یہ ھے وہ بابا کھڑک سنگھ جس کے کھڑکنے سے کھڑکتی ھیں کھڑکیاں اور کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکھتے ھیں کھڑک سنگھ ۔
تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔
بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔
جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، " تیرے شہر میں سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔
( اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے )
تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں"
مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔
وائسرائے نے پوچھا: نام
بولے "کھڑک سنگھ"
تعلیم ؟
بولے : کیوں سرکار ؟
مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟
وائسرائے ہنستے ہوئے بولے:
سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے، آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔
1/6
پنجاب یونیورسٹی کے 5 اساتذہ یونیورسٹی کی سکالرشپ لے کر مفرور
قانون کے مطابق تمام اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کرنے کے بعد 5 سال یونیورسٹی میں سروس دینی تھی
56 میں سے 12 اساتذہ نے سکالرشپ حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی جوائن نہ کی
ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر مفرور اساتذہ کو معاہدے کے مطابق یونیورسٹی کو کروڑوں روپے ادا کرنے تھے
پنجاب یونیورسٹی جی آئی ایس سنٹر کی فرح ستار ستر لاکھ ادا کئے بغیر مفرور
جی آئی ایس سنٹر کے سید محسن علی 1 کروڑ 40 لاکھ ادا کئے بغی���� مفرور
انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کی کرن عائشہ ایک کروڑ روپے دئیے بغیر مفرور
شعبہ ایم ایم جی کی رابعہ عباد 90 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
آئی کیو ٹی ایم کے خواجہ خرم خورشید 84 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
صدف رؤف لیکچرار انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیش ای��ڈ ریسرچ، ضیاءالدین بشیر لیکچرار انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیش اینڈ ریسرچ، رابعہ عارف لیکچرار انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیش اینڈ ریسرچ سے مفرور
ہیلی کالج آف کامرس کی شمائلہ اسحاق ایک کروڑ 61 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
سنٹر فار کول ٹیکنالوجی کے عثمان رحیم 72 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
کالج آف انجینئرنگ کے سلمان عزیز 90 لاکھ، جی آئی ایس کے محمد نواز 72 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
پی یو سی آئی ٹی کی جویریہ اقبال 60 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
ایڈمنسٹریٹو سائنسز کی سیماب آرا 1 کروڑ، سامعہ محمود 1 کروڑ 16 لاکھ روپے دئیے بغیر مفرور
یونیورسٹی نے 12 مفرور اساتذہ کو یونیورسٹی سروس سے برخاست ��ھی کر د��ا
پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں روپے کی سکالرشپ لے کر مفرور
مفرور اساتذہ سے رقوم کی ریکوری کے لئے پنجاب یونیورسٹی ایف آئی اے کو خط لکھے گی
مفرور اساتذہ کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ کی بلاک کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی وزارت خارجہ، وزارت داخلہ کو خط لکھے گی
پنجاب یونیورسٹی کے 56 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کرنے کے لئے کروڑوں کی گرانٹ ملی
پنجاب یونیورسٹی کے7 اساتذہ ایچ ای سی کی سکالرشپ لے کر مفرور
غ ز ہ پر اس رائیلی حملے میں دونوں بازو گنوانے والے فلس طی نی بچے محمود کی تصویر ورلڈ پریس فوٹو آف دی ایئر قرار
جب 9 سالہ محمود کو احساس ہوا کہ اس کے بازو نہیں رہے تو اس نے اپن�� والدہ سے پہلا جملہ یہ کہا کہ
’امی، اب میں آپ کو گلے کیسے لگاؤں گا؟"
کراچی لے کر گلگت بلتستان تک پورا پاکستان میں یہ زلزل�� کا جھٹکا ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ سخت ناراض ہے اللہ سے اپنا اپنا گناہوں کی معافی مانگے۔۔۔۔
3. بیٹری کو زیادہ درجہ حرارت پر سٹور کرنا
بیٹری کو ہمیشہ روم ٹمپریچر یعنی 25 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم پر ہی سٹور کریں۔ اگر آپ کے گھر بیٹری والی جگہ کا درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے لگ بھگ ہے تو بیٹری کا سیلف ڈسچارج ڈبل ہو جائے گا اور سلفیشن انتہائی تیز ہو جائے گی۔
4. بیٹری کا پانی وقت پر چیک نہ کرنا
جب بیٹری میں تیزاب کا لیول کم ہو جائے تو پلیٹیں ننگی ہو کر خشک ہونے لگتی ہیں۔ جہاں جہاں لیڈ سلفیٹ کی تہہ جم�� رہ جائے وہ مزید سخت ہونے لگتی ہے۔ پلیٹوں کو زنگ کھانے لگتا ہے۔ الیکٹرولائٹ گاڑھا ہو جانے کی وجہ سے بیٹری گرم ہونے لگتی ہے اور بعض اوقات پھٹ بھی سکتی ہے۔ اِس لیے بیٹری کے پانی کو ہر گز نظر انداز نہ کریں۔
گرم علاقوں کے لوگ بیٹری کا پانی ہر پندرہ دن بعد اور ٹھنڈے علاقوں کے لوگ ہر مہینے بعد چیک ضرور کریں۔ اور یاد رہے، نل والا پانی ہر گز نہیں ڈالنا۔ ورنہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
یہ تو ہیں سلفیشن کی سب سے اہم وجوہات۔ لیکن بد قسمتی سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں بیٹریوں میں سلفیشن پہلے سے ہی ہو چکی ہے۔ ممکن ہے آپ کی بیٹری بھی انہی میں شامل ہو۔ ویسے تو کم بیک اپ بھی سلفیشن کا ہی نتیجہ ہے لیکن آپ ملٹی میٹر کے ذریعے سلفیشن چیک کر یا کروا سکتے ہیں۔
اگر آپ کی لیڈ ایسڈ سٹارٹر بیٹری (عام یو پی ایس، سولر یا کار بیٹری) 3 سال سے پرانی نہیں اور اس کی وولٹیج 12.4 وولٹ سے کم ہے تو بیٹری انڈر چارجڈ ہے۔ یہ سلفیشن کی علامت ہے۔
اس مسئلے کو دو ��ین طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر سلفیشن ہوئے ز��ادہ وقت نہیں گزرا تو بیٹری کو کسی اچھے کاریگر سے سلو چارجر پر فل چارج کروائیں۔ اس سے لیڈ سلفیٹ کرسٹلز تیزاب میں حل ہو جائیں گے۔
دوسرا، مارکیٹ میں ڈی سلفیٹر یا بیٹری کنڈیشنر مل جاتے ہیں۔ یہ پلیٹوں کی صفائی کر دی��ے ہیں۔ آپ وہ خرید کر بیٹری میں ڈال لیں۔ یہ ایک آسان اور اچھا طریقہ ہے۔
اگر سلفیشن بہت زیادہ ہو چکی ہے تو بیٹری بنوانی یا ایک مخصوص چارجر سے چارج کروانی پڑے گی۔ یہ چارجر بیٹری میں ایک خاص قسم کی کرنٹ پلس بھیجتا ہے جس سے کرسٹلز ٹوٹ جاتے ہیں۔ البتہ بیک اپ پوری طرح ری سٹور نہیں ہو پاتا۔
نوٹ: اگر آپ کی بیٹری کی پلیٹیں ٹوٹ چکی ہیں، سیل ڈیڈ ہو چکے ہیں، یا بیٹری 5 سال سے پرانی ہو چکی ہے تو یہ حل زیادہ فائدہ نہیں دیں گے۔ پلیٹیں چیک کرنے کے لیے بیٹری کے سارے ڈھکن احتیاط سے کھولیں۔ اگر تہہ میں براؤن یا سیاہ کچرا نظر آئے تو بیٹری کی پلیٹیں ٹوٹ چکی ہیں۔ اس صورت میں بیٹری بدلنی پڑ�� گی۔
منقول: خبیب احمد
بیٹری وقت سے پہلے خراب کیوں ہو جاتی ہے؟
ایک لیڈ ایسڈ بیٹری کی نارمل لائف 3 سے 5 سال ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کی بیٹری دو اڑھائی سال میں ہی بیک اپ ڈراپ کر گئی ہے تو اس کی کچھ وجوہات ہیں اور حل بھی۔
ویسے تو بیک اپ کم ہونے کے کئی اسباب ہیں لیکن پاکستان میں جلد خراب ہونے ��الی 80 فیصد سے زائد بیٹریوں کی ذمہ دار سلفیشن ہے۔ اگر آپ سلفیشن کا میکانزم سمجھ لیں تو بیٹری کو بچانا آسان ہو جائے گا۔
سلفیشن بیٹری کی پلیٹوں پر لیڈ سلفیٹ کی تہہ جمنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ یہ بیٹری کا ایک روٹین پراسس ہوتا ہے۔ جب بیٹری ڈسچارج ہوتی ہے تو لیڈ سلفیٹ پلیٹوں پر چپک جاتا ہے۔ واپس چارج ہونے پر یہی لیڈ سلفیٹ دوبارہ تیزاب میں حل ہو جاتا ہے۔
مسئلہ تب ہے جب لیڈ سلفیٹ کی تہہ پلیٹوں پر جم کر سخت ہو جائے، اور پلیٹوں اور تیزاب کے درمیان کرنٹ گزرنے کی رفتار سست کر دے۔ تب پلیٹیں کرنٹ نہیں پکڑتیں اور بیٹری مکمل چارج نہیں ہو پاتی۔ جب بیٹری پوری طرح چارج نہیں ہو گی تو بیک اپ بھی پورا نہیں دے گی۔
اُس وقت ہم کہتے ہیں کہ بیٹری کی لائف ختم ہو گئی۔ لیکن حقیقت میں پلیٹیں تندرست ہوتی ہیں۔ صرف اُن پر لیڈ سلفیٹ کی ایک تہہ جمی ہوتی ہے۔ اگر یہ تہہ اتار دی جائے تو بیٹری کا بیک اپ ری سٹور ہونے لگتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سلفیشن ہوئی کیوں۔ اس کی 4 بڑی وجوہات ہیں۔
1. زیرو TDS کی بجائے عام پانی کا استعمال
لوگ اکثر بیٹری میں عام نل والا پانی ڈال دیتے ہیں۔ اِس پانی میں نمکیات موجود ہوتے ہیں جو سلفیشن کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔ لیڈ سلفیٹ پلیٹوں پر جمتا زیادہ ہے اور ��ُترتا کم ہے۔ یوں بیٹری ایک دو سالوں میں ہی بیک اپ ڈراپ کر جاتی ہے۔
بیٹری میں ہمیشہ کسی اچھی کمپنی کا بیٹری واٹر ڈالیں جو ڈسٹلڈ اور زیرو TDS ہو۔ کوشش کریں کہ کسی بیٹری بنانے والی کمپنی مثلا AGS وغیرہ کا پانی استعمال کریں۔ یہ میسر نہ ہو تو اے سی سے نکلنے والا پانی ڈال لیں لیکن وہ بھی تقریباً 40 TDS ہوتا ہے۔
2. بیٹری مکمل چارج نہ کرنا یا شدید ڈسچارج کرنا
مکمل ڈسچارج کے بعد اگر آپ بیٹری کو پوری طرح چارج نہیں کریں گے تو پلیٹوں پر لیڈ سلفیٹ کی تہہ جمی رہ جائے گی اور وقت کے ساتھ ساتھ سخت ہو کر بیک اپ کم کر دے گی۔ یہ مسئلہ عموما کار یا سولر کی بیٹریوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کار کبھی زیادہ چلتی ہے کبھی کم۔ اِسی طرح سورج کی تپش بھی موسم کے حساب ��ے بدلتی رہتی ہے۔ سردیوں میں کئی دفعہ دو دو مہینے بیٹری مکمل چارج ہی نہیں ہو پاتی اور لیڈ سلفیٹ کو سخت ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔
اِس سے بچنے کے لیے دو کام کریں۔ ایک تو بیٹری کو 20 فیصد سے کم ڈسچارج نہ کریں۔ دوسرا، ہر دو ہفتے بعد یا کم از کم مہینے میں ایک دفعہ بیٹری کو فل چارج ضرور کریں۔
سپہ سالار سید حافظ عاصم منیر کی اعلیٰ پُرعزم اور دلیر شخصیت نے پاکستان کی عوام کو نیا عزم اور حوصلہ دیا ہے - قوم اب مطمئن ہے کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے!!
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں شدید موسمی صورت حال کی وارننگ جاری کر دی۔
الرٹ کے مطابق اٹک، چکوال، گجرات اور جہلم میں آندھی طوفان اور ژالہ باری ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی و دیگر علاقوں میں شدید بارش، ژالہ باری اور آندھی کا الرٹ جاری
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے شدید بارش، ژالہ باری اور آندھی سے متعلق الرٹ جاری کر دیا۔
این ای او سی نے جاری الرٹ میں بتایا کہ 18 اور 19 اپریل کو شدید بارش اور بعض مقامات میں ژالہ باری کا امکان ہے۔
میجر شجاعت ��سین شہید (127 لانگ کورس، سابقہ 30 بلوچ رجمنٹ، 4 کمانڈو بٹالین، ایس ایس جی) نے ملٹری انٹیلیجنس میں خدمات انجام دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کی بہادری، فرض شناسی اور وطن کے لیے قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
پاکستان زندہ باد!
یہ پابندی اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ خوشی کا اظہار کرنے کے اور بھی بہت سے بامعنی طریقے موجود ہیں۔ کیوں نہ شادیوں پر ہونے والی اس فضول خرچی کو روکا جائے اور اس رقم کو ایسے ضرورت مند لوگوں کی امداد کے لیے استعمال کیا جائے جو واقعی خوشحالی کے مستحق ہیں؟
اگر شادیوں پر بے دریغ پیسہ پھینکنے کی بجائے، اس رقم سے کسی غریب جوڑے کی شادی کروا دی جائے، کسی یتیم بچے کی کفالت کی جائے، یا کسی بیمار شخص کے علاج میں مدد کی جائے، تو یہ عمل نہ صرف خوشی کا باعث بنے گا بلکہ معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی بھی لائے گا۔ اس طرح کی امداد سے وہ لوگ بھی خوشحال زندگی گزار سکیں گے جو معاشی طور پر کمزور ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ فیصلہ ایک روشن خیال معاشرے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس فیصلے کا احترام کریں اور اپنی شادیوں اور دیگر خوشی کے مواقع پر فضول خرچی سے گریز کرتے ہوئے، اپنی توجہ مستحق افراد کی مدد پر مرکوز کریں۔ یقیناً، کسی کی زندگی میں خوشی لانے سے بڑھ کر کوئی اور بہتر اظہار مسرت نہیں ہو سکتا۔
نوٹ:
وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ اقدام ایک مثبت اور قابل تعریف عمل ہے۔ معاشرے میں اس طرح کی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ہو اور مستحق افراد کی مدد کی جا سکے۔ یہ فیصلہ ذاتی پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو کر ایک اچھی چیز ہے جس کی تعریف کرنا ضروری ہے۔
پنجاب میں شادیوں پر کرنسی نوٹ پھینکنے کی پابندی ایک مثبت قدم
وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پنجاب بھر میں شادیوں کے دوران کرنسی نوٹ پھینکنے پر پابندی کا اعلان ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ یہ رسم، جو کہ اکثر نمود و نمائش اور فضول خرچی کی علامت بن جاتی ہے، معاشرے کے ایک خاص طبقے میں تو تفریح کا باعث بنتی ہے لیکن اس کے کئی منفی پہلو بھی ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ عمل قیمتی قومی وسائل کا ضیاع ہے۔ کرنسی نوٹ، جنہیں ��ھاپنے میں قومی خزانے سے خطیر رقم خرچ ہوتی ہے، اس طرح ��ے دردی سے اڑانا کسی بھی طرح سے دانشمندی نہیں ہے۔ دوسرا اہم پہلو اس رسم کا طبقاتی فرق کو بڑھاوا دینا ہے۔ جہاں ایک طرف لوگ اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ہزاروں روپے ہوا میں اڑاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ایک بڑی تعداد ایسے مستحق افراد کی ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی محتاج ہیں۔