محترم ڈی سی بارکھان اور ڈی پی او صاحب جب اپنی نفری محتلف شہروں میں موجود خالی شیش محلوں پر معمور کریں گے تو عام عوام اسی طرح چوروں اور ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر ہونگیں ۔
خدارا طرز آفسری بدلیں
بارکھان...
ہمیں شق پڑھتا جا رہا ہے کہ بارکھان کو صوبہ بلوچستان سے علیدگی تو نہیں مل گئی اتنی لاقانونیت . اتنی کرپشن کوئی آفیسر حق بات سننے کیلے تیار نہیں . ...
جو سرکاری ملازم اس بجٹ سے خوش نہیں کہ سیلری میں اضافہ نہیں ہوا .
ان کیلے بہترین مشورہ یہ ہے ملازمت کو چھوڑ دیں دو ماہ مزدوری کریں . پھر سرکاری تنخواہ کا قدر معلوم ہوگا .
بلوچستان میں تعلیم چاہتے ہوغریب لاوارث یتیم بچوںکے ہمدرد ہو تو RTSM والوں کو بحال بھی کرو اور اختیارات بھی دو سرکاری سکولوں اکثر یتیم لاوارث اورغریب بچے داخل ہیں پرانا نظام سرکاری تعلیم کو مزید تباہ کرے گا .اور کر رہا ہے . تمام SDO وغیرہ سیاسی لوگوں کا کہنا مانتے ہیں
@
بارکھان میں ہونے والےترقیاتی کام جہاں روڈ 24 فٹ کھلاکرنا ہے وہاں صرف 12 فٹ کھلا ہو رہا ہےجہاں 6 فٹ مٹی ڈالنی تھی وہاں اردگرد سے ٹریکٹر چلاکرکہیں دوفٹ کہیں تین فٹ مٹی ڈالی جا رہی ایک طرف روڈبن رہےہیں تودوسری طرف ختم ہو رہے ہیں افسوس کوئی کاموں کو دیکھنے والا نہیں
بارکھان...
تاریخ بد ترین کرپشن ہورہی ہے کوئی نہ دیکھ نہ پھوچنے والا ہے منیسٹر کو سرکاری گاڑیاں کہاں استعمال ہو رہی ہیں اور خود منیسٹر کہاں پے ہے . سرعبدالرحمن کے بیٹے اور رشتیدار سب سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ...
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے...
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے تھا..
اگر چہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں..
مجھے ہے حکم اذاں .. لاالہ الا اللہ...
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان...
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان...