انگریز عورتیں بد شکل نہیں ہوتیں، خوبصورت ہوتی ہیں۔ دس بارہ ہزار عورتوں میں شائد کوئی انگریز عورت بری شکل کی ہوتی ہو۔ مگر ہمارے پاکستانی ڈھونڈ کر اسی سے شادی کرلیتے ہیں😅😂
مشتاق احمد یوسفی
ہمارا سنہرا ماضی، حال اور مستقبل
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر کے زریں اصول کے مطابق اورنگزیب عالمگیر کے پوتے 50 برس کے جہاندار شاہ کو 20 سالہ لال کنور نامی مغینہ پسند آ گئی تو اسے امتیاز محل کا خطاب دے کر اپنی ملکہ بنا لیا۔ جہاندار شاہ، نہ تو جہاں دار تھا اور نہ ہی شاہ۔ اس کی نام نہاد بادشاہت کنگ میکر ذوالفقار خان کی مرہون منت تھی جو شاہی دربار کا امیر الامراء تھا۔ ذوالفقار خان نے جہاندار شاہ کو تخت پر بٹھایا تو پہلا شاہی فرمان یہ جاری ہوا کہ لال کنور کو نوبت اور 500 سواروں کا پروٹوکول دیا جائے۔ نیز اخراجات کے لیے دو کروڑ روپے سالانہ وظیفہ بھی مقرر کیا گیا۔
یوں ایک "غیر معزز" گھرانے کی لال کنور شاہی محل پہنچی تو شاہی رسوم و آداب سے اس کا جی اوب گیا۔ چنانچہ اس نے جہاندار شاہ سے فرمائش کر دی کہ اس کی سہیلی زہرہ کو بھی شاہی محل میں لایا جائے۔ زہرہ دلی کی گلیوں میں سبزی بیچتی تھی۔ اسے ملکہ کی پرسنل سٹاف آفیسر مقرر کر دیا گیا۔ اب ملکہ نے ایک اور فرمائش کر ڈالی کہ اس کے بھائی نیامت خان کو بھی اعلیٰ عہدہ دیا جائے۔ جہاندار شاہ نے اس کا سی وی طلب کیا تو معلوم ہوا کہ نیامت خان سارنگی بجاتا ہے۔ لہذا اسے ملتان کا گورنر مقرر کرنے کا فرمان جاری کر دیا گیا۔ لال کنور کے دو بھائی اور بھی تھے، و�� کمبخت شاید صرف تالیاں پیٹتے تھے۔ اس لیے انہیں پنج ہزاری منصب عطا کر دیے گئے۔
لال کنور کی فرمائش پر دریائے جمنا میں مسافروں سے بھری کشتی ڈبونے کا واقعہ تو سبھی جانتے ہیں لیکن کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بادشاہ اور ملکہ لاہور ��ئے تو دیوالی کے تہوار پر اس قدر روشنی کی گئی شہر میں تیل کی قلت ہونے لگی۔ اس کے باوجود ملکہ کی فرمائش پر دوبارہ دیوالی منائی گئی تو شہر میں تیل بالکل ہی ختم ہو گیا لیکن ابھی ملکہ کا دل نہیں بھرا تھا چنانچہ تیسری بار دیوالی منائی گئی اور اس مقصد کے لیے شہر بھر سے گھی خرید لیا گیا۔ ملک بھر میں لال کنور کے رشتہ داروں اور دوستوں کو جاگیریں عطا کی گئیں حتیٰ کہ دلی میں "پب" چلانے والی ایک عورت جو ملکہ کی دوست تھی، کو پانچ گاؤں کی آمدنی کا پروانہ عطا کیا گیا کیونکہ اس کی کشید کردہ شراب شاہی جوڑے کو بہت پسند تھی۔
اس شاہ خرچی اور شدید بد انتظامی کا نتیجی وہی نکلا جو متوقع تھا۔ ��لطنت کی آمدنی ختم ہونے لگی۔ شاہی عمال اور فوجیوں کی تنخواہیں معطل ہو گئیں۔ قرض ملنا بھی بند ہو گیا تو اثاثے پیچنے کی نوبت آگئی۔ سونے چاندی کے شاہی ظروف بیچ دیے گئے۔ جب وہ بھی ناکافی ہو گئے تو محلوں کی زیب و زینت اور سونے سے مزین چھتیں بھی ادھیڑ دی گئیں اور سونا پگھلا کر سکے ڈھالے گئے لیکن تا بہ کے؟ تخت نشینی کے صرف گیارہ ماہ بعد ہی تخت کے دوسرے دعویدار شہزادہ عظیم الشان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور جنگ میں شکست خوردہ جہاندار شاہ اور لال کنور کو زنداں میں ڈال دیا۔ کچھ عرصے بعد جہاندار شاہ کو منگول/ مغل روایت کے مطابق گلا گھونٹ کر اور ٹھوکریں مار مار کر اگلے جہان بھیج دیا گیا جبکہ لال کنور کی بقیہ زندگی دلی کے ایک نواحی علاقے میں کسمپرسی کی حالت میں گزری۔
خدا رازق بھی خدا محا��ظ بھی
اگر چیتے نے پکڑ کر اپنا رزق بنا لیا تو اس کا "خدا" رازق کہلاۓ گا.
اور اگر ہرن نے خود کو بچا لیا تو اس کا "خدا" محافظ قرار پاۓ گا.
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے
سالوں لگا کر کسی درس گاہ میں پڑھنا ہو، کوئی ڈگری یا سند لینی ہو، تحقیق کرنی ہو، کتابیں لکھنی ہو یا تقریریں کرنی ہوں، یہ سارے کام ٹھنڈے ٹھار اے سی میں بیٹھ کر بھی ہوجاتے ہیں
یہ سب کرنے سے معاشرے میں واہ واہ بھی ہوتی ہے، حکومت وقت اعزازات اور القابات سے بھی نوازتی ہے، پروٹوکول دیتی ہے۔ دنیا کی آسائشیں بھی میسر ہوتی ہیں، بڑے بڑے اداروں کی نوازشات اور عہدے الگ
یعنی،
پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں
لیکن،
حق کے ساتھ کھڑے ہونا، وقت کے ظالم کو للکارنا پہاڑ جیسا مشکل کام ہے۔ اللہ اپنے خاص بندوں کو ہی یہ توفیق دیتا ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایسے لوگوں پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، طاقت کی راہداریوں میں معتوب ٹہرائے جاتے ہیں۔ طرح طرح کی قربانیاں دینی پڑتیں ہیں
پر،
یہی اصل لوگ ہیں جو انعام یافتہ ہیں۔ اول الذکر والے دنیا دار نہیں
نڈر بیباک کپتان اور ایشیاء کے ڈیڈ وکٹس پر ڈیل اسٹین کے بعد سب سے عمدہ ایوریج اور اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ایک سو پچاس سے زائد وکٹیں لینے والا اپنے دور میں پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی پہچان عمران خان اس ویڈیو میں نہیں۔
بلاشک ایسے کرشمے صرف مملکت الباکستان میں ہی ممکن ہیں😕
غنی خان نے کہا تھا کہ
Local minded people will never understand the global minded goals.
ترجمہ!! بونے اور نیچ ذہنیت کے لوگ کبھی عالمی پائے کے سوچ کا ادراک نہیں کرسکتے (کنویں کے مینڈک کبھی سمندر کی وسعتوں کا اندازہ نہیں لگاسکتے)۔
کل پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشلز نے پاکستان کے
++
میں سے ایک اور دنیا کا سب سے ذہین کپتان، ٹیسٹ کرکٹ کے آل ٹائم باؤلنگ رینکنگ میں تیسرے نمبر پر براجمان اور انڈیا کو انڈیا، انگلینڈ کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں شکست دینے والا واحد ٹیسٹ کپتان اور ویسٹ انڈیز کو ان کے بیک یارڈ میں شکست کے دہانے تک پہنچانے والا
++
ڈپریشن کی علامات
1: آپ کسی سے بھی ملنا یا بات کرنا نہیں چاہتے۔
2: آپکو غصہ جلدی آتا ہے۔
3: اکیلے میں روتے ��یں ۔
4 : بے چینی محسوس کرتے ہیں ۔
5: دل کو کوئی خوف رہتا ہے ۔
6:آپ ہر چیز ضرورت سے زیادہ سوچتے ہو۔
اخلاق کی معراج یہ ہے کہ، کسی شخص کی ایسی بات بھی شائستگی اور تحمل سے سنی جائے ، جو آپ پہلے سے بخوبی جانتے ہیں، مگر بتانے والا خود بالکل بھی نہیں جانتا..
گلالئی اسماعیل بھی اپنی بازیابی کے حوالے سے، باقاعدہ ٹوئیٹ کرکے عمران خان کی کوششوں کا شکریہ ادا کرچکی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان سے شکایت کی ایک یہ بھی وجہ رہی ہے۔ اسی لیے شہباز، نواز شریف، فضل الرحمن اور زرداری جیسوں کو اوپر لاکر بٹھایا گیا جو عوام کے مرنے پر چپ چاپ بیٹھے
+