جناب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا صاحب
موضوع: حلقہ PK-71 کے انتظامی و سیاسی معاملات میں غیر متعلقہ مداخلت کے حوالے سے گزارش
میں نہایت احترام کے ساتھ آپ کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جو نہ صرف میرے حلقے بلکہ حکومتی نظم و ضبط اور تنظیمی ہم آہنگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
جناب، آپ کے بھائی جناب نوید مسلسل میرے حلقے کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، جس کے باعث غیر ضروری گروپ بندیاں جنم لے رہی ہیں اور ایک منتخب عوامی نمائندے کی حیثیت سے میری عزتِ نفس اور سیاسی وقار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
میں اس معاملے پر انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہا ہوں۔ میں نے اس حوالے سے پانچ مرتبہ ذاتی طور پر آپ کو آگاہ کیا، چار مرتبہ صوبائی وزیر مینا خان صاحب کو اس صورتحال سے آگاہ کیا، متعدد بار براہِ راست نوید صاحب سے بھی گزارش کی، حتیٰ کہ ان کے اہلِ خانہ سے بھی تقریباً دس مرتبہ درخواست کی کہ انہیں میرے حلقے کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے۔ بدقسمتی سے ان تمام کوششوں کے باوجود اس مسئلے کا کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔
صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اپکا نوید میرے حلقے میں باقاعدگی سے کھلی کچہریاں منعقد کرتے ہیں، ان کی صدارت کرتے ہیں اور ضلعی محکموں کے سربراہان کو ہدایات دیتے ہیں۔ متعدد مواقع پر متعلقہ افسران کو یہ کہا گیا کہ اگر وہ کھلی کچہری میں شریک نہ ہوئے تو انہیں معطل یا تبادلہ کر دیا جائے گا۔ میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ واضح فرمایا جائے کہ وہ کس قانونی، آئینی یا سرکاری اختیار کے تحت ایسی کھلی کچہریاں منعقد کرتے ہیں، ان کی صدارت کرتے ہیں اور سرکاری افسران کو احکامات جاری کرتے ہیں۔
مزید برآں، وہ گریڈ 19 اور گریڈ 20 کے افسران کے اجلاس منعقد کرتے ہیں، انتظامی معاملات میں براہِ راست ہدایات دیتے ہیں اور میرے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کے اعلانات بھی کرتے ہیں، جبکہ میں نے متعدد بار صرف یہ گزارش کی کہ اگر حکومت میرے حلقے میں کوئی منصوبہ دینا چاہتی ہے تو کم از کم مجھے اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ میں اسی حلقے کا منتخب عوامی نمائندہ ہوں۔
میری سیاسی ٹیم نے بھی اس صورتحال پر کئی مرتبہ شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ میں نے ہمیشہ انہیں صبر، تحمل اور تنظیمی نظم و ضبط کا پابند رہنے کی تلقین کی، ورنہ وہ اس طرزِ عمل کے خلاف کافی پہلے پریس کانفرنس کر چکے ہوتے۔ میری پوری کوشش رہی ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے حکومت یا جماعت کی ساکھ متاثر ہو۔
میں نے ہمیشہ آپ کی قیادت کا احترام کیا ہے اور حکومتی فیصلوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ آج تک میرے حلقے میں جتنے بھی ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے یا ان کا افتتاح ہوا، افتتاحی بورڈز سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر جگہ سب سے پہلے آپ کا نام نمایاں کیا گیا اور ہر منصوبے کا کریڈٹ آپ کی قیادت اور حکومت کو دیا گیا۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ آپ کی قیادت اور حکومت کی کارکردگی کو مثبت، مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
لہٰذا آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے میرے حلقے کے انتظامی اور سیاسی معاملات میں کسی بھی غیر متعلقہ مداخلت کو روکا جائے، تاکہ ایک منتخب عوامی نمائندے کی آئینی حیثیت، باہمی احترام، تنظیمی نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے عمل کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے-
Abdul Ghani Afridi MPA KHYBER DISTRICT
بریکنگ 🚨🚨
ہجرت اللہ اپنا پورا کارواں لے کے اسد قیصر کے گھر پہنچ گئے پوچھنے کہ یہ کون سی پولیس ہے جو ہمیں کے پی میں ہی خان کے رہائی کے لیے دھرنے لگانے نہیں دے رہی
آواز اٹھائیں 🚨🚨🚨🚨
کہ کے پی گورنمنٹ خان کو قید تنہائی میں رکھنے میں پوری طرح ملوث ہے۔
پولیس نے کہا کہ اپ کی قیادت نے ہمیں کہا ہے کہ اپ کو دھرنے لگانے کی اجازت نہ دی جائے
جب یہ لوگ اسد قیصر صاحب کے ڈیرے پر پہنچ جو ہیں تو کوئی بندہ ورکروں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with his Lawyers and Family Members in Adiala Jail - March 19, 2025
"The scourge of terrorism in the country is out of control. The tragic incident of the Jafar Express is deeply saddening and condemnable. Such organized terrorist attacks raise serious questions about any country’s security. No one can feel the pain of losing precious military and civilian lives to terrorism as profoundly as we do, because PTI is the only political party with majority support across all provinces. Unfortunately, all agencies are focused on eliminating PTI instead of preventing terrorism.
PTI’s decision to boycott the National Security Committee meeting is absolutely justified. I was neither invited to the meeting nor was my opinion sought, and even the representatives of Balochistan were excluded. They would have first consulted with members of my party if they genuinely intended to address this issue. PTI is currently the only political party in Pakistan with support across all federal units, whereas PPP and PML-N are confined to specific regions of Sindh and Punjab. How can national consensus be achieved while excluding the leader of the country’s largest political party and the true symbol of the federation?
The subservient [to the military establishment] government’s foreign and domestic policies are proving to be disastrous for the country. The issue of terrorism can only be resolved through a political solution that aligns with the people’s will. Terrorism cannot be eradicated solely through kinetic military operations. Our foreign policy regarding neighboring countries must be independent and sovereign. Issues with Afghanistan should also be resolved through dialogue. Since the regime change, their lack of seriousness is evident from the fact that Bilawal toured the entire world but did not visit Afghanistan even once. Military operations have never been the solution— even major wars have ultimately ended through negotiations and sincere efforts for peace and stability.
The country can only remain united and strong if the public mandate is respected, political parties are allowed to function freely, and the establishment refrains from interfering in politics. In 1971, a political party was sidelined, and history has not forgotten what followed. The country would not have been divided back then had fair opportunities been given to political parties. Today, once again, the people’s voices are being suppressed, and political parties representing them are being strangled. The same oppressive model has been imposed in Balochistan, which is why the situation there has spiraled out of control. Until representative governments of the people are given power, these issues will persist and worsen.
The imposed regime is using all unlawful tactics to pressure me. My wife has been unjustly imprisoned. Yahya Khan did not jail Mujibur Rahman’s wife, neither did General Zia imprison Bhutto’s wife, nor did Musharraf incarcerate Kulsoom Nawaz. But this establishment has reached the lowest level of moral decline by imprisoning my wife in fabricated cases.
My communication has been severely restricted for nearly a week. To keep me uninformed about current affairs, television access has been banned, and newspapers and books are not being delivered. I have been denied contact with my children. Despite repeated reminders, the standard provision of a 72-hour meeting within 90 days with my wife has not been granted. My personal doctor is not allowed to meet me, nor is my dentist. My party leaders have also been barred from visiting me. I have been kept in complete isolation to prevent me from learning about the All Parties Conference (APC). 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
🚨🚨 کیا اپ لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ دونوں عسکری جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں
جی ہاں وہی جوڈیشل کمیشن جن کا کام عسکری ججز کو عمران خان کی سزا کے لیے تعینات کرنا ہے ان پر ان دونوں کا دستخط ہوتا ہے دونوں عیاشی اور مکمل مرات لوٹ رہے ہیں👇
ملک پاکستان کی ترقی میں اخری روکاوٹ بھی دور ہو گی ۔ بس یہی کام باقی رہ گیا تھا۔
اینکر نوجوان لڑکے سے یہاں کیوں کھڑے ہو نوجوان کہتا ہے میں یہاں انٹیاں دیکھنے ایا ہوں
اینکر ہنستے ہوے انٹیاں کیوں ۔۔
کیونکہ مجھے انٹیوں میں دلچسبی ہے ۔ پہلے اک انٹی رکھی تھی وہ پاپا کی وجہ سے چھوڑ دی ۔۔ اب نئی تلاش کرنے ایا ہوں ۔ میرے ہاپا تگڑے ہیں ان کا ہاتھ پیچھے ہے ۔
اینکر پوچھتی ہے کوی پسند ای کہا کہ دو چار پسند ای ہیں پھر بات بنی نہی ابھی کوشش کر رہا ہوں ۔۔
میری حکومت سے التجا ہے پمیرا سے اداروں سے ڈیجٹل میڈیا کو لگام ڈالیے ۔ اس ملک میں کیا ہوراہے اپکو بھی معلوم ہے اپ کی نظر سے کچھ چھپا ہوا نہی ہے ۔۔ یا پھر وضاحت دیجیے
اس سبکے باوجود اتنی کھلی چھوٹ کیوں ؟
شیخ وقاص اکرم کے پی کے میں چھپے ہوئے ہیں
ان کا کام تو اسلام آباد میں تھا لیکن یہ تو کے پی کے میں چھپے ہوئے ہیں
نہ ہی اپنے حلقے میں کوئی موبلائزیشن کر رہےہیں نہ ہی انفارمیشن سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔۔۔۔۔
شیخ وقاص اکرم کسان ونگ کے آرگنائزر بھی ہیں لیکن پھر بھی یہ کسانوں کو متحد نہیں کر پائے۔۔۔۔۔۔
یقین کریں یہ بندہ بہت نقصان پہنچا رہا ہے
@SheikhWaqqas
🚨🚨 تحریک انصاف کی ڈپٹی اسپیکر ثریا
بقول ان کے حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی لوٹ مار کی داستان سن کر اپ مریم صفدر کو بخش دیں گے
ان کا NDU میں میں جانے کے بعد عمران خان نے ان کو غدار کہہ کر پارٹی سے نکالنے کا بھی کہا تھا
ائے روز اپنے لیے عیاشی والے قوانین بناتی ہیں👇