بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر، وزیراعظم شہباز شریف کل کوئٹہ کا ایک روزہ ھنگامی دورہ کریں گے۔ امن وامان کے حوالے سے اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوگا گورنر جعفر مندوخیل اور وزیر اعلی سرفراز بگٹی وزیراعظم کو حالیہ واقعات بارے بریفنگ دیں گے۔دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے اور سخت فیصلے متوقع
اسلام آباد: 18 جون 2026.
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
پہلے دن لکھا تھا کہ پاکستان ابراہیم اکارڈ سائن نہی کرے گا بھلے امریکہ الٹا لٹک جائے اب پڑھ لیجئے امریکہ میں کھڑے ہو کر اسحاق ڈار صاحب نے قوم کے جذبات کی بالکل درست ترجمانی کی ہے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ کہا ہے
پاکستان مسائل میں گھر غریب ملک ہے مگر کچھ معاملات میں بہت باوقار اور سخت لونڈا بھی ہے اور یہ بات دنیا جانتی ہے
آج کے بنوں کے میریان میں عسکریت پسندو کے خلاف آپریشن میں زخمی پولیس اہلکار
" دو دہشتگردوں کو جہنم پہنچا چکا ہوں ، اب اگر شہادت بھی تو کوئی پرواہ نہیں"
#Bannu#miryan
حامد میر اور ایمان مزاری جیسے لوگوں کے مسنگ پرسنز کے نام پر بنائے گئے جھوٹے بیانیے کی حقیقت دیکھنی ہو تو بی ایل اے کی یہ حالیہ ٹریننگ ویڈیو دیکھ لیں۔بلوچستان کی تاریخ، غیرت اور عظیم ثقافت میں خواتین کا ایک مقدس مقام ہے، لیکن بیرونی فنڈڈ کیمپوں میں غیر محرم مردوں کے ساتھ اس طرح کی ٹریننگ اور پھر انہیں فوج کے جوانوں کے خلاف استعمال کرنا بلوچ روایات کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ یہ کوئی نظریاتی تحریک نہیں بلکہ اخلاقیات سے عاری ایک منظم نیٹ ورک ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف بیرونی اشاروں پر پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے۔جدید امریکی ہتھیاروں کے ساتھ خواتین کو فرنٹ لائن پر لانا مرد جنگجوؤں کی کمی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔ ہنی ٹریپ جیسے حربے اور غیر محرم کیمپوں کا کلچر نہ اسلام کا حصہ ہے اور نہ ہی بلوچ غیرت کا۔ ریاست کے پیسوں اور اسکالرشپس پر پڑھ کر، چند ڈالروں کی خاطر اپنی اقدار کا سودا کرنے والی یہ خواتین بلوچ عوام کی نمائندہ نہیں ہو سکتیں۔ یہ صرف ہندوستان اور اسرائیل کے ڈالروں کا اثر ہے، لیکن پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
انشاءاللہ
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
ہمارے انتہائی عزیز دوست، بھائی اور 92 نیوز کے بیورو چیف محترم طارق عزیز صاحب کو ان کی تین دہائیوں پر محیط لازوال صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔
طارق عزیز صاحب سے میرا تعلق صرف چند سالوں کا نہیں، بلکہ تین دہائیوں پر محیط ایک سچے اور مخلصانہ رشتے کا نام ہے۔ ہم نے نوائے وقت کے سنہری دور میں اکٹھے کام کیا اور میں نے انہیں ہمیشہ صحافتی اصولوں پر کاربند پایا۔
ان کی صحافتی اور سیاسی تاریخ پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد سے جڑی ہے۔ جب جنرل مشرف نے مارشل لا لگایا اور محترمہ بیگم کلثوم نواز شہید نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک کا علم اٹھایا، تو طارق عزیز صاحب اس تحریک کے ہر اول دستے میں شامل تھے۔ پشاور سے لے کر مردان تک، اور سرگودھا سے لے کر لاہور تک، بیگم کلثوم نواز صاحبہ کا کوئی ایسا جلسہ یا مہم نہیں تھی جہاں طارق عزیز صاحب صفِ اول میں موجود نہ رہے ہوں۔
صحافتی تاریخ کا وہ یادگار دن کون بھول سکتا ہے جب 3 دسمبر 2000 کو سید ظفر علی شاہ صاحب کے گھر اے آر ڈی (Alliance for Restoration of Democracy) کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، طارق عزیز صاحب وہاں اس تاریخ کو بنتے دیکھ رہے تھے۔ مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کی جمہوریت کے لیے کی جانے والی جدوجہد ہو یا مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادتراجہ ظفر الحق، چودھری نثار علی خان، اقبال ظفر جھگڑا، خواجہ سعد رفیق اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ہر ایک کے ساتھ ان کا قریبی، نظریاتی اور احترام کا تعلق رہا۔ مسلم لیگ (ن) کی بیٹ (Beat) طویل عرصے تک ان کے پاس رہی، یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی سیاست کے اسرار و رموز سے جتنا واقف ہیں، شاید ہی کوئی اور ہو۔
ان کی شرافت اور پیشہ ورانہ مہارت کا عالم یہ ہے کہ جہاں ن لیگ کی قیادت ان پر اندھا اعتماد کرتی ہے، وہاں پیپلز پارٹی کے دوستوں اور دیگر سیاسی حلقوں میں بھی ان کے مراسم انتہائی مثالی اور قابلِ رشک ہیں۔
"طارق عزیز صرف ایک نام نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی و صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ آج ریاست نے ان کو تمغۂ امتیاز دے کر دراصل اس تین دہائیوں کی بے داغ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
میرے بھائی، میرے دوست طارق عزیز! آپ کو یہ عظیم اور مستحق اعزاز بہت بہت مبارک ہو۔ آپ کی اس کامیابی پر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ اللہ پاک آپ کے قلم اور قدم میں مزید برکت عطا فرمائے، آپ کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی زندگی دے اور آپ اسی طرح حق و سچ کا علم بلند کرتے رہیں۔ آمین
@Tariq_aziz99
یہ انداز کسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ملازمین کا نہیں ہے ایسا لگتا ہے ڈاکو دکان میں گھس گئے ہیں ، اصل قصور حکومت کا نہیں ان سرکاری ملازمین کے والدین کا ہے جنہوں نے اپنی اولاد کو عام آدمی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی
بڑے ہی بے غیرت بیٹے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے باپ کو تھپڑ پڑتے دیکھے اور پھر اس FIA اہلکار کو انصاف کئے بغیر وہاں سے بھاگنے دیا۔ کم از کم FIA اہلکار کے وہ ہاتھ اتنے ضرور توڑ دیتے کہ وہ زندگی بھر کسی کے بیٹے کے سامنے اس کے باپ کو تھپڑ مارنے کے قابل نہ رہتا۔۔۔
باپ کے پاس اولاد کے سامنے عزت کے سوا ہوتا ہی کیا ہے؟ اسی طرح اولاد کے سامنے باپ کی عزت، عظمت اور سرپرستی کے سوا ہوتا ہی کیا ہے؟
زیادہ سے زیادہ کیا ہو جانا تھا، مقدمہ ہو جاتا، سزا ہو جاتی، جیل چلا جاتا۔۔۔ لیکن ایک مرتبہ قربانی دینے سے ملک بھر کے باپوں کی اپنے بیٹوں کے سامنے اور ملک بھر کے بیٹوں کی اپنے اپنے باپوں کے سامنے زندگی بھر کے لئے عزت نفس محفوظ ہو جاتی۔
انتہائی دردناک لمحہ ! 💔😭🙏
آج شیخ صاحب کی جگہ پر ام ان کے بھائی جمعہ کے بیان کیلئے بیٹھ گیا ، بیٹھتے ہی شیخ صاحب کے بھائی اور سارہ مجمعہ بے اختیار رونے لگا۔
#شہید_شیخ_ادریس_رح
مولانا کی سپورٹ کی ایک وجہ یہ بھی کہ مولانا کبھی فتنہ اور انتشار نہی پھیلاتے ان کی جماعت کا ایک بہت بڑا عالم شہید ہوا بہت لوگ دکھی تھے جزباتی ماحول تھا مگر مولانا نے اس موقع پر خارج اور دہشت گرد طالبان کو للکارا ہے آپ یہ لازمی سنیں
مولانا نے کہا کہ تم مجاہد نہیں بھگوڑے ہو،تمہھاری حیثیت بھگوڑوں کی ہے شرم نہیں آتی پاکستان کے لاکھوں علماء اسلام کو نہیں سمجھتے اور تم چند بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو پاکستان کے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے
مولانا فضل الرحمن نے خوارج کو طالبان دہشت گردوں کو مرتد، بھگوڑے، جاہل اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو اس عمل کی تعریف کرتے رہینگے
آئینی ترامیم کے ذریعے نیب کے ہاتھ باندھ دئیے گئے،اگر کسی کو پکڑتے ہیں تو انصاف کے متعلق ادارے ملزم کوریلیف فراہم کر دیتے ہیں۔ اسکے باوجود سال 2026 کے پہلے 3 ماہ میں 2962 ارب روپے کی ریکوری کی۔
چئیرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پابندیاں ختم ہونے کی گزشتہ روز خوشخبری سنائی تھی جس کے بعد ریڈ زون جانے کا حوصلہ ہوا تین ہزار روپے ٹیکسی کو ادا کرنے بعد بھی مارگلہ روڈ اس کے بعد نادرا چوک سے آج شام سات بجے کے بعد آگے جانے نہیں دیا گیا آپ کی اطلاع پر پھر یقین کرلیتے ہیں کہ راست کھل گئے ہیں لیکن مودبانہ گزارش ہے کہ راستے بند کرنے سے پہلے اطلاع ضرور کردیں تاکہ پھر لوگوں کو خوار نہ ہونا پڑے وطن کی عزت کے خاطر پھر بھی ایسی پابندیاں لگانی ہوں تم ہم تیار ہیں عوام کی پریشانی یہ ملک کا پہیہ بند ہونا کوئی مسلہ نہیں ہمیں پاکستان سے پیار ہے
#IslamabadTalks2 @MIshaqDar50
گوادر گرینڈ جرگہ امن،استحکام، پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ عزم کا عکاس ہے جہاں سول وعسکری قیادت، قبائلی عمائدین،عوام ایک پلیٹ فارم پرمتحد نظر آئے۔ یہ اجتماع اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مؤثر حکمرانی، مضبوط سیکورٹی اور تیز رفتار ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے بالخصوص گوادر کے لئے۔
"بدل رہا ہے بلوچستان "
بلوچستان میں طلباء/طالبات کی سکولوں میں داخلہ مہم اہداف کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔داخلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری،دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔
وزیر اعلی سرفراز بگٹی،ریاستی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔
یہ سعودیہ کا بہت بڑا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہے ڈیڑھ ملین فالورز اس نے فیلڈ مارشل کی یہ ویڈیو پوسٹ کی کہ آزاد ریاست کیا ہوتی اس کی اہمیت لیبیا اور شام کے لوگوں سے پوچھو
عاصم منیر کو عرب سوشل میڈیا ایک ہیرو کی طرح پیش کر رہا ہے
Mr President, on behalf of the people of Pakistan, Field Marshal Syed Asim Munir, and on my behalf, I express my deep and profound appreciation for your kind and gracious words.
@realDonaldTrump
Pakistani Army Lt. Colonel pays tribute at the grave of a brave Baloch Police Officer in Mushke, Balochistan.
This officer was brutally martyred by BLA terrorists shot 20 times.
Standing at his grave in front of a large gathering, the Lt. Colonel delivered a powerful message:
Come fight us face to face.
Taking money from India and killing innocent elderly Baloch is not bravery.
Real courage is protecting your own people not becoming a foreign-funded killer.