بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی ذمہ دار افغان حکومت آذاد کشمیر کے حالات کی ذمہ دار ہندوستان حکومت لیکن مرید کے اور اسلام آباد D چوک میں سینکڑوں مسلمان بھائیوں کو گولیوں سے چلنی کر کے لاشیں غائب کرنے والا یہی ادارہ
مقتدرہ نہیں عاصم منیر
میں شروع دن سے کہہ رہی ہوں کہ جنگ نہیں رکے گی۔
باطل نے 40 سال اس جنگ کے لیے تیاری کی ھے۔ وہ نتیجے کے بغیر کیسے بند کر دیں گے؟
اللّٰہ ایران کی حفاظت فرمائے اور فتح یاب کرے۔ آمین، ثم آمین! 🤲
ثناء ورک
@Sana_Virk12
پشاور کے ایک اسسٹنٹ کمشنر کے سکیورٹی گارڈ بغیر خاتون پولیس اہلکار کے ایک گھر میں داخل ہوئے
گھر کے سربراہ کو گالیاں دیتے ہوئے باہر نکالا اور گاڑی میں ڈالنے کی ویڈیو آپ کے سامنے ہے
احسن اقبال سان فرانسسکو پاکستانیوں کے ہتھے چڑھ گیا
ن لیگ نے احسن اقبال کا استقبال کرنے کے لیے اپنے لوگ بلاۓ PTI والے زیادہ آ گئے
چور آیا چور آیا کے نعروں سے استقبال
بے شرموں کی طرح ہاتھ ہلا کر چور چور کے نعروں کا جواب دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا کہ لوگ ویلکم کر رہے ہیں
شاید پاکستانی عوام کے پاس کھانے کیلئے روٹی بھی ھے اور کیک بھی ۔
اور ہو سکتا ھے کہ پاکستانی عوام کو آسمان پہ جہاز اڑتے دیکھنے کا شوق بھی ہو؟
ورنہ فرانس، نیپال، بنگلہ دیش،سری لنکا کے عوام بھی دو ہاتھ پاؤں والے انسان ہی تھے جنات نہیں
اور ان کا سامنا بھی وقت کے ظالم حکمرانوں سے تھا
اس بچے کی والدہ جیسوں کے لئے وزیراعظم عمران خان نے ہیلتھ کارڈ اشیو کیا تھا کہ انہيں گھر کے دانے بیچ کر ماں کا علاج نہ کروانا پڑے۔ اس ہیلتھ کارڈ سے دس لاکھ روپے تک کا علاج ہوسکتا تھا۔ ایسی انقلابی ہیلتھ کئیر بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہيں ہے۔ (ایران میں ہے۔)
مریم نواز نے وہ پروگرام ختم کرکے اس کی جگہ اپنے لئے بارہ ارب روپے کا خصوصی جہاز خرید لیا۔ مریم نواز کو لانے والوں نے عمران خان کو ایسے "جرائم" کی پاداش میں وزارت عظمی سے اتار کر قید خانے میں ڈال دیا۔
بلوچستان جل رہا ہے نہ کوئی بلوچ محفوظ ہے نہ کوئی پشتون محفوظ ہے نہ کوئی پنجابی محفوظ ہے نہ کوئی تاجر محفوظ ہے نہ کوئی سرکاری ملازم محفوظ ہے نہ کوئی سنی اور نہ ہی کوئی شیعہ محفوظ ہے، ضلع زیارت میں شدت پسندوں کے حملے میں 27 پولیس افسران اور اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی ہیں شہداء میں دو تھانوں کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں، درجنوں مسلح افراد نے پیر کو کوئٹہ سے شمال مشرق میں تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مانگی ڈیم پراجیکٹ کے فیز تھری کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس پر پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی لیکن دھشتگردوں کی تعداد اور اسلحہ زیادہ ہونے اور ضلعی و صوبائی حکومت کو بار بار مدد کے لیے بلانے کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے نہ آنے پر اتنی شہادتیں ہوئیں، 12 بجے زیارت سانحے میں دھشتگردوں سے لڑنے والی پولیس نے اپنے افسران کو کہا کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں دھشتگرد زیادہ ہیں خدا کے لیے ہم تک مدد پہنچائیں، پانچ بجے تک وہ لڑتے رہے اور پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے ہیں مہربانی کریں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ مہربانی کریں اور کچھ امداد پہنچائیں لیکن مقامی لوگوں کو بھی سیکیورٹی فورسز نے لڑنے والے پولیس اہلکاروں کی مدد کے لیے آگے نہیں جانے دیا، افسوس کی بات ہے کہ اس علاقے میں ایف سی کی بیشمار چوکیاں موجود ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw