عمران خان نے، اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف سخت بیان بازی کے باوجود پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت کا اشارہ دیا۔
خان کی پارٹی مواقع پیدا کر سکتی ہے کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف اپنی تاریخی دشمنی پر نظر ثانی کرے.
#TheJerusalemPost
https://t.co/NwOunsuh2j
With each day that passes, more lives are lost, and the humanitarian catastrophe worsens in #Gaza if the violence doesn’t stop. Sign our petition to demand a #CeasefireNOW https://t.co/45QpdKtDyG
یہ ویڈیو غور سے دیکھیں! 👁👁
یہ امریکہ میں الومیناٹی اور فری میسن کے cult کے اوپر بنائی گئی سب سے مشہور فلم "Eyes Wide Shut" کے چند کلپس ہیں۔
آپ یہ مناظر دیکھ کر انکو آج قومی اسمبلی کے مناظر کے ساتھ ملائیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا ہم غلط کہتے ہیں کہ یہ ایک cult بن چکے ہیں۔
شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......
اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ،
بقیہ کمنٹس میں
اگر آپ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام نہیں کریں گے تو اس ملک میں انارکی پھیلے گی شاہ محمود
نواز شریف کو جب عدالتی فیصلے کے ذریعے پارٹی صدارت تک سے نکلوا دیا گیا تو VC PTI شاہ محمود اُس وقت عدلیہ کے فیصلوں کے احترام کرنے کی تلقین کرتے
آج پوری تحریک انصاف عدلیہ کیخلاف مہم چلا رہی ہے
کیا تحریک انصاف کے انتخابی نشان کے خلاف فیصلہ آنا چاہئے تھا یا نہیں؟ 🚨🚨
میں یہ پورا مقدمہ آسان الفاظ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ میری کوشش ہوگی کہ نیوٹرل نا ہونے کے باوجود اس فیصلے کو نیوٹرل نظریہ سے ہی پیش کروں۔
تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات کا 2021 میں حکم دیا، چیف الیکشن کمشنر کو بھی تحریک انصاف نے ہی لگایا تھا لیکن تحریک انصاف نے سستی دکھائی، بروقت انتخابات نہیں کروائے اور بعدازاں کرونا کا بہانہ بنا دیا،
پھر دوبارہ 2022 میں حکم ہوا لیکن تحریک انصاف نے دوبارہ سستی دکھائی
پھر 2023 میں جب زبردستی الیکشن کمیشن کے ترلے منت کرنے پر انتخابات کروائے تو ایسے انتخابات ہوئے جن میں نا کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لئے کوئی فارم بنایا اور نا ہی رسمی انتخابات کے لئے کوئی طریقہ ترتیب دیا۔ اس قدر بھونڈے انداز میں معاملہ ہینڈل کیا گیا کہ انتخابات کے لئے اسلام آباد کی بجائے پشاور کے ایک گاوں کو مرکز بنایا اور بلامقابلہ اپنی مکمل تنظیم کھڑی کردی۔
دیکھا جائے تو یہ سارا معاملہ ہی غلط ہے لیکن تحریک انصاف کا بھی اس پر ایک موقف موجود ہے!
سب سے زیادہ بڑی دلیل جو وہ اپنے دفاع میں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ باقی پارٹیوں میں بھی تو انٹراپارٹی انتخابات ایسے ہی ہوتے ہیں۔
جی ہاں، یہ بھی سچ یے لیکن ایک بنیادی فرق ہے۔ وہاں بیشک انتخابات کے نتائج طے ہوں لیکن رسمی طور پر ہی کم از کم مخالف امیدوار کو انتخابات لڑنے کا موقع دیا جاتا ہے، کاغذات نامزدگی دئے جاتے ہیں اور پارٹی انکے الیکشن لڑنے کے حق کو صلب نہیں کرتی۔
یہ بالکل حقیقت اپنی جگہ موجود یے کہ دیگر جماعتوں میں بھی چئیرمین یا بانی ہی سب کچھ طے کرتا ہے لیکن پھر یہ فرق کم از کم ضرور موجود ہے کہ رسمی طور پر ہی سہی لیکن وہاں انتخابات ہوتے ہیں۔
دوسرا موقف یہ ہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے رکن نہیں اور اس معاملے پر پارٹی ٹویٹ کرچکی ہے۔
رکن ہونا اور بانی ممبر ہونا بالکل مختلف ہے، عدالت نے 2017 میں تسلیم کیا کہ تحریک انصاف اکبر ایس بابر کو ناراضگی کے باوجود پارٹی کا رکن تصور کیا جائے گا۔ صرف اکبر ایس بابر ہی نہیں 13 مزید لوگ بھی انٹرا پارٹی الیکشن میں کھڑے ہونا چاہتے تھے جن کو موقع نہیں ملا۔
اب ایک نقطہ یہ بھی آ سکتا یے کہ یہ 14 کے 14 لوگ پلانٹ کئے گئے تھے؟
میرے نزدیک یہ بالکل جائز ہے لیکن پھر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر ایسے لوگ پلانٹ ہونے تھے تب بھی آپ کم از کم انکو انتخابات لڑنے کا اختیار تو دیتے۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ آپ انکو کاغذات نامزدگی ہی نا دیں؟
لیکن پھر دیکھیں کہ پاکستان کی بڑی جماعت کو انتخابی نشان سے بالکل علیحدہ کردیا گیا ہے؟ یہ غلط نہیں۔
بالکل، کوئی بھی اسکی حمایت نہیں کرنا چاہتا لیکن فرض کیا کہ عدالت تحریک انصاف کو ریلیف دے دیتی تو کیا نتیجہ نکلنا تھا؟
1۔ پاکستان میں یہ فیصلہ مستقبل میں بھی استعمال ہونا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت بغیر کسی فرد کی نامزدگی کے انٹراپارٹی الیکشن کروا سکتی ہے۔
2۔ کوئی بھی سیاسی جماعت کتنے ہی فراڈ انٹرا پارٹی الیکشن کیوں نا کروائے، کوئی اس پر سوال نہیں کرسکتا
3۔ سیاسی جماعت میں فرد واحد اپنے کارکنوں کا کھل کر استحصال کرسکتا ہے اور تمام کارکن مل کر بھی اسکو چیلنج نہیں کرسکتے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایک وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک مثال ہوتا ہے۔ کیا ہمیں ملک کے لئے ایسی مثال قائم کرنی چاہئے؟
اسلئے جہاں مجھے اختلاف کے باوجود کچھ افسوس ہے کہ ہم تحریک انصاف سے آمنے سامنے مقابلہ نہیں کرسکیں گے
وہاں مجھے یہ احساس بھی ہے کہ مستقبل میں ہر سیاسی جماعت کے screw tight ہونگے اور انٹرا پارٹی الیکشن اب خوف کے تحت ہر سیاسی جماعت مکمل توجہ کے ساتھ قانون پر عمل کرتے ہوئے کروائے گی۔ اس سے پاکستان میں جمہوریت کا عمل مضبوط ہوگا۔
جب میں فائدے اور نقصانات دیکھتا ہوں تو مجھے کم از کم سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بالکل جائز لگتا ہے اور یہ فیصلہ آنا بہت ضروری تھا اگر ہم نے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے۔
شکریہ
@RShahzaddk ابھی تو یہ شغل دیکھیں۔۔۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ وہ لیٹر کہاں ہے جسمیں عمران خان نے گوہر علی کو چیئرمین نومینیٹ کیا۔۔؟
بیرسٹر علی ظفر کا جواب تھا کہ لیٹر نہیں ہے صرف نیوز میں آیا تھا۔۔۔
😄😁😆
پاکستانی عوام کے جذبات ساتھ @TheRealPCB کھیل رہا ہے کچھ دن پہلے کرکٹ ورلڈکپ انڈیا سے قومی کھلاڑیوں کے حوالے سے فلسطین کے حق میں کی گئی پوسٹیں ڈیلیٹ کرنے کیلئے دباؤ کی خبریں آئیں لیکن آج والی اس حرکت نے پاکستانی حکام کی فلسطین کیخلاف نفرت کو واضح کردیا ہے
shame on you PCB
Shame on you Imran Khan
تم نے اس یہودی کی لندن میں ایک مسلمان مئیر کی مخالفت میں کمپین چلائی تھی جو آج فلسطین کے حق میں مظاہرین بارے پوسٹ کررہا ہے کہ آخر انکو کب تک برداشت کرنا پڑے گا ہمیں
یاد رہے یہ شخص قاسم ٹیریان اور سلمان کا سگا ماموں ہے
@B0oTaOfficial جعلی پروفائل دا اک ای مطلب ہوندا اے کہ ایدے ابے دے ناں دا کسے نوں نئیں پتا۔
تیرے جئے کتورے جگہ جگہ بھونکدے ای پھردے نیں۔
ویسے وی بندہ حلال دا ہووے تے ٹیریان توں بشری، عائلہ توں کتی تک دا دفاع کردا پھرے اے ممکن ہی نہیں یعنی تینوں بوٹا حرامدہ لکھیا بولیا تے پکار یا جائے۔
سینیٹر ولید اقبال کی اپنی والدہ خود اپنے بیٹے کے کئیے گئے اعمال سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے اُلٹا اپنے بیٹے کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے ایک سیاسی جماعت کے سپورٹر آج کے #IqbalDay کو بھی سیاست کی نظر کرتے ہوئے سیاست کررہے ہیں۔
Dear @cz_binance , are you siding in a war ?
Why is Binance blocking accounts which were used to give donations for education /children ?
Why only requests from the Israel government are being entertained and not Palestine ?
Don't take sides during an on going conflict , act like a responsible business please ... Suspending accounts on requests of one nation for the other as they have an active conflict makes no sense at all , everyone is the hero in their own opinion and on a just fight
This is sickening ....
#israel #Palestine
@binance@BinancePk@BinanceHelpDesk@Bitcoinhabebe