مجھے پیغام ملا ہے کہ مجھے کسی ایکسیڈنٹ کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا۔ میری بیٹیوں کو ذلیل و رسوا کیا جائے گا، جتنا کر سکتے ہیں کیا جائے گا۔
میں نے اس پر سوچا، کیا جاوید ہاشمی کا خاندان اہلِ بیتؑ سے زیادہ مقدس ہے؟ جاوید ہاشمی اپنا سر سنتِ حسینؑ پر چلتے ہوئے پیش کرے گا۔ بی بی زینبؑ کو ننگے سر دربارِ یزید میں پیش کیا گیا، جاوید ہاشمی کی بیٹیاں بھی بی بی زینبؑ کے نقشِ قدم پر چلیں گی۔
جب تک یزید کے پیروکار زندہ ہیں، تب تک حسین ابنِ علیؑ کے پیروکار ان کا مقابلہ کریں گے۔
فوری طور عمران خان سے ملاقات اور شوکت خانم ہسپتال ڈاکٹرز کی رسائی سے کم پر کسی صورت احتجاج سے نہیں ہٹنا چاہیے
8 فروری کا احتجاج اپنی جگہ پر
مگر خان صاحب کی صحت کے حوالے سے فوری اور موثر احتجاج کا راستہ اپنانا چاہیے۔
@PTIofficial
سوشل میڈٰیا کا پیغام 🛑
آپ تینوں کل اڈیالہ کے باہر موجود ہونے چاہیے!
ورنہ سوشل میڈیا پر آپ سب کو ایکسپوز کیا جائے گا!!
NA-90 (میانوالی-II): عمیر خان نیازی
NA-109 (جھنگ): شیخ وقاص اکرم
NA-122 (لاہور): سردار لطیف کھوسہ
شاندانہ گلزار اور علی محمد خان, آپ دونوں کل اڈیالہ جیل کے باہر جائیں, علیمہ خان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے!!
ورنہ کل آپ دونوں کو سوشل میڈٰیا پر عوام کے سامنے کھڑا کیا جائگا!!
تحریک انصاف کا بڑا فیصلہ 🔥🔥
8 فروری کو ہونے والے احتجاج میں وزیر اعلی سہیل آفریدی خیبر پختواہ سے نہیں بلکہ پنجاب لاہور سے لیڈ کرے گے اور شاہد خٹک اور انکی ٹیم خیبر پختنواہ کا محاز سنبھالے گے
تحریک انصاف کے کارکنان کے لیے چیلنج ہے ،اگلے منگل کو اڈیالہ کے باہر دس ہزار کارکن ہونے چاہئیں ،اگر آپ دس ہزار کی تعداد میں بھی نہیں آسکتے تو پھر سب کچھ ختم سمجھیں ،محمود خان اچکزئی صاحب اور علیمہ خانم صاحبہ کی گفتگو
🔴محمود اچکزئ کی اہم ترین گفتگو
اگلے منگل یہاں کم از کم 10000 بندہ آنا چاہیے، لاکھوں کی آبادی ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات ہو اور وہ رہا ہو تو پھر اگلے منگل 10000 بندہ آنا چاہیے، یہ پی ٹی آئی کارکنان کیلئے چیلنج ہے
مذاکرات؟ کس چیز کے مذاکرات؟
کسی نے میرے گھر پر ڈاکہ ڈالا ہے اب اس کے ساتھ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو وہ صرف اس بات پر ہونگے کہ بھائی میرا سامان لوٹا دو، پروا نہیں اگر اس میں کچھ کمی ہو ہم معاف کرتے ہیں۔
اگر یہ مذاکرات کوئی کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
پنجاب کو متحرک کرنا ایک مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے
سہیل آفریدی کو اب آرام کے بجائے کام کام بس کام کرنا چاہیے
انشاء اللہ اللّٰہ کی مدد سے سب کچھ پلٹ سکتا ہے
سہیل آفریدی کو سب چیزوں سے بالاتر ہوکر سب کو مکمل سپورٹ کرنا چاہیے
ایمان اتحاد تنظیم وقت کی اشد ضرورت۔
موجودہ حکومت پی آئی اے بیچ کر پھنس گئی ہے۔ قانون کے مطابق پی آئی اے کے جہاز جب ٹرانسفر کیے جائیں گے تو دس سال تک کے وزراء اعظم کی بائیو میٹرک چائیے ہو گی۔ جس کا مطلب ہے شہباز شریف عمران خان اور نواز شریف کی بائیو میٹرک سے ہی جہاز ٹرانسفر ہوں گے۔
اب اگر عمران خان نے بائیو میٹرک سے انکار کر دیا تو پورا سودا ختم ہو جائے گا۔
اور اگر نئے مالکان نے ٹرانسفر کے بغیر جہاز اڑائے تو ہر ملک میں چالان بھرتے پھریں گے۔ تماشہ تو اب شروع ہو گا۔ @ARYSabirShakir
محمود خان اچکزئی نے کبھی مذاکرات کی بات نہیں کی محمود خان اچکزئی کیا بات کرتے ہیں میں بڑی اچھی طرح جانتی ہوں محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت ، رول آف لاء اور انسانی حقوق کے تحفظ پر اکٹھی ہو جائیں عمران خان کو میں منا لوں گا یہ ہی عمران خان چاہتے ہیں
علیمہ خان
بریکنگ نیوز 🚨
اپوزیشن لیڈر کا بڑا بیان آگیا 🛑
ہم پر امن ہے, نہ ڈنڈا اٹھائیں گے, نہ ماں بہن کی گالیاں دینگے, لیکن اگر ہمارے پر امن کارکنان پر تشدد کیا تو ہم آگے چلے جائینگے!!🔥
ہم وہ آخری لوگ ہیں جو ریفارمز کی بات کررہے ہیں اگر یہ سارے راستے بند ہوگئے تو آج کا نوجوان ہماری بات نہیں سنے گا۔ آپ اس شخص کو جیل میں رکھ کر جو لوگوں کے دلوں میں بستا ہے کیسے امن و امان دے سکتے ہیں۔عمران خان قیدی نہیں آپ نے پورے پاکستان کو قیدی کیا ہوا ہے۔ میں اپنی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں ہوش کے ناخن لو وہ لوگ جو اقتدار کے بینیفشری ہیں وہ آپ کو پاکستان کے عوام سے لڑوا رہے ہیں۔ جنہوں نے کہا تھا ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے ان کے سینوں میں تمہارے لیے بغض ہے وہ تمہیں صرف عمران خان نہیں پورے پاکستان کی عوام سے لڑا رہے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے خیبر پشتونخوا ہاوس میں منعقدہ دو روزہ
قومی کانفرنس 20 - 21 دسمبر 2025 کے دوسرے دن کا سیشن پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چئیرمین محترم مشر محمودخان کی صدارت میں جاری ہے۔