ہمارے جغادری مولویوں نے ساری زندگی یہی بتایا کہ جیسی عوام ویسے حکمران جبکہ مولانا اسحاق مرحوم اللہ غریق رحمت کرے بتا رہے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے
مدلل گفتگو اس موضوع پر ہر کسی کو سنوائیں اپنے گردونواح میں
دنیا کی چوتھی معیشت ،5 کھرب ڈالر کی اکانومی تیسرا بڑا دفاع کا بجٹ 92 ارب ڈالر اور چوتیا آرمی چیف 20 ارب کے جہاز بی ایم ڈبلیو کی جگہ سوزوکی. گاڑی میں 😂
در فٹے منہ
سیکھ پڑوسیوں سے کچھ
چومی اور ٹھدّآ ورلڈ کپ:
دنیا نے 48 ممالک کے 500 سے زائد کھلاڑیوں کو 39 دن تک پاکستانی گیندوں کو جوتے مارتے دیکھا ، اور آج جب یہ عظیم الشان مقابلہ ختم ہوگا تو یا تو اسپین یا ارجنٹائن ان گیندوں کو چومے گا۔ پاکستانیوں نے ہر ایک کی لات کھا کر لطف اٹھایا ، مگر ہمارے 25 کروڑ لوگ سکول لیول کی ٹیم بھی نہیں بنا سکے، مقابلے میں کھڑے ہونے کا سوچیں بھی نہیں -
پھر بھی ہم دنیا کو اپنی گیندیں کو لات مارتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، درد محسوس نہیں کرتے، کیونکہ ہمیں کچھ لاکھ ڈالر مل جاتے ہیں۔
مگر ہم خود کو دوسرے طریقوں سے بھی کک مارنے اور جوتے کھانے کے عادی ہیں. جیسے معصوم لوگوں کو قبرستان میں کک مار کر دھکیلنا، مقبول لیڈروں کو ٹھڈا مار کر ہٹانا اور جیل میں ڈال دینا ; کرپٹ اور لوٹ مار کرنے والوں کے پاؤں چومنا اور حکومت دے دینا ، اور قانون، اخلاقیات، انسانیت اور ایمانداری کو لات مار کر فراموشی کے گڑھے میں پھینک دینا - کیا ہم انسان کہلا سکتے ہیں یا بس درندے -
کیا ہم اس قابل ہیں کہ ہمیں تہذیب یافتہ قوم کہا جائے، یا پھر ہم صرف "بوٹ چاٹنے والوں اور پچھاڑی چومنے والوں کی قوم" کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں؟
فوجی عدالت کا عجیب فیصلہ
جنرل ضیاء دور میں بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے حمید بلوچ کو قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی لیکن حمید بلوچ پر جس شخص کے قتل کا الزام تھا وہ زندہ نکلا پھر "مقتول" کا نام تبدیل کیا گیا وہ بھی زندہ نکلا ایک بار تو "مقتول" خود زندہ عدالت میں پیش ہو گیا لیکن پھر بھی 11 جون 1981 کو حمید بلوچ کو پھانسی دے دی گئی
حوالہ: کتاب "پاکستان کے سیاسی قتل" مصنف احمد سلیم
معید پیرزادہ کیساتھ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے ایک بات پر بحث چل رہی تھی کہ کشمیر میں پاکستانی جرنیل ایسے حالات کیوں پیدا کر رہے ہیں
معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کیساتھ پانی کے معاملے میں مکمل پھس چکے ہیں اور مزاکرات چاہتے ہیں اس سلسلے میں یہ امریکہ کا استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ اتنے زیادہ نعرے لگا چکے ہیں کہ ہم سانس بند کر دیں گے مار کے رکھ دیں گے کہ اب ان کے پاس واپسی کا راستہ مشکل ہے اور بھارت ان کی بات ایسے کیوں مانے گا
بھارت ان سے یہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں یہ مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں اور بھارت کو یقین دلا دیں کہ کشمیر سے یہ اپنے ہاتھ اٹھا چکے ہیں اس سلسلے میں یہ کشمیر کو بھی گلگت بلتستان کی طرح ایک صوبہ بنا دیں گے
معید پیرزادہ پچھلے چند ہفتوں سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو مزاکرات کی خبریں بہت جلدی سننے کو مل جائیں گی اور امریکہ اس سلسلے میں ان کی مدد کرے گا
آج طلعت حسین اور جاوید چوہدری نے بھی وہی بات کہی کہ پاکستان بھارت کیساتھ پانی پر مزاکرات کر رہا ہے اور امریکہ ان مزاکرات کو فسلیٹیٹ کر رہا ہے یہ بات معید پیرزادہ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے ہمیں کہہ رہے تھے
معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جرنیلوں نے جان بوجھ کر حالات خراب ہونے دیے تاکہ کل کو انہیں ایک بہانہ مل جاۓ اور کشمیر کو یہ صوبہ بنا کر بھارت کو مطمعن کر دیں اور اس فیور کے بدلے اپنا پانی کھلوا لیں
کیا پاکستان اور ٹرمپ کے دعووں کے مطابق پاک بھارت جھڑپ 2025 میں 6 سے 11 رافیل طیارے تباہی ہوئے تھے ؟؟
بھارت نے رافیل بنانے والی فرینچ کمپنی Dassault Aviation سے 62 رافیل طیارے خریدے تھے جن میں سے 36 ایئر فورس اور 26 نیوی کیلئے تھے۔ اس معاہدہ کے تحت کمپنی ان طیاروں کی مینٹیننس کی پابند ہے جس کا خاصا بھاری بل ہوتا ہے۔
اب بھارت نے پورے 36 طیاروں کی مینٹیننس کیلئے کمپنی کو آرڈر جاری کیا ہے۔ کمپنی ہر طیارے کے chassis نمبر اور ٹیل نمبر کے حساب سے پیسے لیتی ہے۔
انڈیا کے تمام 36 رافیل طیاروں کے مخصوص ٹیل نمبرز RB-001 سے RB-008 اور BS-001 سے BS-028 بین الاقوامی ریکارڈ پر موجود ہیں
اگر 36 میں سے ایک بھی طیارہ کم ہوتا، تو یہ مینٹیننس آرڈر کبھی بھی 36 طیاروں کا نہ ہوتا، بلکہ اتنے ہی طیاروں کا ہوتا جتنے ہینگر میں کھڑے ہیں۔ کوئی بھی ملک ان طیاروں کی دیکھ بھال کے پیسے نہیں دے گا جو دنیا میں موجود ہی نہ ہوں
بین الاقوامی دفاعی قوانین اور ہوا بازی کے اصولوں کے مطابق، کسی بھی ملک کی فضائیہ اپنے فعال طیاروں کی تعداد کو دنیا سے نہیں چھپا سکتی
اس معاہدے کے تحت فرانسیسی کمپنی پابند ہے کہ وہ یہ طیارے Combat Ready حالت میں رکھنے کے لئے پرزے اور انجینئرز فراہم کرے
اگر ان 36 میں سے ایک بھی طیارہ فزیکلی موجود نہ ہوتا، تو انڈیا کی وزارتِ دفاع اور آڈٹ حکام کبھی بھی قانونی طور پر اس طیارے کے پیسے فرانسیسی کمپنی کو ٹرانسفر نہیں کر سکتے تھے۔ بین الاقوامی دفاعی معاہدوں میں غائب یا تباہ شدہ اثاثے کی مینٹیننس کے پیسے دینا ناممکن ہے۔
آج کے دور میں کسی بھی ملک کے لیے اپنے اتنے بڑے اور اہم ترین جنگی طیارے کا نقصان دنیا سے چھپانا ممکن نہیں رہا:
رافیل طیارے انڈیا کے دو مخصوص ایئربیسز انبالہ اور ہاسیمارا پر تعینات ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی مبصرین اور اوپن سورس سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے ان دونوں بیسز پر طیاروں کی نقل و حرکت اور تعداد کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہوتی رہتی ہے۔
اگر کوئی طیارہ کریش یا تباہ ہو جائے تو فرانسیسی مینوفیکچرر کو اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے کیونکہ اس کا اثر کمپنی کی اپنی عالمی ساکھ اور انشورنس پر پڑتا ہے۔ فرانس کی طرف سے بھی ایسی کسی کمی کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔
یہاں سوال یہ ہے کہ اگر پاک بھارت جھڑپ میں دعووں کے مطابق رافیل تباہ ہوئے تھے تو وہ ابھی بھی پورے 36 کے 36 کیسے ہیں؟
سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد حضرت علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن ، حسین ، زینب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ؟؟
رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن ، حسین اور زینب کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کبھی فاطمہ مت کہئیے گا ، انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائیں گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔
اس کے بعد آپ نے ان کو بیٹا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن ، حسین ، مولا علی کی صرف اطاعت کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔
چار بیٹوں میں عباس ابن علی ، عبداللہ ابن علی ، جعفر ابن علی اور عثمان ابن علی تھے ۔ سیدنا عباس علیہ السلام لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔ جنگ صفین میں سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں ( حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ) مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔
واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔ آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا عباس مولا حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے آپ کو صرف اس لئیے تیر نکالنے کی زحمت دی ۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔ آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔
سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہید ہوا ، جعفر شہید ہوا ، عثمان شہید ہوا ، عبداللہ بھی شہید ہو گیا ، فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگیں ۔۔۔۔
کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔
یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھیں جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا ، خود کو اس گھر کی کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔
باری تعالٰی ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔
منقول
"عمر سعد بننے سے ڈرتا ہوں"
ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب مرگ گلرنگ سے منسوب.
کربلا کے المیے میں تین کردار نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں:
پہلا کردار: حسینؑ
وہ جو باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔
حق کی راہ پر آخر دم تک ڈٹے رہتے ہیں۔
اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں کی قربانی پیش کرتے ہیں،
لیکن مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
وہ اپنے ہدف کی قیمت جان دے کر ادا کرتے ہیں
اور اسی قربانی کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں۔
ان کا خون، تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔
دوسرا کردار: یزید
وہ جو سب کو اپنی اطاعت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
اختلاف کو برداشت نہیں کرتا۔
اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے، چاہے نواسۂ رسولؐ کا سر قلم ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
وہ اپنی دنیا سنوارتا ہے،
مگر ضمیر اور تاریخ دونوں کے ہاتھوں رسوا ہو جاتا ہے۔
جو پاتا ہے وہ ظاہری اقتدار ہے،
اور جو کھوتا ہے وہ ابدی نجات۔
تیسرا کردار: عمر سعد
مورخین کے مطابق، وہ آٹھ محرم تک تذبذب اور کشمکش میں مبتلا رہا۔
دل چاہتا ہے کہ خدا بھی ناراض نہ ہو، اور یزید بھی خوش رہے۔
چاہتا ہے کہ حسینؑ کی رضا بھی مل جائے،
اور ری کی حکومت بھی ہاتھ سے نہ جائے۔
دنیا کی عزت بھی درکار ہے،
اور آخرت کی نجات بھی مطلوب۔
وہ نہ اقتدار کی حرص چھوڑ سکتا ہے،
نہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی جرأت کر پاتا ہے۔
یعنی: “ہم آب میخواهد، ہم خرما” —
یہ بھی چاہیے، وہ بھی چاہیے۔
لیکن انجام کیا ہوتا ہے؟
نہ حکومت ملتی ہے، نہ عزت بچتی ہے۔
نہ دنیا ہاتھ آتی ہے، نہ آخرت سنورتی ہے۔
صرف ندامت باقی رہ جاتی ہے… ہمیشہ کے لیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم جیسے عام لوگ نہ حسینؑ جیسی جرأت رکھتے ہیں، نہ یزید جیسی طاقت و وسائل۔
مگر سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ:
ہم میں اکثر عمر سعد بننے کے قریب ہوتے ہیں — وہ جو فیصلہ نہیں کر پاتا، اور سب کچھ کھو بیٹھتا ہے.
سب سے زیادہ خوف مجھے اُس کردار سے ہے…
جو حق کو پہچان کر بھی خاموش رہتا ہے.
میں عمر سعد بننے سے ڈرتا ہوں.
آئی ایس پی آر کے ڈراموں میں فوجیوں کے کتے کو بھی"خاندانی کتا" دکھایا جاتا ھے جبکہ سویلیئن ہمیشہ غریب کمی کمین گھرانے سے ہو گا جس کا باپ مزدور، بہن نرس اور بھائی نکما ہو گا۔
@OfficialDGISPR@peaceforchange
ایرانی صدر نے غلط صفحہ دکھا کر فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کیساتھ زیادتی کی ہے
فیلڈ مارشل غسل کرنے کے بعد جواب دینگے۔
انصار عباسی کا اگلا کالم 🤣
یارررر اتنی بے عزتی بحثیت پاکستانی
بیغیرتو انکا پیج سیم انکے صفحے پر تیسرے سائین کی جگہ بھی نہیں تھی 😢پھر بھی۔۔
یہ ہمارا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ ہے جس کو حکومت پاکستان اور حکومت آذادکشمیر تسلیم کر چکی ہیں- ان معائدات سے انحراف کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے عوام کو طاقت کی بُنیاد پر کُچلنے کا پلان ترتیب دیا-
عوام اپنے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے والی نہیں- یہ تحریک خالصتا عوامی تحریک ہے - اس چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں کونسا ایسا ایجنڈہ چُھپا ہے جس کو بنیاد بنا کر معصوم، پُرامن ، نہتے عوام پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں؟؟
اور جو جو وزراء 35 مطالبات پر عملدرآمد کی بات کرتے ہیں انھیں ثبوت بھی پیش کرنے چاہئیں- حقیقت یہ ہیکہ طاقتور کبھی بھی عوام کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے اور با الخصوص جس سے ان کی اپنی عیاشیاں متاثر ہوں اس کے بچاؤ کیلئے وہ فورسز اور عوام کو سامنے لا کھڑا کرتے ہیں-
آپ نے ہمارے درجنوں ساتھیوں کو شہید کر دیا، سینکڑوں ذخمی ہو گئے، سینکڑوں لا پتہ ہیں، ذخمیوں کو علاج کی سہولت میسر نہیں، اس سب کے باوجود ہم پُرامن ہیں- ہم پُرامن رہ کر اپنے حقوق حاصل کریں گے اور اس پر ہم کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے-
#RightsMovementAJK
ایران پر سے تیل فروخت کرنے کی پابندیاں ہٹ گئیں تو وہ پٹرولیم کی سمگلنگ کی سختی سے روک تھام کرے گا ۔ پاکستان نے ایران سے تیل نہ خریدا تو مہنگا تیل اس کی معیشت کو مکمل غرق کر دے گا۔
لیکن اس سے پہلے سمگلنگ سے آمدنی کی کمی کور کرنے کیلئے پٹرولیم اور بجلی کے بلوں کے علاؤہ اور جانے کس کس قسم کے ٹیکسز کی بھرمار کر دی جائیگی