جناب وزیر خزانہ جات اور جناب چیئرمین فیڈرل کی بورڈ آف ریونیوز جان کی امان پاوں تو عرض کروں
اگر آپ کی کل قابلیت یہ کہ ٹیکس خسارہ اور آمدن پٹرول پر ٹیکس لگا کر پورا کرنا ہے تو یقین مانیں میرے گھر میں کام کرنے والا خاکروب بھی آپ سے ہزار گنا بہتر وزیر اور چیئرمین بن سکتا ہے۔
والسلام
بتایا جا رہا ایران نے پاکستان سے کہا کہ اس کے وزیر داخلہ کے دورے کے لیے امریکہ سے اجازت لی جائے پاکستان نے اجازت لی تب دورہ ممکن ہوا اب ایران چاہتا پاکستان سیز فائر کروا دے جیسے پہلے کروائی تھی جبکہ امریکہ اس دفعہ کسی شرط کو ماننے کو تیار نہی وہ کہہ رہا پہلے غیر مشروط آبنائے ہرمز کو کھولے تب سیز فائر ہو گا
جبکہ ایران پہلے کی طرح صرف وقت حاصل کرنا چاہتا کہ پہلے یہ دو وہ دو پھر سیز فائر ہو گا اس دفعہ وہ کشن جو پہلے حاصل تھا وہ نہی مل رہا ہے پاکستان بھی ناراض ہے
کاکروچ پارٹی کا احتجاج دیکھ کر ڈی چوک کی یاد آگئی ہے ۔ اس سے زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ مجھے تو لگ رہا ہے انڈیا کی جنتا نے ہمارے خان صاحب کا دھرنا دیکھ کر ڈی جے اور بچیوں کا انتظام کیا ہے ۔
یہ لامین یمال کی دادی فاطمہ ہے جو مراکو سے ڈنکی مار کر ایک کشتی میں سپین پہنچی ساتھ اس کا سگا باپ جو ابھی صرف 38 سال کا ہے اس کی دادی حجاب لیتی ہے یہ عربی بولتے اور یمال مسلم ہے اور فٹ بال میچ میں بھی روزے رکھتا فلسطین اور اسلاموفوبیا پر بات کرتا ہے
میسی اور ریفری ۔۔
اس آدمی نے نئے اینگل سے دکھایا ہے کہ کچھ لوگوں کا "عظیم کھلاڑی" میسی دراصل کیسا ہے۔
اس نے سپین کے کھلاڑی کے ایک سیکنڈ غلطی سے منہ پر ہاتھ رکھنے پر اسے ریڈ کارڈ دلوانے کی پوری کوشش کی اور ریفری سے بار بار ضد کی کہ یار سمجھا کر بات مان
ایران نے عباس عراقچی کی جگہ وزیرداخلہ کیوں بھیجا؟
وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے جو تاریخی معاہدہ ایران کو کروا کر دیا وہ پاسدران نے توڑ دیا۔ جس پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی شدید غمزدہ اور مایوس ہیں۔ انکا خیال ہے کہ بطور وزیرخارجہ پاسداران نے انکو پوری دنیا میں دو کوڑی کر دیا ہے جس کے لکھے ہوئے معاہدے کو بھی ایران میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ساتھ ہی معاہدے کے حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ میں جو نعرے بازی ہوئی اس سے ایسا لگا جیسے وہ معاہدہ کوئی بہت بڑی غداری تھی۔
لہذا اب عباس عراقچی دوبارہ ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور خاص طور پر وہ پاکستان کا سامنا کسی صورت نہیں کرنا چاہتے۔ عباس عراقچی کے خیال میں انکے پاس پاکستان کے سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ یہ انہوں نے پاسداران پر بھی واضح کیا ہے جس کے بعد انہوں نے اپنا وزیرداخلہ پاکستان بھیجا ہے تاکہ پاکستان کو دوبارہ جنگ بندی کروانے پر قائل کریں۔ لیکن اس سے زیادہ ایران چاہتا ہے کہ پاکستان چین سے بات کرے کیونکہ چین بھی ناراض ہوگیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے امریکہ کا کوئی خاص تیل نہیں جاتا۔ لیکن چین کی تیل کی 60٪ ضرورت آبنائے ہرمز سے پوری ہورہی ہے۔ چین کا غصہ یہ ہے کہ ایران کی بےجا ضد اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لالچ نے امریکہ کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ ایران کو مار مار کر خود آبنائے ہرمز کا کنٹرول لے لے۔ ایسا ہوا تو چین کی تیل کی 60٪ سپلائی امریکہ کے ہاتھ میں آجائیگی اور چین اسکو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہا ہے۔ چین ایم او یو پر بہت خوش تھا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔ ایران نے جو کیا ہے اس کے بعد چین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس سے ایران کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہیں۔ ایران کو ڈر ہے کہ اگر چین صرف ایرانی میزائل سسٹم کو گائیڈ کرنے والا اپنا بیدو سسٹم ہی بند کردے یعنی ایران کے لیے اس کے سگنلز جام کر دے تو ایران اسی دن شکست کھا جائیگا کیونکہ اس کے میزائل اندھے ہوجائینگے۔
اب ایران چاہتا ہے کہ پاکستان چین کو بھی راضی کرے اور دوبارہ امریکہ سے بات کرے کہ وہی ایم او یو بحال کرتے ہیں جو پاکستان نے کروا کر دیا تھا۔ لیکن اب شائد امریکہ نہ مانے۔
#IranWar
#DieselKiPhattGayi
سپین کا بادشاہ فاتح ٹیم کا وطن واپسی پر شاہی محل میں استقبال کر رہا سب سے ہاتھ ملایا مگر لامین یمال واحد کھلاڑی جسے باد ای نے گلے لگا لیا شاہی خاندان نے کل بھی اس سے بہت محبت دیکھائی