عمران خان آپ جیل بیٹھ کر غریبوں کے مفت علاج کے لئے ہسپتال بناتے چلے جارہے ہیں لیکن افسوس کہ خود آپ کو اپنی مرضی کا علاج میسر نہیں ۔۔۔
اللہ کریم آپ کو شوکت خانم سے مفت علاج کرانے والے مریضوں ، ان کے والدین کی دعاوں سے جیل میں کچھ نہیں ہونے دے گا انشااللہ
آپ سرخرو ہو کر نکلیں گے ، پہلے سے زیادہ صحت مند نکلیں گے انشااللہ
ماہرہ خان جیسے پاکستانی ہیرو ہیں جو اس کاز کے لیے کام کررہے ہیں
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
بنگال کی تاریخ کے سیاہ باب کی بازگشت آج خیبرپختونخوا میں سنائی دے رہی ہے 1971 میں 93 ہزار پاکستانی فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کا سانحہ تاریخ کا حصہ ہے، مگر آج خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے امن و استحکام کے بجائے مزید بے چینی پیدا کرنے کا خطرناک راستہ اختیار کیا جا رہا ہیں۔
1/2
خدارا!
اپنی بچیوں کے رشتوں میں احتیاط کریں۔ اپنے پرانے رشتے بحال رکھنے کے لیے بچیوں کی قربانی نہ دیں۔
کیا اسلام آباد پولیس اپنی ہی فورس کی ایک رکن کو انصاف فراہم کرے گی؟
خانپور کے تھانہ اسلام گڑھ میں تعینات لیڈی کانسٹیبل صبا کنول سے متعلق مبینہ واقعے نے کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واقعے سے قبل صبا کنول کی جانب سے ایک ویڈیو بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے اپنے گھریلو حالات اور بعض مبینہ واقعات کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے اور حکومت و متعلقہ حکام سے تحفظ اور انصاف کی اپیل کی۔
بعد ازاں انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات کی جائیں، ویڈیو بیان میں عائد الزامات کی حقیقت سامنے لائی جائے، اور اگر کسی قسم کی زیادتی یا قانون شکنی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ایک بیٹی، ایک عورت اور ایک پولیس اہلکار کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے، انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
یہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا سیاسی ڈیتھ وارنٹ ہے ،یہ جمہوریت کے گورکن ہیں،یہ پارٹیاں اب تاریخ کے کوڑے دان میں ہونگی ،پاکستانی عوام، نئی نسل ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
کل سہیل آفریدی ایک انتہائی اہم اور تاریخی اعلان کرنے جا رہے ہیں۔
تمام غیور پاکستانیوں بالخصوص نوجوانوں سے اپیل ہے کہ اس اہم موقع پر صوابی لازمی پہنچیں۔ آپ سب کی شرکت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے!
اگر لڑکیوں کا یہ سکول پشاور میں یوتا تو ابھی تک پٹواری اور لفافے زمین آسمان ایک کر دیتے
لیکن یہ پنجاب گجرات کی ویڈیو ہے اسی لئے یہ ابھی تک سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوئی
چیف سیکرٹری کے رویے اور آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت ملک کی بدتمیزی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 100 سے زائد بیگناہ اور نہتے کشمیریوں کے قتلِ عام میں براہ راست ملوث شخصیات نے کس طرح کا ظلم اور جبر کیا ہو گا!
اتنے بڑے افسران کا صحافی کے سادہ سے سوالات پر جھنجھلاہٹ اور ہاتھا پائی تک پہنچنا واضح نشان دہی کرتا ہے کہ ان کے ہاتھوں بہت کچھ ہوا ہے، کیمروں کے سامنے یہ حال ہے تو چھپ کر پتہ نہیں کیا کیا ہو گا، وقت آئے گا تو ثبوت بھی آ جائیں گے آئی جی صاحب۔
عاصم منیر رجیم نے نظریہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے، آج کشمیر میں کسی سے بات کرو آپ کو الحاق پاکستان کا حامی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا اور جو چند ایک ہیں وہ چھپ کر راولپنڈی میں بیٹھے ہیں!
یہ عاصم منیر کے چھوٹے چھوٹے فرعون ہیں ان کو اللہ ربّ العزت بڑے فرعون کے ساتھ نشان عبرت بنائے گا.
سب حیران کیوں ہیں؟
بھئی وزیراعظم نے جس خاندان کے نمائندوں کے ساتھ فخریہ انداز میں تصویر لگائی ہے، ظاہر ہے ان کے لیے یہ فخر کی بات ہوگی۔ لیکن ہم نے تو ساری عمر یہاں یہی سنا کہ یہودی ایجنٹ عمران خان ہے۔
جب سے رجیم چینج ہوا، ہم نے کیا کیا نہیں دیکھا؟ اسرائیلی پارلیمنٹ کی لائیو کوریج، نیتن یاہو کی تصاویر کو پاکستانی میڈیا میں نارمل کرنا، غزہ کے نام نہاد ’’پیس بورڈ‘‘ میں شامل ہونا، پاکستان سے وفود کا اسرائیل جانا، اسلام آباد میں سیمینارز اور مختلف پلیٹ فارمز پر اسرائیل سے متعلق پروگرام یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے
غزہ کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مقدمے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ سینیٹر مشتاق احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، فلسطین کا جھنڈا اٹھانے پر نوجوانوں کو سٹیڈیم سے نکال کر گرفتار کرنے کے واقعات یہ سب بھی اسی دور میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے
اور اب ایک ایسے خاندان کے نمائندوں سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے
کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی بھئی پہلے تو یہ بتائے کہ ابتک پاکستان کتنی سرمایہ کاری آپ لائے ہیں۔۔ ٹھیک ہے چلو یہ ملاقات سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی ۔لیکن تھوڑی سی تاریخ بھی کھنگال لیں۔ Rothschild خاندان صہیونی منصوبے اور یہودی آبادکاری میں فلسطینیوں کو اپنی سر زمین سے در بدر کرنے میں کتنا گھناؤنا کردار رہا ہے ۔اقر اب بھی اسرائیل اس خاندان کیلئے سب سے پہلے ہیں
ساری عمر یہودی ایجنٹ کا نعرہ عمران خان کے خلاف لگایا گیا۔ آج ذرا یہ بھی پوچھ لیجیے کہ اسرائیل اور صہیونی طاقتوں کے ساتھ عملی رابطے اور تعلقات کس کے دور میں اور کس سطح پر نظر ا رہے ہیں؟
پھر فیصلہ کیجیے کہ یہودی ایجنٹ کا لیبل بانٹنے والے خود اپنے لیے کون سا معیار رکھتے ہیں۔
فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والا مجرم، اور اسرائیل سے متعلق شخصیات و اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والا قابلِ فخر کیوں۔۔؟
اتنے سارے کیمروں اور صحافیوں کے سامنے، وہ بھی پارلیمنٹ کی راہداری میں، ایک آئی جی کا اس طرح کا رویہ نظر آ رہا ہے۔ ذرا سوچیں، بند کمروں میں اس کے ہاتھوں جو لوگ زیرِ حراست رہے ہوں گے، ان کے ساتھ مبینہ طور پر کیا سلوک ہوتا ہوگا؟
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
یاد رکھو، ان کا کھیل تب تک ہے جب تک آپ گھر میں ہو! 🔥
آپ 2 نکلو گے، 10 نکلو گے تو پکڑیں گے، ڈرائیں گے،
جس دن ہزاروں میں نکلو گے، اس دن ان کی کہانی ختم! ✌️
فیصلہ آپ کا ہے - گھر بیٹھ کر تماشہ دیکھنا ہے یا نکل کر تاریخ بدلنی ہے؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی