Postdoc | PhD in Applied Math | CFD & Wave Scattering | Aerodynamic Noise Reduction | Passionate Math Educator | Pakistan a Hard Country | Lifelong Learner
لوگ کہتے ہیں کہ تھا اُن ﷺ کا زمانہ بہتر
کاش ہم بھی اُسی عرصے میں اٹھائے جاتے
میں یہ کہتا ہُوں، نہیں اُنﷺ کی نظر سے اوجھل
سارے لمحات جو گَردُوں کی ڈگر سے گزرے
اُن ﷺ کے قدمین کی ٹھوکر ہے ثریا کی لکیر
منتظر اُنﷺ کے اشارے کا ہی رضوان رہے
#حرفِ_راشد
3 نومبر 2025
ذاتی مصروفیت کے باعث غیر معینہ درانیے کے لئے logoff کر رہا ہوں۔
اسی دوران
#حرفِ_راشد کے عنوان تلے آپ کو میری سینکڑوں تحاریر و اشعار پڑھنے کو مل جائیں گے جو میری ذات کی اکتا دینے والی یکسانیت کے برعکس ، کہیں زیادہ عمیق و دلفریب ہیں۔
سو میں آپ احباب کو خود سے بہتر صحبت میں سونپ کے جارہا ہوں۔
مکمن میرا نہ ہونا ، ہونے سے بہتر نتائج کا باعث بنے۔
“ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے”
سلامت رہیے 🌺۔
مناجات
تُو میرا آسرا ہے یا خدایا
کہ لب پر مدعا ہے یا خدایا
دو عالم کی مجھے حسنات دے دے
نبی ﷺ کا واسطہ ہے یا خدایا
مرے اجداد کو بخشش عطا کر
مری اولاد کو عشق آشنا کر
قیامت تک کی میری ہر نسل کو
غلامِ بادشاہِ انبیا ﷺ کر
نظر کی دھار کو تلوار کردے
مرے گِرداب کو پتوار کردے
تُو ہر پل جاگتا ہے میرے مالک
مقدر اُونگھتا بیدار کردے
مرے دل کو محبت کا دِیا کر
مری آلودگی ، صدق و صفا کر
مرے کُنبے کو رحمت میں چھپا لے
مرے گھر کو غلامِ مصطفیٰ ﷺ کر
میں عاجز ہُوں، تُو قادر یا خدایا
میں عاصی ہُوں، تُو اکبر یا خدایا
میں تیرے واسطے ہُوں اشک لایا
ان اشکوں کو گُہر کر یا خدایا
ولایت کا مجھے تمغہ عطا کر
شہادت کا مجھے رتبہ عطا کر
تُو چاہے تو گدا کو شاہ کردے
محبت کا مجھے جرعہ عطا کر
نبی ﷺ کے عاشقوں میں کر دے شامِل
انہی ﷺ کی چاہ رکھے مجھ کو بسمل
زمیں سے آسماں کردے خدایا
کہ رشکِ عرش ہو جائے مرا دِل
#حرفِ_راشد
27 اکتوبر 2024
بلندئِ فن و افکار ملاحظہ فرمائیے :
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا؟
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبُوں
حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگُوں
عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوق
نہ مال و دولتِ قاروں، نہ فکرِ افلاطوں
سبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ ﷺ سے مجھے
کہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردُوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوںْ‘
علاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں
#اقبالِ_بےمثال
🚨آپ جھوٹ بولیں گے میں ریکارڈ سے سچ بتاؤں گا۔
سہیل آفریدی نے کل پھر پشتون نسل پرستوں والا چورن بیچتے پاکستان پر ڈالروں کی جنگ کا الزام لگایا ہے یہ امریکہ کا سرکاری ریکارڈ ہے آپ @grok سے چیک کروا لیں امریکہ سے 1946 سے اب تک سب سے ریکارڈ ڈالر لینے والے ممالک میں سب سے ٹاپ پر اسرائیل اور تیسرے نمبر پر افغانستان ہے اور پہلے دس ممالک میں پاکستان شامل نہی ہے انڈیا 8 نمبر پر ہے ان پشتون نسل پرستوں نے تو سویت یونین تک سے کھلا مال آن ریکارڈ پکڑ رکھا ہے ڈالروں کی جنگ میں ڈالرز صرف پشتون افغانوں اور ان کے نسل پرستوں نے کمائے ریکارڈ آپ کے سامنے ہے
میری شادی اپنے سب دوستوں سے پہلے ہوئی۔
وہ سبھی اپنا اپنا کاروبار کرتے تھے اور مجرد تھے اور میں بیوی بچوں والا اور نوکری پیشہ۔
وہ شام کو باہر کھانا کھانے جاتے تو مجھے بھی کبھی ادھر ساتھ لے جاتے کبھی ادھر۔
میں نے ایک دن بھی انکار نہ کیا اور نہ کبھی کچھ کہا۔
پھر ایک ایک کرکے ان کی شادیاں ہوتی گئیں اور وہ
“مصروف”
ہوتے گئے ،
پوچھنے پر کہتے ،
یار! اب ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں وقت نہیں ملتا۔
ایک دن سب اکٹھے ہوئے تو بیک زبان یہی رونا رونے لگے تو میں نے کہا ،
“ کوئی ایک موقع بتاؤ جب میں نے یہ بہانہ بنا کر انکار کیا ہو”
سب نے میرے متعلق اس آگاہی کے لمحے میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، کچھ دیر خاموش ہوکر دل ہی دل میں اس کا وزن محسوس کیا اور ان میں سے ایک نے ا قرار کیا کہ یہ بات درست ہے اور ہمیں کبھی ایک مرتبہ بھی خیال نہیں آیا کہ تمہاری دیگر ذمہ داریاں بھی ہیں۔ 😃
لکھنا بھی ایک طرح کا بار ، فرض اور ذمہ داری ہے،
صبح چھ بجے مجھے اپنے کام پر پہنچنا ہوتا ہے اور اس کی تیاری کے لئے ساڑھے چار بجے جاگنا ہوتا ہے۔
جب سب تیاری کرکے ، چائے کا کپ لے کر بیٹھتا ہوں تو کوئی نہ خیال آ وارد ہوتا ہے
اسے لکھتے اور بُنتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں رہتا اور
“ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں” 😃
کبھی کام کے دوران ، کبھی رات کے کسی پہر تو کبھی دورانِ سفر شعر و نثر آ گھیرتے ہیں کہ ہمیں لکھو۔
لکھنے کا یہی فرض و قرض یہاں باندے ہوئے ہے
پڑھنے والا ایک ہو، دس ہوں یا دس ہزار ، ہم یہیں ہیں۔
یہی ہمارا مصرف ہے سوشل میڈیا پر اور یہی ہمارا مقصد۔
سیاسی و جنگی حالاتِ حاضرہ ، trends, سسپنس اور مصالحے سے پھر پور خبریں ایسے ہی نظر آتی ہیں جیسے گاڑی سے پیچھے بھاگتے نظارے۔ ہمارا لکھنے کا سفر جاری رہتا ہے اور ان شاء اللّٰہ اس وقت تک رہے گا جب تک قادر کو منظور ہے۔
🌺🌹
#حرفِ_راشد