Please cash up the opportunity announce gowader port as free port same like dubai jebelali port so that gowader would be the next Dubai.
@CMShehbaz@MaryamNSharif
https://t.co/owhhkHJNAQ
🇵🇰 Pakistan emerges as strategic alternative for North-South trade corridor — expert
With Iran — a key link in the International North-South Transport Corridor — disrupted by ongoing conflict, Pakistan is well-positioned to offer an alternative transit route for Eurasian trade by connecting the Arabian Sea with China and Central Asia, Amir Jahangir, Co-Founder and CEO of Mishal Pakistan told Sputnik.
👉 Given the disruptions near the Strait of Hormuz, Pakistani ports such as Karachi and Gwadar offer strategic advantages to shipping companies. These include access to the Arabian Sea away from active conflict zones, deep-water berths, reduced congestion, and expanding logistics infrastructure — all integrated with the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC).
This positions the ports as dependable transshipment hubs linking maritime routes to overland trade networks reaching into China and Central Asia, the expert noted.
جن کو پاگل خانے ہونا چاہیے وہ ممبروں پر بیٹھے ہیں اور جن کو سرحدوں پر ہونا چاہیے وہ ملک کو چلا رہے ہیں۔
میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اونچی آواز بھی پسند نہیں تھی💔
یا رب العالمین ہمیں ہدایت فرما آمین ثم آمین
چین کے کیسینو میں اسٹاف نے ایک خاتون کو جدید ٹیکنالوجی والی کانٹیکٹ لینز استعمال کرتے ہوئے پکڑ لیا، جو جوا کھیلتے وقت فراڈ میں استعمال ہو رہی تھیں۔
ٹیکنالوجی کی مدد سے ہوشیار فراڈ کا انکشاف!
ایران کے اندر جو کچھ ہوا، اس نے امریکہ، اسرائیل اور دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔
ایک 85 سالہ رہنما، آیت اللہ علی خامنہ ای، کے خلاف برسوں سے تیار کیا گیا
اندرونی انتشار کا منصوبہ چند دنوں میں زمین بوس ہو گیا۔
جب ایران میں انٹرنیٹ بند کیا گیا تو سب نے سمجھا کہ معلومات کا بہاؤ رک جائے گا، مگر اس کے برعکس ویڈیوز باہر جانا شروع ہو گئیں۔
یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے اصل کھیل شروع ہوا۔ ایران کو پہلے ہی علم ہو چکا تھا کہ ہزاروں اسٹارلنک ڈیوائسز ملک میں اسمگل کی جا چکی ہیں۔ ایران نے انہیں روکنے کے بجائے جان بوجھ کر اندر آنے دیا
تاکہ پورا نیٹ ورک ایک ساتھ بے نقاب کیا جا سکے۔
جیسے ہی اسٹارلنک ٹرمینلز آن ہوئے، ان کے ریڈیو سگنلز ٹریک کیے گئے۔ جدید آر ایف اسکینرز، ڈائریکشن فائنڈنگ سسٹمز اور موبائل مانیٹرنگ یونٹس کے ذریعے ایک ایک لوکیشن کی نشاندہی کی گئی۔
یہ وہی ٹیکنالوجی تھی جو روس یوکرین میں اسٹارلنک ڈرونز کے خلاف استعمال کر چکا ہے۔
چند ہی دنوں میں گھروں، عمارتوں اور خفیہ ٹھکانوں سے ڈیوائسز برآمد ہوئیں۔
صرف آلات نہیں، بلکہ ان کے استعمال کرنے والے لوگ بھی پکڑے گئے۔ تفتیش آگے بڑھی تو اسمگلرز، رابطہ کار، اندرونی سہولت کار حتیٰ کہ فوج کے اندر موجود عناصر تک سب بے نقاب ہوتے چلے گئے۔
یوں دہائیوں پر محیط ایک پورا نیٹ ورک جڑ سے اکھڑ گیا۔
یہاں تک کہ وہ شخص بھی گرفتار ہوا جو سپریم لیڈر کے گھر کے باہر احتجاج منظم کر رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ
ویڈیوز براہِ راست اسرائیل نہیں بلکہ یورپ میں بیٹھے ایجنٹس کو جا رہی تھیں، جو آگے انہیں عالمی میڈیا پر پھیلا رہے تھے۔
اسی دوران دشمن کو غلط معلومات اور جعلی سگنلز دیے جاتے رہ
کہ فلاں جگہ کارروائی ہو رہی ہے، فلاں مرحلہ مکمل ہو گیا ہے
حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا۔ جب اسرائیل کو اندازہ ہوا کہ اس کا پورا نیٹ ورک پکڑا جا چکا ہے تو براہِ راست حملہ ایک بڑا خطرہ بن گیا،
کیونکہ جواب میں امریکی اور اسرائیلی اڈے نشانہ بن سکتے تھے۔
ایران نے واضح پیغام دے دیا: حملہ ہوا تو جواب فوری اور شدید ہوگا۔ نتیجتاً امریکی طیارے واپس بلا لیے گئے، اور کارروائی روک دی گئی۔
یہ کہنا درست نہیں کہ اس سارے عمل میں جانی نقصان نہیں ہوا۔ سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے اور عام لوگ بھی ایسے لوگ جن کے جائز احتجاج کو انتشار پھیلانے والوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔
جب عبادت گاہیں اور عمارتیں جلنے لگیں تو ریاست نے سخت کارروائی کی۔
آخرکار روسی تعاون سے اسٹارلنک نیٹ ورک کو مکمل طور پر جام کر دیا گیا۔
نتیجہ سادہ ہے: یہ کسی ایک شخص کی جسمانی طاقت نہیں تھی، بلکہ ایک حکمتِ عملی، صبر اور منصوبہ بندی تھی جس نے امریکہ کے اندرونی انتشار کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
حیرت انگیز طور پر اس سارے واقعے میں ایران کی کوئی بڑی سیاسی یا فوجی قیادت نشانہ نہیں بنی جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا اسٹریٹیجک دھچکا ہے۔
آج حالات اس نہج پر ہیں کہ امریکہ ایئرکرافٹ کیریئر منگوا رہا ہے، روس اور چین واضح اشارے دے چکے ہیں، اور خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
یہ کسی جیمز بانڈ فلم کا سین نہیں یہ حقیقت ہے، اور حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
چین کے اعلیٰ فوجی جرنیلوں کو تقریباً مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے۔
1. CMC وائس چیئرمین 1: امریکہ کو جوہری راز افشا کرنے کا الزام (آج)
2. CMC وائس چیئرمین 2: اکتوبر 2025 میں بدعنوانی پر ہٹایا گیا۔
3. قومی وزیر دفاع: 2023 میں بدعنوانی کے الزام میں ہٹایا گیا۔
4. چیف آف دی سی ایم سی جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ: خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے تحت
5. CMC پولیٹیکل ورک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر: 2025 میں بدعنوانی پر ہٹا دیا گیا۔
امریکہ اور چین کی دشمنی تجارت سے آگے بڑھ چکی ہے۔
🚨 واحد ویکسین کینسر کی عالمی صنعت کو اپنے مرکز تک ہلا سکتی ہے۔
چین روس کی اہم کینسر ویکسین کو منظور کرنے کی تیاری کر رہا ہے، یہ ایک ایسی ترقی ہے جو 2.6 ٹریلین ڈالر کی مغربی آنکولوجی مارکیٹ میں خلل ڈال سکتی ہے۔ یہ ویکسین، کینسر کے خلیوں پر حملہ کرنے کے لیے مدافعتی نظام کو نشانہ بنانے اور تربیت دینے کے لیے بنائی گئی ہے، روایتی علاج جیسے کیموتھراپی اور تابکاری سے ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر وسیع پیمانے پر اپنایا جائے تو یہ دنیا بھر میں کینسر کی روک تھام اور علاج کے طریقہ کار کو تبدیل کر سکتا ہے۔
روایتی علاج کے برعکس جو اکثر صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور شدید ضمنی اثرات کے ساتھ آتے ہیں، یہ ویکسین جسم کے قدرتی دفاع کو بڑھا کر کام کرتی ہے۔ ابتدائی آزمائشوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ٹیومر کی نشوونما کو سست کر سکتا ہے، دوبارہ ہونے سے روک سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر بقا کی شرح کو بہتر بنا سکتا ہے، جو لاکھوں مریضوں کو امید فراہم کرتا ہے جن کے پاس علاج کے محدود اختیارات ہیں۔
معاشی مضمرات بڑے پیمانے پر ہیں۔ مغربی فارماسیوٹیکل کمپنیاں طویل عرصے سے کینسر کی دیکھ بھال پر غلبہ رکھتی ہیں اور علاج کے ذریعے سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ روس کی طرف سے ایک محفوظ اور موثر ویکسین، جس کی توثیق اور چین کی طرف سے تقسیم کی گئی ہے، اس غلبے کو چیلنج کر سکتی ہے، جو عالمی سطح پر قابل رسائی، کم لاگت کینسر کی دیکھ بھال کو دستیاب کر سکتی ہے اور صنعت کے توازن کو بدل سکتی ہے۔
معاشیات سے ہٹ کر، یہ منظوری طب میں ایک نئے دور کو اجاگر کرتی ہے جہاں روک تھام اور مدافعتی نظام کو بااختیار بنانا مرکز کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق، اختراعات، اور صحت کی دیکھ بھال کے حل میں بڑھتے ہوئے عالمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے، ممکنہ طور پر کینسر کی اموات کو کم کرتا ہے جبکہ علاج کو تیز تر، محفوظ اور زیادہ سستی بناتا ہے۔
یہ تاریخی قدم ایک یاد دہانی ہے کہ طبی پیش رفت صنعتوں کو نئی شکل دے سکتی ہے اور بیک وقت زندگیاں بچا سکتی ہے۔ جیسا کہ دنیا دیکھ رہی ہے، کینسر کے علاج کا ایک نیا باب ابھر رہا ہے- ایک جہاں سائنس، رسائی، اور امید آخرکار پوری دنیا کے لاکھوں لوگوں کے لیے صف بندی کر سکتی ہے۔
🌍 ٹیکنالوجی نے پرانی صنعتیں کیسے ختم کیں اور بٹ کوائن کیا بدل دے گا؟
1۔ 1999 — گوگل نے یاہو سرچ کو ختم کیا
2۔ 2007 — آئی فون نے نوکیا کو ختم کیا
3۔ 2008 — فیس بک نے مائی اسپیس کو ختم کیا
4۔ 2010 — اسٹریمنگ نے سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کو ختم کیا
5۔ 2012 — نیٹ فلکس نے بلاک بسٹر کو ختم کیا
6۔ 2014 — اوبر نے ٹیکسی مونوپولیز کو ختم کیا
7۔ 2016 — انسٹاگرام نے پوائنٹ اینڈ شوٹ کیمروں کو ختم کیا
8۔ 2020 — زوم نے صرف آفس ورک کو ختم کیا
9۔ 2026 — میکرو ہارڈ (Macrohard) مائیکروسافٹ کو ختم کرے گا
10۔ مستقبل — بٹ کوائن شاید روایتی بینکنگ اور فیاٹ کرنسی کو ختم کرے گا
نوٹ
تکنیکی انقلاب اکثر پرانی صنعتوں کو بدل یا ختم کر دیتا ہے، اور بٹ کوائن کا ہدف مالیاتی نظام میں بنیادی تبدیلی ہے
ماخذ
تاریخی اور جدید ٹیکنالوجی تجزیے، مالیاتی رپورٹس
مختلف سوتروں کے انوسار صرف امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن ہی نہیں بلکہ دو بحری بیڑے ایران کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہے
ایران نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ اگر تم نے کوئی چوول ماری تو سیدھا ہائپر سونک میزائل داغا جائے گا
اس کے علاؤہ امریکہ نے ایران پر شدید پابندیاں عائد کر دی ہیں تاکہ ایران کی معیشت خراب ہو اور حملے کا کوئی مضبوط جواز پیدا ہو
اس بھری دنیا میں صرف ایک مسلمان ملک ہے جس نے امریکہ برطانیہ اور اسرائیل کے اس کے خلاف مسلسل فضائی حملوں کے باوجود فلسطینی مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ یمن۔
اب یمن نے اعلان کیا ہے اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یمن امریکی اور اسرائیلی جہازوں پر Red Sea میں حملے کرے گا۔ انہے ڈبوئے گا۔
ساؤتھ افریقہ کے سابق کپتان گرائم اسمتھ نے آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سنادی
آئی سی سی کی جانب سے یکطرفہ فیصلےپر بہت مایوسی ہوئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو سیکورٹی مسائل تھے یہ بات آئی سی سی والے بھی جانتے تھے اگر آسٹریلیا انگلینڈ کی ٹیم کی جانب سے بھارت میں سیکورٹی کی وجہ سے کھیلنے سے انکار کیا جائے تو کیا آئی سی سی اُن کو ورلڈکپ سے باہر کرسکتاہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آئی سی سی کا دوہرا معیار دیرپا نہیں چل سکتا ہیں اگر آئی سی سی نے اپنا کردار نہیں بدلا تو لگ رہا ہے کہ آئی سی سی میں بلاک بنے گا اور دنیائے کرکٹ دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی
پاکستان کے محسن کرنل قذافی کو قتل کرنے سے پہلے لوہے کے راڈ سے ریپ کیا گیا تھا۔ اس کی انتڑیاں نکالی گئی تھیں۔
آپ کو مین اسٹریم میڈیا نے بتایا تھا کہ یہ لبیا کے نوجوان انقلابی ہیں۔ جو قذافی سے بدلہ لے ریے ہیں؟
بدلہ؟ کس چیز کا بدلہ؟ جس لیڈر نے لبیا کو ایک مکمل فلاحی ریاست بنایا تھا۔ تعلیم صحت بجلی گیس فری دی تھی اس سے بدلہ؟ جو شادی شدہ جوڑوں کو نئے گھر بنا کر دیتا تھا اس سے بدلہ؟
یہ بدلہ نہيں تھا۔ ریپسٹس فرانس کے تربیت یافتہ سپیشل ایجنٹس تھے۔ ان کے ساتھ فیلڈمارشل خلیفہ بلقاسم حفتر (وہی جس سے کل پاکستانی وفد ملا ہے) کے باغی فوجی تھے، ال قاعدہ کے دہشتگرد تھے جنہوں نے قذافی کو مارنے سے پہلے لوہے کے راڈ سے اس کی انتڑیاں نکالی تھیں۔ یہی وہی فرانس ہے جو دنیا کو انسانی حقوق اور جمہوریت پر لیکچر دیتا ہے۔ یہ وہی فرانس ہے جو اب ابراہیم تھرورے کو مارنے کے لئے ایجنٹس بیجھت رہا ہے۔
بیس اکتوبر 2011 کو قذافی کے قتل کے بعد اب تک لبیا میں خانہ جنگی جاری یے۔ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ جس ملک میں عرب مزدوری کرنے آتے تھے اس ملک کے لوگ اب ہمسایہ ملکوں میں بیھک مانگنے جاتے ہیں۔اکانومی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ فوجیوں اور دہشتگردوں کی لڑائی میں عام لوگ مارے جا رہے ہیں۔
یہ سب کچھ شاید نہ ہوتا اگر قذافی کا لندن اسکول آف اکنامکس کا پڑھا لکھا بیٹا سیف الاسلام مغرب کے ساتھ مفاہمت کے لئے مذاکرات شروع نہ کرتا۔ ان کے دھوکے میں نہ آتا۔ نیوکلیئر پروگرام ترک نہ کرتا۔ فرانس، برطانیہ اور امریکہ کو لیبیا میں entrance نہ دیتا۔ آج سیف الاسلام کو اپنی غلطی کا ادراک ہے لیکن وہ پچھتاوے کے سوا کچھ نہيں کرسکتا۔
یہ جو آپکو بھائی نظر آ رہا ہے، یہ بنگلہ دیشی ہے اور اسے پردیس میں آئے ہوئے 30 سال ہو چکے ہیں۔ عمر تقریباً 53 سال ہے۔
میں نے پوچھا: آپ اتنے کمزور کیوں ہو گئے ہیں اور اب وطن کیوں نہیں لوٹ جاتے؟ یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے 😔 میں نے گلے لگا کر حوصلہ دیا، وہ روتے ہوئے بولا:
میرے بھائی نےعرب میں میری بیٹی کے شوہر کو
8000 عرب ریال(تقریباً 6 لاکھ روپے) لے کر وزٹ ویزے
پر بلوا دیا۔ وہ عرب میں کام کرتے ہوئے پکڑا گیا اور پیسے واپس نہ کرنے پر بیٹی کو چھوڑنے کی دھمکی دی، تو میں نے اپنی جیب سے پوری رقم واپس کی 💔
میں نے پردیس میں اپنی پوری عمر کی کمائی سے ایک بہت اچھا گھر بنایا تھا، جس میں LCD، TV, AC, فریج اور دیگر تمام فرنیچر موجود تھا۔ بدقسمتی سے بجلی کی لائن کے حادثے سے پورا گھر جل گیا 🔥 میرا سب کچھ راکھ ہو گیا 😢
پردیس میں رہتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں، رشتہ داروں کی دل کھول کر مدد کی، مگر جب میرا گھر جلا تو کسی نے بھی ساتھ نہیں دیا۔
میرا ایک بیٹا ہے، مگر وہ بھی دل لگا کر کام نہیں کرتا۔
اس نے کہا: میری یہ حالت عمر کی وجہ سے نہیں، بلکہ دکھ، دھوکوں اور اپنوں کی بے حسی کی وجہ سے ہے 💔
اس نے اور بھی بہت سی باتیں بتائیں، مگر وہ سب یہاں بیان کرنا مناسب نہیں۔ بس آپ خود سوچ لیں کہ اس بھائی کے دل میں کتنا درد ہوگا 😔
جو انسان خاندان سے دور رہ کر حلال رزق کماتا ہے اور ایک ہی لمحے میں سب کچھ کھو دے… وہ جیتے جی مر جاتا ہے 💔
ایسے لوگوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے:
اے اللہ! اس بھائی کے سارے دکھ ختم فرما، اس کی زندگی میں سکون، عزت اور آسانی عطا فرما 🤲 آمین
اللہ رحم کرے سب پردیسیوں مظلوموں پر
آمین
ف ب
کل میں یہ سوچ رہا تھا کہ سعودی عرب 2 ارب سعودی ریال مالیت کے پاکستانی طیارے کیوں خرید رہا ہے، جبکہ اس کے پاس پہلے ہی ایف-35 جیسے جدید طیارے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کی سب سے طاقتور فضائیہ بھی۔
آج رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق: سعودی عرب نے پاکستانی طیاروں پر مشتمل ایک مکمل جنگی بیڑا سوڈانی فوج کو تحفے میں دے دیا ہے۔
سعودی عرب نے عملاً سوڈانی فوج کو اتنی عسکری صلاحیت فراہم کر دی ہے کہ وہ جنجاوید ملیشیاؤں کا فیصلہ کن مقابلہ کر سکے۔ واضح ہے کہ مملکت کا ہدف یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی بے قابو عناصر موجود ہوں، ان پر کنٹرول قائم کیا جائے۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا—حقیقت کے سامنے اس کا طاقت کا بیانیہ بکھر کر رہ گیا۔ چند ماہ قبل ہی اماراتی حکام اپنی “طاقت” اور “دانشمندی” کے دعوے کر رہے تھے، مگر ان کا اثر و رسوخ کمزور ثابت ہوا۔
سعودی عرب طاقت اور حکمتِ عملی میں بدستور عظیم ہے، جبکہ یو اے ای اپنی ظاہر کردہ حیثیت سے کہیں زیادہ چھوٹا اور کمزور ہے۔
آخرکار، صرف حق ہی غالب آتا ہے۔
The Middle East.....
عاشر عظیم ، کرسچن کمیونٹی کا ایک فرد تھا، پی ٹی وی کے مشہور ڈرامہ سیریل دھواں میں مرکزی کردار ادا کیا! CSS کرکے کسٹمز میں افسر بنا، رشوت ستانی کا بازار گرم تھا، کسٹمز کے بڑوں کو مشورہ دیا کہ رشوت ختم کریں، چیئرمین نے عاشر کو نظام تیار کرنے کا حکم دیا، عاشر دن رات ایک کر کے ایسا نظام بنانے میں کامیاب ہوا جس سے رشوت کے راستے بند ہو سکتے تھے! محکمہ کے افسران عاشر کے دشمن بن گئے، نیب کے ذریعے عاشر کو گرفتارکر لیا گیا، ان پر ناجائز کمائی کا الزام لگا اور حساب لیا جاتا رہا، پھر جیل سے رہا ہو گیا۔ عاشر بضد تھا کہ اپنی بیگناہی ثابت کروں گا اور بحال ہو کر دم لوں گا، بااثر افسران کا خیال تھا کہ رہائی کے بعد یہ بھی ملک سے بھاگ جائے گا جب ایسا نہ ہوا تو اس پر غداری کے مقدمات اور دشمن ملک کی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے کے الزامات لگا دیئے گئے اور پھر گرفتار کر لیا گیا، اس کیس میں سے بھی کچھ نہ نکلا اور وہ رہا ہو گیا۔ اس نے قرض لے کر ایک فلم مالک بنائی جس میں پاکستان کی اشرافیہ کو للکارا، اس فلم کی نمائش نہ ھونے دی گئی اور عاشر کا سرمایہ ڈوب گیا، آخرکار وہ دن بھی آگیا جب عاشر پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے اور وہ کئی برسوں بعد اپنے عہدے پر بحال ہوا۔ عاشر خودکو بیگناہ ثابت کرنا چاہتا تھا وہ کامیاب ہو گیا لیکن بقول عاشر مزید ہمت نہیں تھی، بحالی کے چار دن بعد اپنے عہدے سے استعفی دیا اور خاندان سمیت کینیڈا منتقل ہو گیا۔ پاکستان کا یہ عظیم فرزند اور ذہین دماغ کینیڈا میں ٹرک چلا کر اپنی فیملی کی کفالت کرنے اور مالک فلم بنانے کے لیے لیا گیا قرض اتارنے میں مصروف ہے۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ
🚨 "Saudi Arabia is seeking to remove Muhammad Bin Zayd from the power and is also plotting break up of UAE by pulling Abu Dhabi and other states out of the UAE federation."
- UAE media
ہمارے گھر صبح صبح ایک بندہ آیا تھا۔ اس نے کہا کہ: 'مجھے آپ کے کسی خیر خواہ نے بھیجا ہے کہ آپ کسی کو انٹرویو نہ دیں، کسی سے بات نہ کریں، جو راز آپ کو پتا ہیں وہ آپ نہ نکالیں! ورنہ ہم آپ کو کچھ بھی کر سکتے ہیں، آپ سے کچھ بھی برآمد کرا سکتے ہیں، کسی بھی مقدمے میں اندر کر دیں گے'۔ — ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی والدہ طاہرہ علی کو دھمکی