حامد میر اطہر من اللہ کو ڈرامے باز کہہ رہا ہے جناب کے مطابق اطہر من اللہ کوئی اصول کی لڑائی نہیں لڑ رہا بلکہ یہ اس کا پرسنل ایجنڈا ہے ، اگر اطہر من اللہ اصول کی لڑائی نہیں لڑ رہا تو پھر امین الدین اور یحیی آفریدی اصول کی جنگ لڑ رہے ہوں گے جس نے اصول کی خاطر استعفی دیا وہ ڈرامے باز ہے جبکہ جنہوں نے نظام عدل اور عدلیہ کا بیڑہ غرق کیا اور اداروں کی نوکری کر رہے ہیں ان کا جناب نے نام ہی نہیں لیا ۔۔
کولیٹرل ڈیمیج دشمن ملک میں ہوتا ہے جہاں آپ دشمن پر حملہ کرتے ہیں تو بعض اوقات معصوم لوگ نشانہ بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ امریکی فوج روانڈا، اعراق، لیبیا اور افغانستان میں اور اسرائیلی فوج غزہ میں کولیٹرل ڈیمیج کرتی ہے۔ اسی سال امریکہ نے ایران میں مناب سکول کی بچیوں پر بمباری کر دی تو اسے بھی کولیٹرل ڈیمیج کہا گیا۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی ملک کی فوج نے اپنے ہی ملک میں کولیٹرل ڈیمیج کیا ہو؟
ملٹری اعتبار سے کولیٹرل ڈیمیج ایک غلطی ہے مگر پیشگی اطلاع دے کر اپنے ہی ملک میں کولیٹرل ڈیمیج کرنے والی واحد شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی ہیں۔
اصل گیم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں موجود قیمتی معدنیات پر قبضے کی ہے، آرمی اسٹیبلشمنٹ ان اضلاع میں مقامی لوگوں کو ڈرا دھمکا کر وہاں سے ہجرت کروا کے ان علاقوں پر اپنا قبضہ کر کے ان قیمتی معدنیات کے تیزی سے معاہدے کرنا چاہتی ہے، ان میں سے بعض معدنیات ایسی بھی ہیں کہ جن کو نکالتے وقت تیزی سے تابکاری پھیلتی ہے جو درختوں، سبزے، چرند پرند سے لے کر انسانوں کے لیے انتہائی مہلک اور جان لیوا ہے، انہی معدنیات کی خاطر آرمی اسٹیبلشمنٹ نے خیبر پختونخوا میں ایک منتخب چلتی حکومت پر دھشتگردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا بہانہ بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے وہاں پر قبضہ کیا ہے، گورنر راج صرف چھ ماہ تک ہی رہ سکتا ہے اور عاصم منیر رجیم کے یہ دعوے کہ اب خیبر پختونخوا اور پاکستان میں خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی اسی جھوٹ کا سلسلہ ہے جو عاصم منیر پہلے دن سے بولتا آیا ہے، ڈاکٹر معید پیر زادہ انہی جرنیلوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا پاکستان کے جنرلز کی اعلیٰ خصوصیات ہیں، جب منہ کھولتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں صبح کو جھوٹ بولتے ہیں شام کو جھوٹ بولتے ہیں رات کو جھوٹ بولتے ہیں، سوتے جھوٹ اٹھتے جھوٹ کھڑے جھوٹ بیٹھے جھوٹ، ریٹائرمنٹ کے بعد جھوٹ۔
ان جھوٹے جرنیلوں کے حوارٹی شہباز شریف، آصف علی زرداری، مریم صفدر، نواز شریف، بلاول زرداری ودیگر کا کام ہی یہی ہے کہ پہلے تو ان جرنیلوں کے احکامات پر بلا چوں چراں عمل کرنا اور پھر صبح شام ان کے بوٹ چاٹنا اور ان کی تعریفیں کرنا ہے، صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین کے اغواء بھی 28ویں ترمیم کے لیے کیے جا رہے ہیں جس میں نئے صوبے بنا کر ان کے وسائل پر قبضہ، 18 ویں ترمیم کو ختم کر کے صوبوں کی معدنیات و دیگر وسائل واپس اپنی فارم 47 کی وفاقی حکومت کے حوالے کرنا، اور صوبوں کے بجٹ پر کٹ لگانا شامل ہے، مطلب یہ کہ سب کچھ آرمی اسٹیبلشمنٹ اپنے قبضے میں لے لے اور اپنی عیاشیاں جاری رکھے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
اختیار ولی خان میری کلاس لیتے ہیں اور شیر افضل مروت کی تعریف کرتے ہیں ابھی دیکھیں انہیوں نے شیر افضل مروت کی کتنی تعریف کی، کیونکہ شیر افضل مروت PTI کو برا بھلا کہتے ہیں اس لیے انہیں اچھے لگتے ہیں
محمد زبیر
تحریک انصاف اگر دہشتگردوں کی ہمدرد تھی تو دہشتگردوں نے اس پولیس افسر کو کیوں شہید کیا جس نے تحریک انصاف کے خلاف ظلم سے انکار کیا؟
فوج اگر دہشتگردوں کے خلاف ہے تو آرمی چیف پختونخواہ میں ہونے کے باوجود ڈی ایس پی کا جنازہ پڑھنے کیوں نہیں گیا؟
صرف ایک ہی بات پہ فوج اور فوجی حکومت مذاکرات کی طرف آتی ہے کہ عمران خان کو سیاست سے ریٹائر ہونے پہ راضی کریں تاکہ باقی سب سیاست کرسکیں اب جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ مزاکرات ہی واحد حل ہے وہ بتائیں کہ اس حل کے علاوہ وہ کیا حل نکال سکتے ہیں؟
مبارک ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ
عاصمہ شیرازی صاحبہ کا KP میں ایمرجنسی کا دفاع نئی بات نہیں۔ انکو نارشل لا ایمرجنسی وہی بری لگتی ہے جو ان کے سیاسی منہ بولے والد نواز شریف کے خلاف ہو۔ تب یہ جمہوری ہوتی ہیں۔ اسی طرح خود یہ کتا کتی کتے کی دم جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں اور آج مطیع اللہ جان کو صحافتی آداب کے لیکچر دے رہی تھیں۔
ایک بات یاد رکھیں ۔ عاصمہ صاحبہ۔ آپ نے عورت کارڈ کو انتہائی بے دردی سے استعمال کیا۔ اتنا استعمال کیا کہ اب بے اثر ہو گیا۔ میں نے آپکی شیطانیت کو بھگتا ہوا ہے۔ آپ نے جس انداز سے میرے خلاف عورت کارڈ استعمال کیا۔ اور اس زمانے میں ہمارے اندر کے چھپے کچھ جعلی لبرل بھی آپکو سپورٹ کرتے رہے۔
پھر آپ نے کمال مہارت سے اپنے آپکو لبرل اور جمہوری پیش کیا۔ جب کے آپ ایک مفاد پرست انسان ہیں۔ جس کا ان اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اب آپکا پردہ چاک ہو چکا۔ اب نہ تو کوئی آپکو صحافی مانتا ہے۔ نہ ہی عورت کارڈ چلتا ہے۔ بلکہ اب تو آپکی شناخت ایک جرنیلی ٹاؤٹ کی ہے۔
آپکو نئی پہچان مبارک۔
رپورٹر کا سوال: کیا اگلا نمبر آپ کا ہے؟
شہید ارشد شریف کا جواب : یہاں کسی کو پتہ نہیں ہوتا اگلا نمبر کس کا ہے، جو رات قبر میں ہوگی وہ قبر سے باہر نہیں ہو سکتی 💔
جیل کے اندر تو سب کچھ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ عمران خان کا کوئی ایک کلپ دیکھا دیں جس میں وہ NRO مانگ رہا ہو، کہہ رہا ہو، ’’چھوڑ دیں، معاف کر دیں۔‘‘ ایثار رانا
#pakistan@Isarrana1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق!!
سہیل آفریدی آفریدی پر جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں, سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا جارہا ہے,
مائین منرلز بل پر دستخط کرے, یا استعفی دے کر گھر بیٹھ جائے, سہیل آفریدی دونوں ناجائز مطالبات سے انکاری ہے!!
شہید وطن شہید ارشد شریف نشان حیدر کی چوتھی برسی کے موقع پر جنیوا میں ارشد شریف ہیومن رائٹس ایوارڈ کا اعلان کردیا گیا
پہلا ایوارڈ اگلے سال 23 اکتوبر 2027 کو دیا جائیگا
وزیر اعلی کوئٹہ سرفراز بگٹی کی مشیر برائے کھیل مینا مجید کے بھائی کو اغوا کر لیا گیا
کئی گھنٹے گزرنے کے باجود بھائی کی بازیابی نہیں ہو سکی
لگاؤ گورنر راج بلوچستان میں
مجھے ابھی NCCIA کا نوٹیس آیا ہے۔ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کر لو!
عاصم منیر میں تمہاری بزدلی سے نہیں ڈرتا۔
مشرف نے اپنا بھیجا ہوا خط پڑھنے پر مجھے غداری کے مقدمے میں 23 سال کی سزا دی تھی۔ کیا وہ میرا سر جھکا سکا تھا؟
عاصم منیر! میں اپنے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں!