Two time I call 130 #moterway#helpline and register complaint against Geo Madina Bus service of Abbottabad To Karachi 3 hours passed but not responding
@NHMPofficial
“جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ عاشوراء کے بعد ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے- لیکن پنجاب اسمبلی میں احتجاج کرنے والے ہمارے 26 اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا گیا- احمد بھچر اور تحریک انصاف کے ایم پی ایز شاباش کے مستحق ہیں جنہوں نے فرعونوں کو چیلنج کیا- جب تک ہمارے 26 ارکان بحال نہیں ہوتے ہمارے اراکین اپنی اسمبلی باہر لگا لیں- فارم 47 کی دو نمبر اسمبلیاں ویسے بھی عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہیں- “
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
Happy birthday to the leader Pakistan had been waiting for. Today your people, the people of Pakistan have prevailed despite facing brutality and oppression for two years. You haven't given up and nor will we.
#HappyBirthdayImranKhan
سابق وزیراعظم عمران خان کا عوام کے نام پیغام
تمام تر فسطائیت اور حکومتی جبر، رکاوٹوں کے باوجود خوف کی زنجیریں توڑ کر باہر نکلنے پر میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آج (4 اکتوبر بروز جمعتہ المبارک) آپ سب پرامن احتجاج کیلئے ڈی چوک اسلام آباد پہنچیں اور لاہور اور اس کے گردو نواح کے اضلاع کے شہری 5 اکتوبر، بروز ہفتہ مینار پاکستان پر احتجاج کی تیاری کریں۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں ہے اللہ کے فضل سے ہم اپنی حقیقی آزادی کی لڑائی جیت رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض ظالم ہمیں خوف زدہ کر کے ہماری جیت کو شکست میں بدلنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ بے خوف ہو کر نکلیں اور یاد رکھیں کہ اگر اب بھی آپ نے آگے بڑھ کر خود کو حقیقی طور پر آزاد کروانے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو یہ ظالم آپ کو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی اپنا غلام بنا لیں گے جن پر ان کی اولادیں حکومت کریں گی۔
سپریم کورٹ میں ڈرامہ چل رہا ہے اور میں نے تاریخ میں اتنا بےشرم چیف جسٹس نہیں دیکھا جو اپنی ذاتی ایکسٹنشن (اپنی نوکری کی مدت میں توسیع) کی خاطر ہر وہ فیصلہ دے رہا ہے جس کی قانون اور آئین اجازت نہیں دیتے۔ قاضی “ایکسٹینشن گینگ آف تھری” کا حصہ ہوتے ہوئے پاکستانی قوم کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان کو ایکسٹینشن مافیا اور پی ڈی ایم کا غلام بنا رہا ہے۔ کسی بھی ملک میں عوام کے حقوق کا دفاع عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چیف جسٹس خود ہی عوام کے حقوق کا خون کر رہا ہے۔ دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جج عدالت میں بیٹھ کر اپنی ملازمت بچانے کیلئے آئین و قانون کو روند کر اپنے ہی حق میں فیصلے کرتا رہے۔ یہ کانفلیکٹ آف انٹرسٹ (مفادات کے تصادم) کی بدترین مثال ہے۔ اس نے جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ججز اخلاقی برتری کی بنیاد پر عدالتوں میں بیٹھتے اور فیصلے کرتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں بطور چیف جسٹس عوام کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ نے عوام کے حقوق پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالاہے۔
جنرل جیلانی کی گود میں پلنے والے نے چپ کا روزہ توڑا ہے اور پاکستان کے باشعور عوام کو بھیڑ بکریاں قرار دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہمیشہ اقتدار میں آنے والے کی نظر میں جمہوریت کا مطلب ہمیشہ بوٹ کو عزت دینا ہی ہوتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ باشعور عوام اور ان کے ووٹ کا تقدس کیا ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ تم 2 مرتبہ ڈیل کر کے بیرون ملک بھاگے اور جیل گئےت و وہاں رو رو کر تم نےجیل کے سارے ٹشو پیپرز ہی ختم کر ڈالے۔ عوام یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے جیسی جیل میں تو تم نے ایک دن بھی نہیں گزارا۔ یا تو بیماری کا بہانہ بنا کر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے رہے یا فائیو سٹار سہولیات کے ساتھ کسی سرکاری مہمان خانے میں بیٹھ کر معافیاں اور این آر او کی بھیک مانگتے رہے۔ اب عوام باشعور ہوچکے ہیں اور تمہارا اصلی چہرہ ان پر بےنقاب چکا ہے۔
لندن پلان کے مطابق اس لیکشن میں تمھاری جماعت نے 20 سیٹیں تک نہیں جیتیں جبکہ لندن پلان کے مطابق تمہیں کپتان ہونا تھا لیکن تھرڈ ایمپائر تمہیں Deceive (دھوکہ دے کر) کر کے خود ہی کپتان بن گیا اور تمہیں بارہواں کھلاڑی بنا دیا۔
میں وفاقی حکومت کی جانب سے اپنے غلام آئی جی خیبر پختونخواہ کے ذریعے صوبائی حکومت کی مرضی اور اجازت کے بغیر امن جرگے پر حملے اور پرتشدد کاروائی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں۔ آئی جی کے ذریعے وفاقی حکومت کا یہ اقدام صوبائی امور میں کھلی مداخلت اور صوبائی خود مختاری پر کھلا حملہ ہے۔
1/2
یہ چار کروڑ لوگوں کا منتخب نمائیندہ ہے اور اسکے منہ پر شیل مار رہا ہے کون آمریت کا پیشاب جسے کسی ایک انسان نے بھی ووٹ نہیں دیا چنتخب محسن نقوی ایسے چلاو گے تم پاکستان غدار قابضو
یہ ویڈیو محفوظ کریں کیونکہ ڈی چوک میں عالیہ حمزہ کارکنوں سے کہہ رہی ہیں،گاڑی نہیں توڑنی۔
لہٰذا آگر کوئی ایسے واقعات ہوے تو ان کے ذمہ دار پی ٹی آئی نہیں ہوگی