اب یہ دیکھیں کہ دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات ہورہی ہے ۔ گلشن حدید میں ان نامعلوم مسلح افراد نے موبائیل شاپ لوٹ لی ۔ اسلحے کے زور پر لاکھوں روپے مالیت کے آئی فون لے گئے ۔ حالات یہ ہوچکے ہیں کہ اب کراچی میں لوگوں کو گھر کی دہلیز سے بھی لوٹ لیا جاتا ہے ۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
"اگر عافیہ صدیقی کو قانون کے مطابق سزا ہوئی ہے تو میں عافیہ کو ملنے والی سزا کو غلط نہیں کہہ سکتا۔ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیئے" -
اسحاق ڈار
کیا اب اسحاق ڈار اپنے نواسے کو "قانون کے تحت" سزا ہونے دیں گے؟
بحریہ، سیلانی کے مفت دسترخوانوں کی قطاروں میں پہلے مزدور ہوتے تھے، اب سفید پوش کھڑے ہوتے ہیں کہ لوگوں کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا اور کھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، عمار مسعود کا خوفناک انکشاف
بجٹ سے پہلے سما نیوز کی شاندار مہم، باقی نیوز چینلز کو بھی اس کا آغاز کرنا چاہیے۔۔
سستی خوراک نہیں ہے۔۔۔۔ مہنگا خریدنا پڑتا ہے
رہائش نہیں ہے۔۔۔۔ کرایہ بھرنا پڑتا ہے
پانی نہیں ہے۔ ٹینکر منگوانا پڑتا ہے
بجلی نہیں ہے۔ سولر منگوانا پڑتا ہے گیس نہیں ہے سلنڈر بھرانا پڑتا ہے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں۔۔۔ پرائیویٹ علاج کرانا پڑتا ہے سرکاری سکول بدحال ہیں۔۔ بچوں کو ٹیوشن یا پرائیویٹ سکول میں پڑھانا پڑتا ہے
روزگار نہیں ہے۔۔۔ ملک سے باہر جانا پڑتا ہے۔۔
ہم ٹیکس دیتے ہیں لیکن بنیادی سہولیات کیوں نہیں ملتیں؟
اسلام آباد ایرپورٹ ایف آئی اے کی ریسلر خاتون اہلکار کا خاتون مسافر پر تشدد .وجہ کیا تھی اس نے میرے سے ٹوائلٹ پیپر کیوں مانگا ? میں کوئی صفائی والی ہوں .یہ میری توہین کر رہی تھی. ریسلر خاتون کا بیان
یہ پاکستان ہے ادھر جس کا بس چلتا ہے وہ فرعون بن جاتا ہے افسوس ہے جرنلوں نے اس ملک میں قانون ختم کر کے پورا ملک جنگل بنا دیا ہے
میری اطلاع اور خبر کے مطابق اسلام آباد میں 28ویں آئینی ترمیم لانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں، حکومتی اتحادی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مجوزہ مسودے پر حتمی مشاورت جاری ہے،تاہم کچھ چیزوں پر پھڈا برقرار ہے، ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر دو بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں( پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن) کی قانونی ٹیموں کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے،مجوزہ ترمیم کے نکات جن کی تفصیلات مجھے ملی ہیں ان کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے شیئرز کم کرنے کی تجویز شامل ہے جس کےلئے آئین کے آرٹیکل 160 میں ترمیم زیر غور ہے،18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کی گئی متعدد وزارتیں دوبارہ وفاق کو دینے کی تجویز دی گئی ہے جیسے صحت اور تعلیم کی وزارتیں شامل ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل میں وفاق کا کردار بڑھانے صوبوں کا کردار کم کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے موجودہ قانون کے تحت نئے صوبے کے قیام کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط ختم کی جارہی ہے،فی الحال صدارتی نظام لانے کی کنفرمیشن نہیں ہوئی،
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے 28ویں آئینی ترمیم کی بعض تجاویز پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم متفقہ تھی، اس لیے اس کے بنیادی نکات کو تبدیل نہ کیا جائے پیپلز پارٹی نے تجویز دی ہے کہ اگر یہ ترامیم ناگزیر ہیں تو انہیں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد پیش کیا جائے تاکہ اس سال کےلیے صوبے این ایف سی شئیر لیا جاسکے،
ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ سے پہلے اور موجودہ پارلیمانی سیشنز میں ہی 28ویں آئینی ترمیم پیش کرنے پر زور دے رہی ہے تاہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے 28ویں ترمیم کی حمایت سے انکار کیا تو حکومت پی ٹی آئی سے منسلک آزاد اور پیپلز پارٹی کے اراکین سے( بروٹ میجارٹی والی)حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔۔کل یہ خبر دی لنک کمنٹ میں ہے
"ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں سہیل آفریدی کے خلاف ایک زبردست میڈیا مہم شروع کی جائے گی، جس میں ان کی حکومت کے چند وزراء اور قریبی مشیروں کی کرپشن کے ثبوت میڈیا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔ حیران کن طور پر اس میڈیا مہم کے پیچھے نہ اسٹیبلشمنٹ ہے، نہ نون لیگ، اور نہ ہی دوسری مخالف سیاسی جماعتیں، بلکہ "گھر کے بھیدی" اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اس مہم کے پیچھے پی ٹی آئی کے ایک بڑے رہنما ہیں، جن کا نام فی الحال ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھا جا رہا، مگر آنے والے دنوں میں یہی نام ہر زبان پر ہوگا، اور وہ نام ہے علی امین گنڈاپور۔ اس مہم کے لیے خیبرپختونخوا کے بڑے بڑے صحافیوں سے رابطے کیے گئے ہیں، جن سے کہا گیا ہے کہ انہیں کچھ شواہد فراہم کیے جائیں گے، جنہیں وہ ایکس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کریں اور ان پر پروگرام کریں"۔جنید سلیم
@ImJunaidSaleem
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں