٹیڈیم میں سری لنکا کے ساتھ ٹی 20 میچز کھیلے جانے ہیں۔ پھر 18 اکتوبر سے پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی ٹرائی سیریز ہونی ہے، جس کے پہلے تین میچ 18، 20 اور 22 اکتوبر کو راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔ جبکہ 31 اکتوبر تک بقیہ میچز لاہور میں کھیلے جائیں گے
نومبر کے پہلے ہفتے میں سری لنکن ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلے گی جس کو پہلا ٹور میچ 4 نومبر کو اسلام آباد، جبکہ 9 نومبر کو پہلا ٹیسٹ راولپنڈی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ 17 نومبر سے 22 نومبر تک لاہور میں ہوگا
اس شیڈول کے تناظر میں دیکھیں تو اکتوبر کیا، نومبر میں بھی لانگ مارچ ہوتا نظر نہیں آتا
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں
#حافظ_نعیم_عوام_کی_آواز
https://t.co/LBdBHGqqNx