صفیہ بلوچ اور خدیجہ کو مہینوں نامعلوم قید میں رکھ کر پریس کانفرنس میں گناہ گار ثابت کی جارہی ہے، لیکن ریاست جو الزامات لگا رہا ہے وہ الزامات عدالتوں میں کیوں ثابت نہیں کئے جاتے ؟
بلوچستان میں عدالتیں کس لئے قائم ہیں جب فیصلے ریاستی قید خانون میں ہورہے ہیں ؟
بابو جسمانی حوالہ ئٹ ننے آن جتا ءِ ولے بابو عبداللہ جان تینا کڑد، گشاد و عمل آن اینو ہم بلوچ راج ئنا ہر علمی و فکری مجلس ئٹ چائنگک، و بابو عبداللہ جان تینا کڑدار ئنا سوب آن اینو ام زندہ سلوک ءِ و نمیران ءِ۔
🥀🌹
His family had never been informed. His remains were buried without their knowledge.
Those who were later released from detention had confirmed seeing him in custody.
#StopBalochGenocide
20 years old Baloch student Imran Ali, son of Aslam, from Zamuran, Kech, was forcibly disappeared in Quetta on 27 August 2025.
He had gone to Quetta for his education and lived in a rented room in A-One City.
CTD personnel took him from there.
After his disappearance, Imran’s family appealed for his release, saying that if he had committed any offence, he should be produced before a court and given a fair trial.
Instead, his whereabouts remained concealed for nearly a year.
On 6 August 2026, authorities disclosed that Imran had been killed in May.
His family had never been informed. His remains were buried without their knowledge.
Those who were later released from detention had confirmed seeing him in custody.
Authorities now claim that Imran was killed in an armed encounter.
Given his prior disappearance and detention, the circumstances of his death require a prompt, independent and impartial investigation, including forensic examination.
Moreover, the booklet includes a comprehensive conservation with Uzair Baloch, Chairman of the Baloch Students Action Committee, on education system, BLC and its developments.
#BSAC
The Booklet of Baloch Literacy Campaign (BLC) has been published. It features the ground-based data reporting on the conditions of schools and colleges with images attached. It also contains an analysis on the education in colleges universities in Balochistan. It focuses on the educational crisis in Balochistan pointing a very low literacy rate, highlighting a growing gap of students in getting admission in schools.
Moreover, the booklet includes a comprehensive conservation with Uzair Baloch, Chairman of the Baloch Students Action Committee, on education system, BLC and its developments.
Baloch Students Action Committee
Note: For the complete of the booklet, visit our website ⬇️
https://t.co/PPzUHEcjtc
Life and legacy of Mubarik Qazi
Biography
Mubarak Qazi is a distinctive and influential figure in Baloch society and modern Balochi literature. He is not considered merely a poet; he became the voice of Baloch people with verses, writing on his nation’s experiences, griefs, resistance and hope. His poetry rose from the realities of ordinary lives and transformed into an intellectual expression.
For complete biography, may please visit our site. 🔗⬇️
https://t.co/UesegI7YPi
A documentary video featuring the Baluchistan’s Education Crisis by the Baloch Literacy Campaign.
Note: The video is also available on BSAC’s YouTube channel.
Baloch Students Action Committee
Baloch Students Action Committee has been released a biography documentary on Mubarik Qazi.
The documentary features, Mubarik Qazi’s life and his literary legacy, including interviews of some Baloch writers.
https://t.co/xRyLRxyoj4
We have learned how heavy silence can be. Not knowing where he is, how he is, or when we will see him again has left our family living with questions that have no answers. All we want is to know that our brother is safe and to have him back home.
#ReleaseAsifBaloch
بلوچستان میں عدلیہ مکمل طور پر اپنا اثر اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا تھی، وہ آج ریاستی اداروں کی معاون بن کر انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
@MahrangBaloch_#ReleaseBYCLeaders
بلوچستان میں عدلیہ مکمل طور پر اپنا اثر اور عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ جس عدلیہ کی ذمہ داری عوام کو انصاف فراہم کرنا تھی، وہ آج ریاستی اداروں کی معاون بن کر انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کامران ملاخیل بی وائی سی کے تمام مقدمات کی خود پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ان کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مبین، جسٹس قادر شاہ بخاری سمیت پورے بلوچستان میں بی وائی سی کے مقدمات سننے والے ججز کو ریاستی ایما پر فیصلے دینے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عدلیہ کی غیرجانبداری اور آزادی ختم ہوچکی ہے ۔
گلزادی بلوچ کا مقدمہ اس عدالتی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ متعدد مواقع پر متعلقہ جج کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ دباؤ میں ہیں اور انہیں کیس میں سزا سنانے کی ہدایات دی گئی ہے، عدالتی آزادی اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ 7 ستمبر کو عدالت میں ہڑتال اور وکیلِ صفائی کی عدم موجودگی کے باوجود گلزادی بلوچ کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھی گئی اور دفاع کے وکیل کی غیرموجودگی میں گواہ پر جرح کی گئی۔ یہ دفاع کے بنیادی حق اور منصفانہ ٹرائل کے اصول پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
اسی طرح ہمارے مقدمات میں بھی ہماری اجازت کے بغیر تعینات کیے گئے سرکاری وکلاء کو مختلف مراعات دے کر اسلام آباد تک پہنچایا گیا، جبکہ ہمیں اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔ کیا یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف ہے، جہاں عدالتیں آزادانہ فیصلوں کے بجائے ریاستی اداروں کے طے کردہ فیصلے سنانے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہمیں عمر قید کی سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، مگر ہماری اپیل کی سماعت کے لیے بھی ایک طویل تاریخ، اکتوبر تک کی، مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں اس طرح کی مسلسل تاخیر ہمارے بنیادی حقِ اپیل اور فوری انصاف کے حق کو متاثر کر رہی ہے۔ جب ایک شخص پہلے ہی قید میں ہو تو اس کی اپیل کو غیرضروری طور پر طویل عرصے تک مؤخر کرنا دراصل قید کو ہی سزا میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
13 جون سے آج تک فیس لیس ٹرائل کے خلاف بی وائی سی نے 20 پیشیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس حوالے سے ہماری پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع ہو چکی ہے، مگر چیف جسٹس کامران ملاخیل کی سربراہی میں عدالت ہماری پٹیشن سننے اور ہمارے دفاع کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے کے بجائے مسلسل اس معاملے کو تاخیر کا شکار کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل عدلیہ کی غیرجانبداری پر ایک واضح سوال ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس ملاخیل کی جانب سے گزشتہ چھ ماہ سے ہماری ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بجائے بار بار مقدمات کو ڈی لسٹ کیا جا رہا ہے۔ کسی شخص کو عدالتی عمل کے ذریعے ہی سزا کا شکار بنانا اور ضمانت کے معاملے میں مسلسل تاخیر کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان کو کسی فریق کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے آئینی منصب کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدارانہ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنے چاہئیں۔ عدلیہ کا کام ریاستی اداروں کے فیصلوں کو قانونی جواز فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، دفاع کے حق، اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔
ہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بی وائی سی کے مقدمات میں عدالتی جانبداری، دفاع کے حق سے انکار اور انصاف کے تاخیر کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
10 ستمبر 2026
ہدہ جیل کوئٹہ
آج یونیورسٹی آف بلوچستان میں آل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بی ایس او کے زونل صدر کبیر بلوچ نے کی۔
اجلاس میں طلباء و طالبات کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ باہمی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ۔
A documentary has been released by Baloch Students Action Committee on “Balochistan’s Educational Crisis” under the campaign of Baloch Literacy Campaign.
The documentary features the reported cases of various schools, analysation on educational issues and others.
بلوچستان میں عام شہریوں کا قتلِ عام، معصوم بچوں کی لاشیں اور گولیوں سے چھلنی ہر جسم ریاستی ظلم کی گواہی دے رہا ہے۔ اس جبر کے خلاف خاموشی ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ سونارو میں متاثرین شہداء کی میتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں، جو گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے۔
وڈھ میں شادی کی تقریب پر فائرنگ اور چار شہریوں کا قتل بلوچستان میں ریاستی قتلِ عام کے منصوبے کا تسلسل ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
وڈھ کے کلی یار محمد سونارو میں شادی کی ایک تقریب کے دوران پاکستانی فوج کی براہِ راست فائرنگ نے ایک گھر کی خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔ ایف سی کارندوں کی براہِ راست فائرنگ سے چار شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ سونارو کا سانحہ بلوچستان میں ریاستی قتلِ عام کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت بلوچ عوام کو بلاامتیاز روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا جا رہا ہے۔
ریاستِ پاکستان کی یہ فسطائیت اور جبر کسی ایک واقعے تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی جابرانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بلوچ قوم کو شناخت کی بنیاد پر خوف، خون، دہشت اور اجتماعی سزا کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بلوچستان میں عام شہریوں کا قتلِ عام، معصوم بچوں کی لاشیں اور گولیوں سے چھلنی ہر جسم ریاستی ظلم کی گواہی دے رہا ہے۔ اس جبر کے خلاف خاموشی ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ سونارو میں متاثرین شہداء کی میتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں، جو گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی لواحقین کے دھرنے کی حمایت کرتی ہے اور ذی شعور عوام سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ان کی آواز بنیں، متاثرین کی آواز میں اپنی آواز شامل کریں اور احتجاج کو تقویت دیں، کیونکہ جبر کے خلاف متاثرین کی ہر آواز ہم سب کے لیے زندگی کے مطالبے کے مترادف ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں شہریوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد، طاقت کے بے جا استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور ریاستِ پاکستان کو عالمی فورمز پر جوابدہ ٹھہرائیں۔
کچھ خواب تھے، کچھ ارمان،
جو وقت سے پہلے ہی قید کر دیے گئے۔
نہ ان کی تعبیر ملی، نہ واپسی کا راستہ،
بس زندانوں کی خاموشی میں گم ہو گئے۔
#ReleaseAsifBaloch
آصف کی جبری گمشدگی سے ہمارا خاندان شدید اذیت میں مبتلا ہے۔ میری والدہ دروازے کی ہر آہٹ پر گہری نیند سے اٹھ جاتی ہیں، شاید آصف واپس آ گیا ہو۔ یہ انتظار اور اذیت کب ختم ہوگی؟ آصف کو بحفاظت بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseAsifBaloch